بلے باز کے نشان پر الیکشن،تحریک انصاف کے جھوٹ کا پول کھل گیا

تحریک انصاف کے ایک اور جھوٹ کی ہنڈیا بیچ چوراہے پھوٹ گئی۔ پاکستان تحریک انصاف نظریاتی کے سربراہ اختر اقبال ڈارکا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے امیدواروں نے پاکستان تحریک انصاف نظریاتی کی ٹکٹیں کہاں سے لیں۔مجھے نہیں معلوم، ہمارا تحریک انصاف کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں ہوا۔پی ٹی آئی قیادت جھوٹ بول رہی ہے۔

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف اور پی ٹی آئی نظریاتی کے درمیان عام انتخابات میں مل کر حصہ لینے کا معاہدہ منظر عام پر آ گیا ہے۔معاہدے کے مطابق پاکستان تحریک انصاف اور تحریک انصاف نظریاتی نے مل کر انتخابات میں حصہ لینے کا معاہدہ کیا۔ انتخابات میں تاخیری حربوں، پری پول دھاندلی اور موجودہ سیاسی صورتحال کے باعث دونوں جماعتوں نے مل کر چلنے کا فیصلہ کیا۔معاہدے کے مطابق دونو ں جماعتیں بلے کے نشان پر انتخابات میں حصہ لیں گی تاہم بلے کا نشان دستیاب نہ ہونے کی صورت میں بلے باز کے انتخابی نشان پر انتخابات میں حصہ لیا جائے گا۔معاہدے کے مطابق پارلیمانی لیڈر بانی چئیرمین عمران خان کے نامزد کردہ ارکان میں سے منتخب کیا جائے گا جبکہ عمران خان کی ہدایات پر عملدرآمد تمام ارکان پر لازم ہوگا۔معاہدے کےمطابق خواتین اور اقلیتوں کی نشست پر قومی اور پنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف نظریاتی کو حصہ دیا جائے گا جبکہ سینیٹ انتخابات میں بھی ایک سیٹ کا تحریک انصاف نظریاتی کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے۔معاہدے میں تحریک انصاف نظریاتی کے 2 قومی اسمبلی اور 5 صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر امیدواروں کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان میں پی ٹی آئی کو بلے کا نشان ملنے کے معاملے پر پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف الیکشن کمیشن کی اپیل پر سماعت مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا گیا ہے۔سماعت کے دوران ہی پی ٹی آئی نے اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم نے اپنے امیدواروں کو پی ٹی آئی نظریاتی کے ٹکٹس جاری کردیے ہیں اور یہی ہمارا پلان بی ہے۔اس کے بعد چیئرمین پی ٹی آئی نظریاتی اختر اقبال ڈار کا موقف بھی سامنے آ گیا ہے جنہوں نے کہاکہ پاکستان تحریک انصاف کی ٹیم کرپٹ ہے جن سے بات نہیں ہو سکتی۔دوسری جانب الیکشن کمیشن نے آراوز کو حکم دیا ہے کہ کوئی انتخابی نشان کسی دوسری پارٹی کے ارکان کو نہ دیا جائے۔

دوسری جانب پریس کانفرنس کرتے ہوئے  پاکستان تحریک انصاف نظریاتی کے چیئرمین اختر اقبال نے کہا ہے کہ مجھے اس بات کا علم نہیں کہ ہماری جماعت کی ٹکٹیں پی ٹی آئی کے امیدواروں نے کہاں سے اور کیسے حاصل کیں۔

پی ٹی آئی نظریاتی کے چیئرمین اختر اقبال نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ٹکٹ پر واضح طور پر بلے باز کا نشان ہے، پی ٹی آئی کے امیدوار آر اوز کو ہماری جماعت کے ٹکٹ جمع کروا رہے ہیں جو ہم نے جاری نہیں کیے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے 2018 میں جو ٹکٹس جاری کیے وہی جاری کررہے ہیں جبکہ اس حوالے سے الیکشن کمیشن نے حکم جاری کر کے واضح کردیا کہ کسی پارٹی کا رکن اور امیدوار دوسری جماعت کا پلیٹ فارم استعمال نہیں کرسکتا۔اُن کا کہنا تھا کہ 2007 میں پی ٹی آئی این بنانے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ پی ٹی آئی خود دھونس، دھاندلی، غنڈہ گردی اور پیسے کے دعوؤں پر خود عمل نہیں کرسکتی، اس لیے بانی اراکین اور نظریاتی لوگوں کو شامل کر کے علیحدہ جماعت بنائی۔

اختر اقبال کا کہنا تھا کہ ہماری پارٹی کا اپنا منشور اور آئین ہے جبکہ ہماری نعرہ کرپشن کی سزا موت ہے، ہمارے نعرے اور آئین میں ہی پاکستان کی بقا ہے۔پاکستان تحریک انصاف نظریاتی کے چیئرمین نے کہا کہ ہم نے پنجاب کے مختلف علاقوں سمیت ملک بھر سے 150 امیدواروں کو ٹکٹ جاری کیے ہیں، باقی پی ٹی آئی نے جو بھی جاری کیے وہ جعلی ہیں۔

 

 

Back to top button