بونڈی بیچ حملے کے بعد سڈنی میں مسلمانوں کے قبرستان کی بے حرمتی

آسٹریلیا کے بونڈی بیچ پر فائرنگ کے واقعے کے بعد سڈنی میں واقع مسلمانوں کے قبرستان کی بے حرمتی کا افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق جنوب مغربی سڈنی کے مضافاتی علاقے ناریلان میں واقع مسلمانوں کے قبرستان کو نشانہ بنایا گیا، جہاں قبروں کی بے حرمتی کرتے ہوئے سور کے سر اور اس کے اعضا رکھ دیے گئے۔

سڈنی پولیس نے بتایا کہ قبرستان کے دروازے پر جانوروں کی باقیات برآمد ہوئیں، جبکہ قبروں پر رکھے گئے سور کے سروں کو ہٹا کر ٹھکانے لگا دیا گیا ہے۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

دوسری جانب مذہبی رہنماؤں نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے اقدامات معاشرے میں نفرت اور تقسیم کو فروغ دیتے ہیں۔

اس کے علاوہ سڈنی کے مسلم رہنماؤں نے حملہ آوروں کی میتیں وصول کرنے اور جنازے کی ادائیگی سے انکار کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ حال ہی میں آسٹریلیا کے شہر سڈنی کے ساحل پر مسلح افراد نے شہریوں پر فائرنگ کی تھی، جس کے نتیجے میں 16 افراد ہلاک اور 40 زخمی ہو گئے تھے۔ پولیس کی جوابی کارروائی میں ایک حملہ آور ہلاک جبکہ دوسرے کو زخمی حالت میں حراست میں لے لیا گیا تھا۔

نیو ساؤتھ ویلز پولیس نے پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ ساحل پر ایک یہودی تقریب کے دوران فائرنگ کرنے والے دونوں حملہ آور باپ بیٹا تھے، جن میں سے ایک موقع پر ہلاک جبکہ دوسرا شدید زخمی ہے۔

دوسری جانب فلپائن کی امیگریشن اتھارٹیز نے بی بی سی کو تصدیق کی ہے کہ حملہ آور ساجد اکرم نے بھارتی پاسپورٹ پر فلپائن کا سفر کیا تھا۔

Back to top button