بونگی باز مراد سعید کی ایک اور بونگی پکڑی گئی

اپنی مسلسل بونگیوں اور بے بنیاد دعوؤں کی وجہ سے شناخت بنانے والے شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار وفاقی وزیر مراد سعید نے اپنی تازہ بونگی میں دعویٰ کیا ہے کہ کرونا وائرس سے نمٹنے کیلئے وزیر اعظم عمران خان کے اسمارٹ لاک ڈاؤن کے نظریے کو نہ صرف دنیا بھر میں پذیرائی ملی بلکہ اب نیویارک کے گورنر بھی اس پر عملدرآمد کرنے جا رہے ہیں اور اس حوالے سے انہوں نے عمران خان کا حوالہ بھی دیا ہے۔
دوسری طرف سچ یہ ہے کہ نہ تو گورنر نیویارک نے کرونا سے نمٹنے کے بارے میں عمران خان کے اقدامات کا کوئی تذکرہ کیا ہے اور نہ ہی وہ سمارٹ لاک ڈاؤن کی حکمت عملی پر عمل کرنے جا رہے ہیں۔ چنانچہ سوشل میڈیا صارفین نے مراد سعید کی تازہ بونگی پر انکی درگت بنانی شروع کردی ہے۔
دراصل مراد سعید اپنے دلچسپ اور لایعنی بیانات کے حوالے سے کافی شہرت رکھتے ہیں اور وزیر کا منصب سنبھالنے اور پاکستان تحریک انصاف کے اقتدار میں آنے سے قبل بھی وہ کئی مرتبہ اپنی بونگیوں کی وجہ سے خبروں کی زینت بن چکے ہیں۔ مراد سعید کی جانب سے اس طرح کے بیانات دینے کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔
مراد سعید نے 12 مئی کے روز قومی اسمبلی میں کرونا وائرس کے معاملے پر اظہار خیال کرتے ہوئے جوش خطابت میں کہا کہ ‘وزیر اعظم عمران خان نے اسمارٹ لاک ڈاؤن کا نظریہ پیش کیا تو نیویارک شہر کے گورنر نے بھہ کہا کہ پاکستان جو کانٹیکٹ ٹریکنگ اور کانٹیکٹ ٹریسنگ کے اوپر اسمارٹ لاک ڈاؤن کی سوچ لے کر آیا ہے، نیویارک اس کو فالو کرنے جا رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ‘عمران خان نے کلسٹر اور اسمارٹ لاک ڈاؤن کا نظریہ پیش کیا اور اب برطانوی وزیر اعظم بھی اسی سوچ کے ساتھ آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔’ تاہم زمینی حقائق مراد سعید کے اس بے بنیاد دعوے کا منہ چڑاتے اور اسکی قلعی کھولتے نظر آتے ہیں کیونکہ اول تو نیویارک کے گورنر اینڈریو کومو نے حالیہ عرصے میں کسی بھی پیرائے میں پاکستان کا ذکر نہیں کیا۔ دوسری بات یہ ہے کہ امریکا نے اس وقت نیویارک میں اسمارٹ لاک ڈاؤن کو اپنانے کی بجائے محض کچھ علاقوں کو جزوی طور پر کھولنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت نیویارک میں محدود کاروباری سرگرمیاں انجام دی جا سکیں گی اور اکثر کاروبار جون کے آخر تک بند رہیں گے اور موجودہ صورتحال میں اس پابندی میں مزید توسیع کا امکان ہے۔
مراد سعید کی طرف سے بے بنیاد دعوے پر سوشل میڈیا صارفین کی طرف سے بھی دلچسپ تبصروں کا سلسلہ جاری ہے۔ ایک سوشل میڈیا صارف نے لکھا کہ یہ مراد سعید کی دوسری بونگی ہے، پہلی بونگی انھوں نے 200 ارب ڈالر واپس لانے کی ماری ہے۔۔ ایک سوشل میڈیا صارف کا کہنا تھا کہ کسی نے مراد سعید کو فون کر کے کہہ دیا ہوگا کہ میں نیویارک کا گورنر ہوں اور آپکے سمارٹ لاک ڈاؤن کو فالو کرنے جارہا ہوں اور مراد سعید نے اس پر یقین کرلیا ہوگا۔
ایک سوشل میڈیا صارف نے وزیراعظم عمران خان کی فکرمندی والی تصویر شئیر کرکے تبصرہ کیا کہ یہ نیو یارک کے گورنر والی بات کرنے کا مشورہ مراد سعید کو کس نے دیا تھا؟ ٹوٹ بٹوٹ نے کہا کہ مجھے تو لگتا ہے کسی نے خود کو نیو یارک کا گورنر بتا کر مراد سعید کو ٹیکا لگا دیا۔
علی کشمیری نے کہا کہ بڑی ہنسی آرہی تھی آج جب مراد سعید عرف طفل عمرانی اسمبلی فلور پر یہ فرما رہے تھے کہ دیکھئے عمران خان نے سمارٹ لاک ڈاون کا لفظ نکالا۔ آج نیو یارک بھی سمارٹ لاک ڈاون کا لفظ استعمال کر رہا ہے۔ یہ ہوتا ہے لیڈر، یہ ہوتا ہے ویژن ۔۔ دنیا ہم کو کاپی کرتی ہے۔
ایک اور صارف شہزاد زاہد نے کہا کہ اپوزیشن کو شرم آنی چاہیے، وہاں نیو یارک کا گورنر نئے پاکستان کے وزیراعظم کا اسمارٹ لاک ڈاؤن کا فارمولا اپنانے والا ہے اور یہ بیٹھ کر کامیڈی کررہے ہیں۔ مراد سعید سے زیادہ بدتمیزی کی تو دو سو ارب ڈالر منہ پر ماردیگا وہ، آئے بڑے، چھچھورے۔
خیال رہے کہ مراد سعید نے برسر اقتدار آنے سے پہلے اپنے ایک خطاب میں دعویٰ کیا تھا کہ ہماری حکومت آئی تو عوام کے لوٹے ہوئے 200 ارب ڈالر ایک ہی دن میں واپس لے آئے گی۔ اس پر مراد سعید کا کافی مذاق اڑا تھا اور اینکر اور سوشل میڈیا صارفین آج بھی مراد سعید سے پوچھتے ہیں کہ وہ 200 ارب ڈالر کہاں ہیں؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button