بگٹی رضاکاروں کیساتھ جھڑپوں میں متعددکچے کے ڈاکوہلاک

سکھر ملتان موٹروے پر بگٹی قبیلے کے سردار کے بیٹے کو فائرنگ کرکے قتل کرنے پر ڈاکوؤں کو لینے کے دینے پڑ گئے۔رضاکاروں کے حملے میں متعددہلاک ہو گئے۔
بگٹی رضاکار بھاری اسلحے اور مارٹر گولے لیکر کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں سے لڑنے پہنچ گئے۔بگٹی رضاکاروں نے جدید اسلحے اور بھاری ہتھیاروں سے کچے کے ڈاکوؤں پر حملہ کیا۔بگٹی قبائلی جنگجووں اور کچے کے ڈاکوؤں کے درمیان شدید فائرنگ اور جھڑپوں کی متعدد ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔بگٹی رضاکاروں کو اسلحے سمیت پولیس کے ہمراہ کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف لڑتے دیکھا جا سکتا ہے۔
صادق آباد میں کچے ڈاکوؤں اور بگٹی رضاکاروں کے درمیان لڑائی میں شر گینگ کے 2 ڈاکو ہلاک اور 10 زخمی ہوئے۔
ڈی پی او رضوان گوندل کاکہنا ہے کہ پولیس کیمپ پر حملہ آوو ہونے کے نتیجے میں پولیس نے شر گینگ کے خلاف اپریشن کیا جس میں 4 ڈاکو ہلاک 10 زخمی ہوئے ۔بگٹی رضاکاروں کی پولیس آپریشن میں حصہ لینے کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔سوشل میڈیا پر جاری بگٹی لڑائیوں کی ویڈیوز کو رحیم یار خان کے کچے سے منسوب کیا جارہا ہے۔مقامی قبائلی کے لوگوں سے خفیہ انفارمیشن اور مدد حاصل کی جاتی ہے، پولیس آپریشن میں شامل نہیں کیا جاتا تاکہ جانی نقصان نہ ہو۔ بگٹی رضاکاروں اور کچے کے ڈاکوؤں کے درمیان دو روز تک جھڑپیں جاری رہیں۔
پولیس کاکہنا ہے کہ 2 روز بعد بگٹی رضاکار اعلی حکام اور اہم سیاسی شخصیات کی مداخلت کے بعد واپس لوٹ گئے۔
