بنگلادیش: طلبہ تحریک کے رہنما شریف عثمان ہادی سپردِ خاک

بنگلادیش میں طلبہ تحریک کے سرکردہ رہنما شریف عثمان ہادی کو سپردِ خاک کر دیا گیا۔
بنگلادیشی میڈیا کے مطابق قاتلانہ حملے میں شدید زخمی ہو کر سنگاپور میں دورانِ علاج انتقال کرنے والے انقلاب منچہ کے ترجمان شریف عثمان ہادی کی نمازِ جنازہ ڈھاکا میں پارلیمنٹ کے ساؤتھ پلازا میں ادا کی گئی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق نمازِ جنازہ میں چیف ایڈوائزر بنگلادیش محمد یونس سمیت ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ بعد ازاں شریف عثمان ہادی کو آہوں اور سسکیوں کے ساتھ سپردِ خاک کر دیا گیا۔
واضح رہے کہ شریف عثمان ہادی کی میت گزشتہ روز سنگاپور سے ڈھاکا منتقل کی گئی تھی، جبکہ چیف ایڈوائزر محمد یونس نے ان کے انتقال پر ایک روزہ سوگ کا اعلان بھی کیا تھا۔
شریف عثمان ہادی جمعرات کی شب سنگاپور جنرل ہسپتال میں انتقال کر گئے تھے۔ 12 دسمبر کو ڈھاکا کے علاقے پرانا پلٹن میں انتخابی مہم کے دوران حملہ آوروں کی فائرنگ سے ان کے سر پر شدید زخم آئے تھے۔
ابتدائی طور پر انہیں ڈھاکا میڈیکل کالج ہسپتال اور ایور کیئر ہسپتال منتقل کیا گیا، بعد ازاں 15 دسمبر کو بہتر علاج کے لیے سنگاپور لے جایا گیا، جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔
شریف عثمان ہادی جولائی 2025 میں حسینہ واجد حکومت کے خاتمے کا سبب بننے والی طلبہ تحریک کے اہم رہنما تھے اور طلبہ رہنماؤں کے قائم کردہ سیاسی پلیٹ فارم انقلاب منچہ کے ترجمان کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دے رہے تھے۔
