پاکستان نے بھارتی جاسوس کلبھوشن کو قونصلر رسائی دے دی

پاکستان نے بھارتی جاسوس کلبھوشن کو قونصلر رسائی دے دی ہے. پاکستان کے دفترِ خارجہ کے مطابق انڈین حکام نے جمعرات کو ملک میں زیر حراست مبینہ انڈین جاسوس کلبھوشن جادھو سے ملاقات کی ہے۔ یہ دوسرا موقع ہے کہ کلبھوشن کو قونصلر رسائی دی گئی ہے اور یہ ملاقات اسلام آباد میں ایک محفوظ مقام پر ہوئی جسے خفیہ رکھا گیا ہے۔انڈین حکام نے اس سے قبل گذشتہ برس ستمبر میں بھی کلبھوشن جادھو سے ملاقات کی تھی جبکہ 2017 میں کلبھوشن کے اہلخانہ بھی ان سے مل چکے ہیں۔
پاکستان دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق انڈین ہائی کمیشن کے دو قونصلر افسران نے جمعرات کی سہ پہر تین بجے کلبھوشن جادھو سے بلاتعطل اور بلا روک ٹوک ملاقات کی۔ ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی نے ایک بیان میں بتایا کہ پاکستان نے بھارت کی درخواست پر بھارتی جاسوس کمانڈر کلبھوشن یادیو کو دوسری مربتہ قونصلر رسائی دے دی ہے۔بیان میں کہا گیا کہ پاکستان نے قونصلر تعلقات سے متعلق 1963 کے ویانا کنونشن(وی سی سی آر) کے تحت کلبھوشن یادیو کو پہلی مرتبہ قونصلر رسائی 2 ستمبر 2019 کو دی تھی۔اس سے قبل کلبھوشن کی والدہ اور اہلیہ کو بھی 25 دسمبر 2017 کو ان سے ملاقات کی اجازت دی گئی تھی۔ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان عالمی عدالت انصاف کے 17 جولائی 2019 کے فیصلے پر مکمل عملدرآمد کے لیے پرعزم ہے اور امید کرتا ہے کہ بھارت اس فیصلے پر پاکستانی عدالت میں مکمل عملدرآمد کے سلسلے میں تعاون کرے گا۔ملاقات کے بعد انڈین حکام کی جانب سے تاحال کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔پاکستان کی ایک فوجی عدالت نے کلبھوشن جادھو کو جاسوسی کے الزام میں سزائے موت سنا رکھی ہے۔آٹھ جولائی کو پاکستان کے ایڈیشنل اٹارنی جنرل احمد عرفان نے کہا تھا کہ پاکستان عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر عملدرآمد کے لیے تیار ہے اور کلبھوشن جادھو نے اپنی سزا کے خلاف نظر ثانی کی درخواست دائر کرنے سے انکار کر دیا ہے اور اس کے بجائے وہ اپنی رحم کی اپیل کے پیروی جاری رکھیں گے۔کمانڈر جادھو تین مارچ 2016 سے پاکستان کی حراست میں ہیں جب انھیں بلوچستان سے گرفتار کیا گیا تھا۔
پاکستانی دفترِ خارجہ کے بیان کے مطابق کمانڈر جادھو نے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا ہے۔ بیان کے مطابق اس کے علاوہ انھوں نے پاکستان میں ریاستی دہشت گردی کے لیے را کے تعاون سے متعلق بھی انکشافات کیے۔پاکستان کے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے مطابق پاکستان بارہا انڈین ہائی کمیشن کو اپیل دائر کرنے کا کہہ چکا ہے۔ انھوں نے واضح کیا تھا کہ اگرچہ پاکستان کا قانون نظرِ ثانی کا حق فراہم کرتا ہے لیکن عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر صحیح طور سے عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان نے 28 مئی کو ’انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس ریویو اینڈ ری کنسیڈریشن آرڈینسس 2020‘ نافذ کیا۔اس آرٹیننس کے تحت 60 روز میں ایک درخواست کے ذریعے اسلام آباد ہائی کورٹ میں نظرِ ثانی اور دوبارہ غور کی اپیل دائر کی جاسکتی ہے۔
عالمی عدالت انصاف کے 20 مئی کے فیصلے کے بعد نظرثانی درخواست کے لیے 60 روز کا وقت ہے جس کے دوران درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی جاسکتی ہے، یہ اپیل کمانڈر جادھو خود، ان کا قانونی نمائندہ یا انڈین ہائئ کمیشن دائر کر سکتے ہیں۔پاکستانی حکام نے 17 جون کو کلبھوشن جادھو کو اپیل کے لیے بلایا تھا تاہم انھوں نے یہ اپیل دائر کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) میں جو کیس پاکستان نے جیتا تھا اس کے فیصلے کے اہم نکات میں یہ بات بھی شامل تھی کہ ویانا کنونشن برائے قونصلر روابط کی دفعہ 36 کے تحت کلبھوشن یادیو کو ان کے حقوق کے بارے میں بتایا جائے۔فیصلے میں یہ نکتہ بھی شامل تھا کہ بھارتی قونصل کے افسران کو کلبھوشن جادھو سے بات چیت کرنے کی اجازت اور قونصلر رسائی دی جائے تا کہ وہ ان سے ملاقات کریں اور ان کے لیے قانونی نمائندگی کا بندوبست کریں۔اس کے علاوہ فیصلے میں کہا گیا تھا کہ کلبھوشن کیس پر مؤثر نظر ثانی کے لیے تمام تر اقدامات اٹھائے جائیں جس میں اگر ضرورت پڑے تو قانون سازی کا نفاذ بھی شامل ہے اور جب تک مؤثر نظرِ ثانی اور دوبارہ غور مکمل نہ ہوجائے اس وقت تک پھانسی کی سزا کو روک دیا جائے۔
پاکستان کے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے مطابق ’پاکستان نے را کے ایجنٹ کمانڈر جادھو کی سزائے موت کو سزا پر نظرِ ثانی اور دوبارہ غور تک کے لیے روک دیا۔‘ان کے مطابق نظرِ ثانی اور دوبارہ غور کے لیے پاکستان اپنے موجودہ قوانین کا جائزہ لیا تا کہ ویانا کنوینشن کے آرٹیکل 36 کے تحت مناسب طریقے سے نظرِ ثانی اور غور کیا جاسکے۔
پاکستان کی ایک فوجی عدالت نے اپریل 2017 میں کلبھوشن جادھو کو جاسوسی، تخریب کاری اور دہشت گردی کے الزامات میں موت کی سزا سنائی تھی۔اس فیصلے کے خلاف انڈیا نے مئی 2017 میں عالمی عدالت انصاف کا دورازہ کھٹکھٹایا تھا اور استدعا کی تھی کہ کلبھوشن کی سزا معطل کرکے ان کی رہائی کا حکم دیا جائے۔عالمی عدالت نے انڈیا کی یہ اپیل مسترد کر دی تھی تاہم پاکستان کو حکم دیا تھا کہ وہ ملزم کو قونصلر تک رسائی دے اور ان کی سزایے موت پر نظرِ ثانی کرے۔کلبھوشن جادھو کے بارے میں پاکستان کا دعوی ہے کہ وہ انڈین بحریہ کے حاضر سروس آفسر ہیں جنھیں سنہ 2016 میں پاکستان کے صوبے بلوچستان سے گرفتار کیا گیا تھا۔ پاکستان ایک عرصے سے بلوچستان میں بلوچ علیحدگی پسند عناصر کی پشت پناہی کرنے کا الزام انڈیا پر عائد کرتا رہا ہے۔
خیال رہے کہ اس سے قبل 2 ستمبر 2019 کو بھی بھارتی قونصلر نے دہشت گردی کے الزام میں گرفتار بھارتی جاسوس کلبھوشن جادھو سے ملاقات کی تھی۔ پاکستان کی جانب سے کلبھوشن جادھو کو قونصلر رسائی عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کے تحت دی گئی تھی اور اس وقت کے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر گورو آہلو والیا نے کلبھوشن سے ملاقات کی تھی جو دن 12 بجے شروع ہوئی اور دو گھنٹے تک جاری رہی، ملاقات میں پاکستانی حکام بھی موجود تھے۔
یاد رہے کہ 17 جولائی 2019 کو عالمی عدالت انصاف نے پاکستان سے گرفتار ہونے والے بھارتی جاسوس کلبھوشن جادھو کی بریت کی بھارتی درخواست مسترد کردی تھی۔عالمی عدالت انصاف نے کلبھوشن کی رہائی اور بھارت واپسی کی بھارتی درخواست بھی مسترد کی تھی جبکہ کلبھوشن کی پاکستان کی فوجی عدالت سے سزا ختم کرنے کی بھارتی درخواست بھی رد کردی گئی تھی۔عالمی عدالت انصاف نے پاکستان سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ کلبھوشن کو قونصلر رسائی دے اور اسے دی جانے والی سزا پر نظر ثانی کرے۔
3 مارچ 2016 کو پاکستان نے ملک میں دہشتگردوں کے نیٹ ورک کیخلاف ایک اہم کامیابی حاصل کرنے کا اعلان کیا اور بھارتی جاسوس کلبھوشن جادھو کو ایران کے سرحد ی علاقے ساروان سے پاکستانی صوبے بلوچستان کے علاقے مشاخیل میں داخل ہوتے ہوئے گرفتار کیا۔بھارتی جاسوس کے قبضے سے پاسپورٹ ، مختلف دستاویزات، نقشے اور حساس آلات برآمد ہو ئے۔ابتدائی تفتیش میں بھارتی جاسوس نے اعتراف کیا کہ وہ انڈین نیوی میں حاضر سروس کمانڈر رینک کا افسر ہے اور 2013 سے خفیہ ایجنسی ‘را’ کیلئے کام کررہا ہے جبکہ پاکستان میں فرقہ وارانہ فسادات کروانے، بلوچستان اور کراچی کو پاکستان سے علیحدہ کرنا اس کا اہم مشن تھا۔بھارتی جاسوس چابہار میں مسلم شناخت کے ساتھ بطور بزنس مین کام کررہا تھا اور 2003 ، 2004 میں کراچی بھی آیا جبکہ بلوچستان اور کراچی میں دہشتگردی کی کئی وارداتوں میں بھی اس کے نیٹ ورک کا ہاتھ تھا۔
24 مارچ 2016 کو پاکستان نے ابتدائی تحقیقات کے نتائج میڈیا کے سامنے رکھے، 25 مارچ 2016 کو پاکستان نے بھارتی سفیر کو طلب کر کے ‘را’ کے جاسوس کے غیر قانونی طور پر پاکستان میں داخل ہونے اور کراچی ، بلوچستان میں دہشت گردی میں ملوث ہونے پر باضابطہ احتجاج کیا۔ اسی روز پاکستان نے P5 اور یورپی یونین کو بھی کلبھوشن جادھو کے معاملے پر بریف کیا۔29 مارچ 2016 کو کلبھوشن جادھو کے اعترافی بیان کی ویڈیو جاری کی گئی، 8 اپریل 2016 کو ابتدائی ایف آئی آر سی ٹی ڈی کوئٹہ میں درج کی گئی جس کے بعد باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔2 مئی 2016 سے 22 مئی 2016 تک بھارتی جاسوس سے تفتیش کی گئی جبکہ 12 جولائی 2016 کو جے آئی ٹی کی تشکیل ہوئی۔22 جولائی 2016 کو کلبھوشن جادھو نے مجسٹریٹ کے سامنے اپنا اعترافی بیان ریکارڈ کروایا۔ 6 ستمبر 2016 کو کلبھوشن کے مجسٹریٹ کے سامنے اعترافی بیان کی روشنی میں اس کی معاونت کرنے والے 15افراد کے خلاف سی ٹی ڈی کوئٹہ میں دوسری ایف آئی آر درج کی گئی۔
21 ستمبر 2016 کو کلبھوشن جادھو کیخلاف ملٹری کورٹ میں کارروائی کا آغاز کیا گیا۔ 24 ستمبر کو شہادتیں ریکارڈ کی گئیں جس کے بعد تین سے زائد سماعتیں ہوئی جس میں چوتھی سماعت 12 فروری 2017 کوہوئی۔23 جنوری 2017 کو پاکستان نے کلبھوشن کیس میں تحقیقات کیلئے بھارتی حکومت سے معاونت کی درخواست کی۔21 مارچ 2017 کو پاکستان نے بھارت سے تحقیقات میں معاونت کا مؤقف ایک بار پھر دہرایا اور یہ واضح کیا کہ کلبھوشن جادھو تک کونسلر رسائی کیلئے معلومات کا تبادلہ ضروری ہے۔10 اپریل 2017 کو ملٹری کورٹ نے کلبھوشن جادھو کے پاکستان میں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے جرم میں سزائے موت کا حکم دیا جس کی توثیق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کی۔بھارت کی جانب سے عالمی عدالت میں معاملہ لے جانے کے سبب کلبھوشن کی سزا پر عمل درآمد روک دیا گیا ہے۔ پاکستان نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر 25 دسمبر 2017 کو کلبھوشن جادھو کی اہلیہ اور والدہ سے ملاقات کرائی جب کہ اس ملاقات میں کلبھوشن نے والدہ اور اہلیہ کے سامنے جاسوسی کا اعتراف کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button