بن لادن کمپنی کے پاکستانی مزدور معاوضے کے انتظار میں


چھ سال قبل مسجد الحرام میں کرین حادثے کے بعد تعمیراتی کمپنی بن لادن گروپ دیوالیہ ہوگیا تھا جس کے بعد اس سے منسلک دیگر ملازمین کی طرح 342 پاکستانی بھی ملازمت اور اجرت سے محروم ہو گئے تھے۔ کمپنی کی جانب سے متاثرہ مزدورں کو معاوضے کی ادائیگی کے اعلان کے باوجود ابھی تک 140 مزدوروں کو ہی بقایا جات مل سکے ہیں چونکہ ان میں سے کئی بے روزگار ہونے کر پاکستان واپس آ چکے ہیں۔
یاد رہے کہ گیارہ ستمبر 2015 کو مسجد الحرام کے احاطے میں کرین حادثے کے نتیجے میں لاتعداد زائرین زخمی ہوئے اور 100 سے زیادہ جانوں کا نقصان ہوا۔ حادثے کے بعد بن لادن کمپنی کو وہاں تعمیراتی کام کرنے سے روک دیا گیا تھا اور اس کے خلاف تحقیقات بھی ہوئیں۔ 11 ستمبر کے مخصوص روز یہ واقعہ ہونے کی وجہ سے کمپنی ’دیوالیہ‘ ہو گئی جس سے پاکستان سمیت کئی ملکوں سے آئے مزدوروں کی تنخواہیں واجب الا ادا ہوگئیں۔ کمپنی نے حالات کو دیکھتے ہوئے اپنے 50 ہزار ملازمین کو فارغ کرنے کا اعلان کیا۔ مسلسل احتجاج اور شور شرابہ بھی ان کی کئی ماہ کی تنخواہیں دلوانے میں ناکام رہا۔ اسے 2016 کے معاشی بحران اور بہت سی کمپنیوں کے ڈیفالٹ کرنے سے نتھی کیا گیا۔ اس میں مختلف ممالک کے لیبر طبقے کے علاوہ پاکستانیوں کی بھی بڑی تعداد شامل تھی جن میں سے بیشتر آج بھی اپنے بقایا جات کے منتظر ہیں۔
اب ایک بار پھر سعودی عرب میں پاکستانی سفارت خانے نے اپنے ایک پیغام میں اعلان کیا کہ بن لادن کمپنی نے 342 پاکستانیوں کے واجب الادا بقایا جات پاکستان کے سفارت خانے کو فراہم کر دیے ہیں۔ لہازا ایسے افراد جن کے بقایا جات بن لادن کمپنی کے ذمے باقی ہیں، وہ ریاض میں پاکستانی سفارت خانے سے رابطہ کریں۔ سفارتخانے نے 140 افراد کے رابطہ نمبرز معلوم کیے جبکہ باقی افراد سے رابطے نہیں ہو سکے۔پاکستانی کمیونٹی کے امور سے منسلک ایک ذمہ دار اہلکار نے بتایا کہ باقی افراد کی تلاش کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسی لیے ٹوئٹر پر بھی ایک پیغام ڈالا گیا ہے اور ایک ہیلپ لائن بھی موجود ہے۔حکومتی اہلکار کا کہنا تھا یہ بقایا جات فقط بن لادن کمپنی کی جانب سے ہیں جبکہ دوسری سعودی کمپنیوں کے ساتھ ہم اپنے ورکرز کے بقایا جات کے لیے بات چیت کر رہے ہیں۔
ان ہزاروں لوگوں میں سے ذیادہ تر کو بقایا جات نہیں مل پائے۔ چنانچہ کچھ نے کیسز کیے اور کچھ تھک ہار کر کسی اور کو اپنے کیس کی ذمہ داری سونپ کر ملک لوٹ گئے۔ نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر پاکستانی کمیونٹی کے افسر نے بتایا کہ ہمارے پاس سنہ 2018 کے بعد کے ڈیجیٹل اعداد و شمار ہیں اور یہ واقعہ 2015 کا ہے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ اس وقت کتنے لوگ بن لادن کمپنی میں کام کر رہے تھے۔

Back to top button