بلے باز عمر اکمل کے مستقبل کا فیصلہ 27اپریل کو ہو گا

پاکستان کرکٹ بورڈ کے اینٹی کرپشن کوڈ کی خلاف ورزی کے مرتکب مڈل آرڈر بلے باز عمر اکمل کے مستقبل اور قسمت کا فیصلہ کرنے کے لیے کیس کی سماعت 27اپریل کو ہو گی جس کے لیے نوٹسز جاری کردیے گئے ہیں۔
پاکستان سپر لیگ کے پانچویں سیزن کے آغاز سے قبل معطل کیے گئے عمر اکمل کو بورڈ کے اینٹی کرپشن کوڈ کی 2 مرتبہ خلاف ورزی پر چارج کیا گیا تھا۔عمر اکمل نے اینٹی کرپشن ٹریبونل میں سماعت کے لیے درخواست نہیں کی تھی جس کعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے معاملہ ڈسپلنری کمیٹی کے چیئرمین کے سپرد کردیا تھا۔
‏چیئرمین ڈسپلنری پینل جسٹس ریٹائرڈ فضلِ میراں چوہان نے 27 اپریل کو کیس کی سماعت کے لیے عمر اکمل اور پاکستان کرکٹ بورڈ کو نوٹسز جاری کردیے ہیں۔‏کیس کی سماعت نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور میں ہو گی اور اس دوران تمام احتیاطی تدابیر اور سماجی فاصلوں کو سختی سے یقینی بنایا جائے گا۔عمر اکمل کو پی سی بی کے اینٹی کرپشن کوڈ کے آرٹیکل 4.4. 2 کی دو مرتبہ خلاف ورزی پر نوٹس آف چارج جاری کیا گیا تھا۔‏جب تک ڈسپلنری پینل کے چیئرمین عوامی فیصلے کا اعلان نہیں کر دیتے، اس وقت تک پی سی بی اس معاملے پرمزید تبصرہ نہیں کرے گا۔‏
کسی بھی فرد کی جانب سے کرپشن کی پیشکش کے بارے میں پی سی بی ویجلنس اینڈ سیکورٹی ڈیپارٹمنٹ کو (بغیر کسی غیر ضروری تاخیر سے) آگاہ نہ کرنا ہے۔ان حالات میں اینٹی کرپشن ٹربیونل میں سماعت کی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ اس کی بجائے ڈسپلنری پینل کے چیئرمین نوٹس آف چارج کا جائزہ لینے کے بعد ایک عوامی فیصلہ جاری کریں گے جس میں جرم کی توثیق کی جائے گی۔اس فیصلے کو جاری کرنے سے قبل چیئرمین ڈسپلنری پینل قومی کرکٹ فیڈریشن، متعلقہ فریق، پی سی بی کے ویجلنس اینڈ سیکورٹی ڈیپارٹمنٹ اور آئی سی سی کو تحریری نوٹس جاری کریں گے۔آرٹیکل 6.2 کے تحت آرٹیکل 2.4.4 کی خلاف ورزی کا جرم ثابت ہونے پر 6ماہ سے تاحیات پابندی تک کی سزا دی جا سکتی ہے۔عمر اکمل کو پاکستان سپر لیگ میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی نمائندگی کرنا تھی لیکن معطلی کے سبب ان کی لیگ سمیت ہر طرح کے کرکٹ مقابلوں میں شرکت پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button