بچوں کی گھریلو ملازمت پر پابندی عائد، غیر قانونی قرار

گھروں میں کام کاج کے لیے بچوں کو ملازم رکھنا غیر قانونی قرار دے دیا گیا ہے۔ بچوں کی گھریلو ملازمت کو غیر قانونی قرار دینے سے متعلق نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ وفاقی کابینہ نے گذشتہ دنوں بچوں کی گھریلو ملازمت کو ممنوع کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔اس حوالے سے وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے اپنی ٹوئٹ میں کہا ہے کہ بالآخر وفاقی کابینہ کا فیصلہ گزٹ نوٹیفکیشن کے ذریعے نافذ ہوگیا ہے اور بچوں کی گھریلو ملازمت 1991 کےچلڈرن ایمپلائمنٹ ایکٹ کے تحت ممنوع ہوگئی ہے۔
Finally cabinet decision enforced through Gazette notification. Child Domestic Labour proscribed under 1991 Child Employment Act – valid for ICT but provinces can adopt through a simple prov assembly resolution of the same. First time child domestic labour proscribed in Pakistan. pic.twitter.com/f5V4wZ0wdy
— Shireen Mazari (@ShireenMazari1) August 4, 2020
شیریں مزاری کا کہنا ہے کہ ایکٹ وفاقی دارالحکومت کے لیے ہے لیکن صوبے بھی اس کو ایک آسان سی قرار داد کے ذریعے اپنا سکتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں پہلی بار بچوں کی گھریلو مزدوری پر پابندی عائد کی گئی ہے۔
