بچوں کا میلہ۔ کس کا وژن تھا؟

تحریر : عطا ء الحق قاسمی

بشکریہ: روزنامہ جنگ

پاکستان میں دو ثقافتی ادارے ایسے ہیں جو پاکستان کی پہچان بن چکے ہیں ایک کراچی آرٹس کونسل جس کے مدارالمہام احمد شاہ ہیں بلکہ میں تو کہوں گا کہ ان کا ثانی ہی کوئی نہیں کہ اب کونسل صرف کراچی نہیں پاکستان کے مختلف شہروں اور صرف پاکستان کے مختلف شہروں ہی میں نہیں بیرون ملک بھی ادبی اور ثقافتی میلے منعقد کر رہی ہے اس کی ایک وجہ احمد شاہ کا ادب و ثقافت سے عشق پاگل پن کی حد کو چھو رہا ہے اور دوسری وجہ حکومت سندھ کی بے پناہ فنڈنگ اور حد درجہ تعاون ہے۔ دوسرا ادبی اور ثقافتی ادارہ الحمرا آرٹس کونسل لاہور ہے۔ یہ ادارہ پورے پاکستان میں اعلیٰ درجے کی ثقافتی سرگرمیوں کی بنا پر ایک مثالی ادارہ گردانا جاتا ہے اور صرف اندرون ملک نہیں بلکہ دنیا بھر میں اس کی کارکردگی کے چرچے ہیں کہ الحمرا نے صرف پاکستان کے مختلف شہروں کے اکابرین ادب مدعو نہیں کئے بلکہ کئی انٹرنیشنل تقریبات بھی منعقد کیں۔ اب فروری 2025ء میں ایک بین الاقوامی ادبی اور ثقافتی میلہ منعقد کیا جا رہا ہے جس کی تیاریاں گزشتہ دو ماہ سے جاری ہیں۔

تاہم گزشتہ ہفتے ایک ایسی بھرپور تقریب منعقد ہوئی، نہ صرف یہ کہ اس کے چرچے ابھی تک زبان زد خاص و عام ہیں یہ جس نوع کی تقریب تھی عجیب بات ہے کہ اس سےپہلے آرٹس کونسل کے بہت فعال اور خلاق ذہنوں میں بھی نہیں آئی تھی۔ یہ کڈز کارنیول (KIDSCARNIVAL)یعنی بچوں کا میلہ تھا۔ میں میلوں ٹھیلوں کا شوقین ہوں مگر بچہ نہ ہونے کی وجہ سے اس میلے کی رونق دیکھنے سے محروم رہا۔ لیکن میری پوتیاں اپنی سہیلیوں کے ساتھ دونوں دن اس میلے میں شرکت کرتی رہیں اور مجھے ایک بار پھر افسوس ہوا کہ میں بڑا کیوں ہوگیا ہوں۔ سب سے زیادہ ایکسائٹیڈشہ پارہ تھی جسے میں ’’پارو‘‘ کہتا ہوں، انمول اورآمنہ اپنی دلچسپی کی مختلف تفصیلات بتا رہی تھیں اور پارو کہہ رہی تھی ’’دادا ابوبہت مزا آیا‘‘ اس کی ساری تفصیل ’’دادا ابو بہت مزا آیا‘‘ اور وہ بار بار یہی کہے جا رہی تھی اس نے مجھ سے پوچھا ’’دادا ابو الحمرا کے عین درمیان میں ایک مجسمہ بنا ہوا تھا سارے بچے اور ان کے والدین اس کےپاس کھڑے ہو کر اپنی تصویریں بنا رہے تھے۔ مجھے انمول نے بتایا یہ ہمارے قومی شاعر اقبال کا مجسمہ ہے۔ پھر میں نے اسے اقبال کے بارے میں آسان زبان میں بہت کچھ بتایا۔ انمول اور آمنہ مجھے بتا رہی تھیں کہ دادا ابو کہیں بچے فیس پینٹنگ میں مصروف تھے، کہیں رنگوں کے ذریعے چھوٹے بچوں کو جذبات کا اظہار کرنا سکھایا جا رہاتھا، ایک اتنا بڑا ہال تھا اور وہ پتلی تماشا دیکھنے والوں سے لبالب بھراہوا تھا ، وہاں کھڑے ہونے کی بھی کوئی گنجائش نہیں تھی۔

اس کے علاوہ بچوں کے لئے میجک شو کا بھی اہتمام کیا گیا تھا جس میں بچوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ ہال ون میں بچوں کی پسندیدہ فلمیں دکھانے کابھی اہتمام کیا گیا تھا۔ دو روزہ ایونٹ کے دوران سجائے گئے اسٹالز پر سجی گڑیاں ہاتھوں سے بنائی گئی تھیں۔ دیگر کرافٹ ان معصوم ذہنوں میں اپنے ملک بس رہے کلچرز سے روشناسی اس ایونٹ کا بنیادی مقصد تھا۔ میں آٹھ سال تک الحمرا آرٹس کونسل کا چیئرمین رہا ہوں، مجھے اب افسوس ہو رہا ہے کہ مجھے اور میرے دست و بازو ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیپٹن عطا محمد خان کو یہ خیال کیوں نہ آیا کہ ثقافت پر صرف بڑوں کی اجارہ داری کیوں ہے، ہم اپنی بساط کے مطابق جو کر سکتے تھے، کرتے رہے،مگر بچوں کو یکسر نظر انداز کیا جبکہ بچوں کا یہ دو روزہ ثقافتی میلہ ان کی یادداشت کا ہمیشہ حصہ رہے گا۔ جہاں میلہ ٹھیلا بھی تھا، پتلی تماشا بھی تھا، میجک شو بھی تھا، پاکستانی مصنوعات ۲کی نمائش میں ہزاروں ہاتھوں سے بنائی گئی گڑیاں بھی تھیں۔

اور ہاں ایک اور کمال کی بات، ایک طرف یہ سب رنگا رنگ تقریبات تھیں اور دوسری طرف امریکی قونصلیٹ کی ایک مختصر سی تقریب بھی تھی اور خوبصورت بات یہ کہ دونوں ایک دوسرے کو ڈسٹرب نہیں کررہی تھیں۔ جب میں الحمرا سے متعلق تھا اس دور میں ، میں بھی یہ ’’کرشمہ‘‘ دکھاتا رہا، ایک طرف صوبے کے وزیر اعلیٰ ایک بڑی تقریب کی صدارت کر رہے ہوتے اور ان کے ساتھ ہائی پروفائل کی شخصیات بھی موجود ہوتیں مگر عین اسی وقت کسی دوسرے ہال میں ہماری روٹین کی کوئی تقریب منعقد ہو رہی ہوتی۔ میرے خیال میں اگر ان دنوں ہم نے بچوں کو اپنے ثقافتی حب الحمرا آرٹس کونسل سے دور رکھا تو یہ ہماری کوتاہی تھی، اس کی ایک وجہ شاید یہ بھی تھی کہ میں اور کیپٹن عطا محمد خان دونوں ’’مائیں‘‘ نہیں تھیں کہ مائوں کی طرح اپنے بچوں کا خیال بھی رکھتیں، اب کے صورت حال بالکل مختلف تھی۔ الحمرا کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر سارہ رشید اور وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری بھی ماں ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ وزیر اعلیٰ مریم نواز بھی صرف ماں نہیں ہیں بلکہ پنجاب کے عوام کے لئے ان کا امیج بھی ایک ماں کا بن چکا ہے اور یوں مجھے لگتا ہے کہ بچوں کا یہ دو روزہ میلہ مریم نواز کے وژن ہی کا ایک حصہ تھا۔

’’سیاہ پوش کہانی‘‘

Back to top button