بچوں میں نیند کی کمی سے  بیماریاں بڑھنے کاخدشہ

نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ وہ بچے جو دیگر بچوں کے مقابلے میں معمول کی نیند کم لیتے ہیں ان کے ابتدائی لڑکپن میں سائیکوسس میں مبتلا ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

سائیکوسس ایک ایسی ذہنی کیفیت ہوتی ہے جس میں انسان کا حقیقت سے تعلق ٹوٹ جاتا ہے اور حقیقت کو پہچاننے میں مشکل ہوتی ہے اور بعض اوقات ایسی چیزیں دِکھائی اور سنائی دیتی ہیں جو عام انسان کے مشاہدے میں نہیں ہوتی۔

یونیورسٹی آف برمنگھم سے تعلق رکھنے والے محققین نے چھ ماہ سے سات سال کے درمیان بچوں کے نیند کے دورانیے کے ڈیٹا کا مطالعہ کیا۔

تحقیق میں معلوم ہوا کہ وہ بچے جو مستقل بنیادوں پر چند گھنٹوں کی نیند لیتے ہیں ان میں بھرپور نیند لینے والوں کے مقابلے میں ابتدائی لڑکپن میں سائیکوٹک مسائل میں مبتلا ہونے کے امکانات دُگنے ہوتے ہیں جبکہ سائیکوٹک دورے پڑنے کے امکانات تقریباً چار گُنا زیادہ ہوتے ہیں۔

Back to top button