بلڈپریشرکے مرض میں لہسن کا استعمال فائدہ مند قرار

ماہرین صحت نے بلڈپریشر کے مرض میں لہسن کا استعمال فائدہ مند قرار دیدیا۔
لہسن ہمارے گھروں میں کھانا پکانے کے لیے استعمال ہونے والی اشیا میں سے ایک بنیادی جز ہے۔ لہسن غذائی افادیت کے ساتھ ساتھ بہترین طبی خصوصیات کی حامل غذا ہے۔
لہسن کا استعمال قدیم دور سے غذا کے ساتھ ساتھ بطور دوا بھی دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں بھی کیا جاتا رہا ہے۔
یہ وٹامن بی 6 ۔ وٹامن سی، ميگنیز سلینیم اور فائبر سے بھر پور ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ اس میں دیگر معدنیات اور پروٹین بھی موجود ہوتی ہے جو کہ اس کے طبی فوائد کو مزید بڑھا دیتے ہیں۔
ماہرین کی تحقیق کے مطابق لہسن براہ راست نزلہ زکام کی بیماری کے علاج کے لیے بطور دوا کوئی خاص اثر نہیں رکھتا ہے مگر اس کا استعمال انسان کی قوت مدافعت کو بہتر بنا دیتا ہے جس کے سبب یہ نزلہ زکام کے دوران میں کمی میں ضرور معاون ثابت ہوسکتا ہے، یعنی اگر نزلہ زکام کی تکلیف عام طور پر کسی مریض کو پانچ دن تک اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے تو لہسن کے استعمال کے سبب یہ دورانیہ کم ہو کر ڈیڑھ دن تک محدود ہوسکتا ہے۔ہائی بلڈپریشر کو خاموش قاتل بھی کہا جاتا ہے جس کے سبب مریض کے دل کے دورے کے سبب ہلاک ہونے کے امکانات بہت بڑھ سکتے ہیں مگر ماہرین کا یہ ماننا ہے کہ دن میں دو سے چار تری لہسن کے کھانے سے بلڈپریشر میں اتنی ہی کمی واقع ہو سکتی ہے جتنی کہ ایک بلڈ پریشر کی گولی کرسکتی ہے لہٰذا بلڈپریشر کی دوا کے ساتھ ساتھ اگر لہسن کا استعمال بھی کیا جائے تو یہ بلڈپریشر کو کنٹرول کرنے میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔
