بندیال نے اکتوبر میں بھی نواز شریف کی واپسی روک دی؟

نیب ترامیم کیس میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی جانب سے ریٹائرمنٹ سے قبل شارٹ اینڈ سویٹ آرڈر جاری کرنے کے فیصلے کے بعد جہاں ایک طرف نواز شریف کی وطن واپسی کا شیڈول ایک بار پھر متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے وہیں ترامیم بارے محفوظ کئے گئے فیصلے نے سیاسی ایوانوں میں بھی ہلچل مچا دی ہے۔ چونکہ سپریم کورٹ کی جانب سے تمام نیب ترامیم کالعدم قرار دئیے جانے کے بعد جہاں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت کے کیسز دوبارہ کھل جائیں گے وہیں پی ٹی آئی قائدین بھی نیب کی زد میں آ جائیں گے۔

روزنامہ امت کی ایک رپورٹ کے مطابق نیب ترامیم کیس کی وجہ سے ایک بار پھر نواز شریف کی واپسی کا شیڈول موخر ہونے کی افواہیں گرم ہیں۔ واضح رہے کہ پچھلے ڈیڑھ دو برس کے دوران متعدد بار نون لیگی قائد کی واپسی کی خبریں چلیں جو درست ثابت نہ ہو سکیں۔ تاہم پچھلے ہفتے پہلی بار پارٹی کے صدر شہباز شریف کی جانب سے باضابطہ اعلان کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ اکتوبر میں نواز شریف کی واپسی ہو جائے گی۔ انہوں نے حتمی تاریخ تو نہیں دی تھی تاہم میڈیا رپوٹس کے مطابق پندرہ اکتوبر کونوازشریف کی پاکستان واپس کاپروگرام طے ہوا۔ چونکہ اس بارنواز شریف کی واپسی کا اعلان خود پارٹی صدر اور ان کے بھائی شہباز شریف نے کیا۔ اس لئے اسے یقینی تصور کیا جارہا تھا۔تاہم لندن میں موجود شریف خاندان کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ فی الحال نوے فیصد اس فیصلے پر عمل درآمد کا امکان ہے۔ یعنی سو فیصد اب بھی یہ نہیں کہا جاسکتا کہ پندرہ اکتوبر تک نواز شریف پاکستان پہنچ جائیں گے۔ اس کا سبب نیب ترامیم کیس کا محفوظ کیا جانے والا فیصلہ ہے۔ ان ذرائع کے بقول اب دیکھنا ہے کہ سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ کیا فیصلہ سناتا ہے۔ آیا وہ نیب قوانین میں کی گئی ستائیس ترامیم میں سے کچھ کو ختم کرتا ہے یا تمام ترامیم کو ہی کالعدم قرار دے دیتا ہے۔ قصہ مختصر فیصلہ سامنے آنے کے بعد ہی نواز شریف کی واپسی کے لئے حتمی تاریخ کا فیصلہ کیا جائے گا۔ تاہم یہ بھی خارج از امکان ہیں کہ بات اکتوبر سے بڑھ کر نومبر کے پہلے ہفتے یا اس اسے بھی آگے چلی جائے اسکا انحصار  سپریم کورٹ کےفیصلے پر ہے۔

ذرائع کے بقول پہلے نواز شریف کی واپسی کے لئے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی ریٹائرمنٹ کا انتظار کیا جارہا تھا جو سولہ ستمبر کو رخصت ہو رہے ہیں۔ اس لحاظ سے نواز شریف کو ستمبر کے اواخر میں وطن واپس آنا تھا۔ لیکن پھر نون لیگی قیادت کو سن گن ملی کہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال ریٹائر منٹ سے پہلے نیب ترامیم کیس کو نمٹانے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔ لیگی قیادت کے خیال میں ان کے قائد سمیت دیگر پارٹی رہنما اس فیصلے کی زد میں آسکتے ہیں۔ چنانچہ طے کیا گیا کہ واپسی کی حتمی تاریخ یا ٹائم ٹیبل ترتیب دینے سے پہلے نیب ترامیم کیس کے فیصلے کا انتظار کیا جائے گا جواب محفوظ کیا جا چکا ہے اور یقینی طور پر سولہ ستمبر سے پہلے سنا دیا جائے گا۔ منگل کے روز سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے نیب ترامیم کیس کا فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”میری ریٹائرمنٹ قریب ہے۔اس سے قبل فیصلہ سناد یا جائے گا“۔

لندن میں موجود ذرائع نے یہ دلچسپ انکشاف بھی کیا کہ حکومت کی مدت پوری ہونے کے فوری بعد شہباز شریف اور اسحاق ڈار کے پاکستان چھوڑ جانے کی ایک وجہ بھی سپریم کورٹ میں زیر سماعت نیب ترامیم کیس کے علاوہ ایک اور کیس بھی تھا۔  ذرائع کے بقول اقتدار کے خاتمے کے بعد شہباز شریف خاص طور پر سپریم کورٹ میں زیر سماعت بعض کیسر کےحوالے سے خود کوغیرمحفوظ تصور کرتے تھے۔ اقتدار کی چھتری ہٹتے ہی موجودہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی موجودگی میں خود کو غیر محفوظ محسوس کرنے والے شہباز شریف اور ان کے بیٹے سلمان شریف نے لندن کے لئے اڑان بھری۔

ادھر نون لیگ کے کارکنان پریشان ہیں کہ ایک ایسے موقع پر جب موجودہ مہنگائی کاسارا ملکہ سبکدوش اتحادی حکومت پر ڈالا جارہا ہے تو اس کا دفاع کرنے کے بجائے سابق وزیر اعظم نے لندن میں ڈیرے ڈال لئے ہیں اور واپسی آنے کا نام نہیں لے رہے۔ کئی پارٹی رہنما بھی اس پر ناراض ہیں کہ عوامی غصے کا سامنا کرنے کے لئے انہیں تنہا چھوڑ دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق لندن میں قیام پذیر نواز شریف کو تو صرف ایک نیب ترامیم کیس کے ممکنہ فیصلے سے خطرے کی بو آرہی ہے۔ شہباز شریف اور اسحاق ڈاردو کیسز سے خوفزدہ تھے۔ اس لئے دونوں نے اقتدار کا خاتمہ ہوتے ہی ملک چھوڑنے کو ترجیح دی۔ ان کا خیال تھا کہ ریٹائر منٹ سے پہلے چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال پنجاب میں چودہ مئی کو الیکشن کرانے کے احکامات کی حکم عدولی پر کوئی ایسا غیر متوقع فیصلہ سنا سکتے ہیں، جس کی زد میں وہ دونوں آجائیں۔ کیونکہ بطور وزیر اعظم اور وزیر خزانہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت چودہ مئی کو صوبے میں الیکشن کرانے کی زیادہ ذمہ داری ان کی بنتی تھی۔ لیکن اس حوالے سے شہباز شریف اور اسحاق ڈار کے خدشات بظاہر بے بنیاد نکلے۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں قائم سپریم کورٹ کے بینچ نے اپنے اس فیصلے کے خلاف الیکشن کمیشن کی نظر ثانی کی درخواست خارج کر دی۔ تاہم اس حوالے سے کوئی تحریری فیصلہ اب تک جاری نہیں کیا ہے اور نہ ہی کوئی ایسا عندیہ دیا ہے کہ وہ فیصلے پر عملدرآمد نہ کرنے والوں کے خلاف کوئی ایکشن لیں گے۔

واضح رہے کہ نیب قوانین میں کی گئی ستائیں ترامیم میں سے ایک یہ بھی ہے کہ پچاس کروڑ روپے کی کرپشن سے نیچے کا کیس نیب مں نہیں جائے گا۔ اگر یہ ترمیم سپریم کورٹ ختم کر دیتی ہے تو شہباز شریف کے ایسے تین سے چار کیسز دوبارہ نیب میں آجائیں گے۔ جو پچاس کروڑ روپے سے کم مالیت کے معاملے کی وجہ سے نیب کے دائرہ کار سے نکل گئے تھے۔ ان میں رمضان شوگر مل کیس، چودہ سو کنال سرکاری اراضی کی غیر قانونی الاٹمنٹ سے متعلق کیس اور اختیارات کے ناجائز استعمال سے متعلق ایک کیس شامل ہے، جبکہ وزیر اعظم کے طیارے کے غیر قانونی استعمال سے متعلق انکوائری بھی ان کے خلاف نیب میں کھل سکتی ہے ۔ اسی طرح زیڈ ٹی بی ایل کے سی ای او کی غیر قانوئی تقریری کے حوالے سے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف تحقیقات نیب کے دائرہ اختیار میں آجائیں گی۔ یہ ہی نہیں کہ نیب ترامیم کے خلاف ممکنہ فیصلہ آجانے کے خوف سے صرف نون لیگ پریشان ہے پیپلز پارٹی میں اس سے بڑھ کر ہلچل پائی جاتی ہے۔ اس کیس کی گزشتہ سماعت کے موقع پر ترامیم سے فائدہ اٹھانے والوں کی جور پورٹ نیب نے سپریم کورٹ میں جمع کرائی تھی۔ ان میں سابق صدر آصف زرداری، ان کے قریبی ساتھی انور مجید، اومنی گروپ کے عبد الغنی مجید، منظور قادر کاکا، جعلی اکاؤنٹس کیس کے مرکزی ملزم حسین لوائی اور دیگر کے نام بھی شامل تھے۔ اگر سپریم کورٹ نیب کی تمام ترامیم کو کالعدم قرار دے دیتی ہے تو پھر اس کی زد میں عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی سمیت تحریک انصاف کے دیگر کئی رہنما بھی آجائیں گے۔ بعض قانونی ماہرین کا خیال ہے کہ سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ شاید نیب کی تمام ترامیم کو کالعدم قرار نہ دے تاہم اس وقت سب کی نظریں سپریم کورٹ پر لگی ہیں۔

Back to top button