بھارتی اداکاروں کا کرکٹ سے چولی دامن کا ساتھ کیوں ہے؟

بھارتی اداکار نہ صرف اداکاری کی وجہ سے اپنی پہچان رکھتے ہیں بلکہ کرکٹ میں دلچسپی اور کرکٹرز سے دوستیوں کی وجہ سے بھی پہچان رکھتے ہیں، دلیپ کمار اور موسیقار نوشاد کا یارانہ بالی وڈ تاریخ کی ناقابل فراموش دوستیوں میں سے ایک ہے، دونوں نے ’’مغل اعظم‘‘ سمیت 14 فلمیں ساتھ کیں، اپنے اپنے شعبے کے یہ دو مہان پہلی بار کرکٹ سٹیڈیم میں ایک دوسرے سے ملے اور ہمارے حافظے میں ہمیشہ کیلئے یکجا ہوگئے۔آسٹریلیا اور انڈیا کے درمیان کرکٹ ورلڈکپ کے فائنل میں آشا بھوسلے، شاہ رخ خان، دیپیکا پڈوکون، رنویر سنگھ، انوشکا شرما اور رنبیر کپور کو دیکھ کر نگاہوں میں کئی منظر گھوم گئے، انڈیا میں پھیلے کرکٹ سٹیڈیم جہاں سے کئی رومان پرور کہانیوں نے جنم لیا، بالی وڈ اور کرکٹ کی سانجھے داری، جو کئی فلموں کی بنیاد بنی۔دلیپ کمار اور موسیقار نوشاد کا یارانہ بالی وڈ تاریخ کی ناقابل فراموش دوستیوں میں سے ایک ہے۔ دلیپ کمار کے بقول وہ ایک میچ دیکھنے کے لیے ممبئی کے جم خانہ کرکٹ سٹیڈیم میں موجود تھے۔ وہیں بیٹھے دو شخص ان کی طرف دیکھتے ہوئے آپس میں باتیں کر رہے تھے۔ انہیں تھوڑا تجسس ہوا۔ جب ہیلو ہائے ہوئی تو پتہ چلا کہ ایک موسیقار نوشاد علی ہیں اور دوسرے پروڈیوسر ڈائریکٹر محبوب خان۔ کھڑے کھڑے نوشاد نے انہیں ملاقات کی دعوت دی۔ذاتی زندگی میں گہرے دوست راج کپور اور دلیپ کمار پروفیشنل زندگی میں ایک دوسرے کے حریف تھے۔ یہ مقابلہ بازی فلم کی دنیا سے ایک بار کرکٹ گراؤنڈ تک پہنچی، 1961 کی چین انڈیا جنگ کے بعد بالی وڈ ستاروں نے فنڈ ریزنگ کے لیے ایک میچ کھیلا۔ ایک ٹیم کی قیادت راج کپور اور ایک کی دلیپ کمار کر رہے تھے۔ یوٹیوب پر اس میچ کی مختصر ویڈیو موجود ہے۔ بالخصوص دلیپ کمار سفید وردی ایسے ہینڈسم نظر آتے ہیں کہ اف۔دلیپ صاحب کا ایک میچ عاصمہ رحمان کے ساتھ بھی کرکٹ سٹیڈیم سے شروع ہوا تھا۔ 1981 میں ہونے والی یہ خفیہ شادی دو سال چلی، جس پر دلیپ صاحب ہمیشہ ’شرمندگی‘ کا اظہار کرتے رہے۔بالی وڈ اور کرکٹ کے جس تعلق نے سب سے زیادہ پیار سمیٹا، وہ انوشکا اور ویرات کوہلی کا ہے۔ اگر انڈیا اور پاکستان کے نوجوانوں کے لیے کہیں کوئی مثالی جوڑا وجود رکھتا ہے تو وہ یہی ہیں۔ ویسے کرن جوہر کو دیے گئے انٹرویو سے پہلے رنویر اور دیپیکا بھی ایسا ہی درجہ رکھتے تھے۔عامر خان نے ’لگان‘ فلم بنائی، جس کی کہانی کرکٹ کے گرد گھومتی ہے، لیکن حقیقی زندگی میں شاہ رخ اس کھیل سے بہت گہرے جڑے۔ انہوں نے کولکتہ نائٹ رائیڈرز کی فرنچائز خریدی اور عامر، سلمان کے برعکس ہمیشہ کرکٹ کے میدانوں میں نظر آئے۔ورلڈ کپ فائنل کے دوران وہ اسی سٹیڈیم میں تھے جس کے دروازے 2012 میں ان پر پانچ سال کے لیے بند کیے گئے تھے۔ سکیورٹی اہلکار سے الجھنے اور فیلڈ میں جانے کی ضد کرنے پر ممبئی کرکٹ ایسوسی ایشن نے ان پر یہ پابندی لگائی تھی۔ عام طور پر سٹیڈیم میں ان کی موجودگی ایک پورا ایونٹ ہوتا ہے، لیکن اس بار فائنل خود انڈیا کے لیے ایونٹ نہ بن سکا تو بالی وڈ کنگ بیچارے کیا کرتے۔ خاموش، گم سم ایک طرف ایسے بیٹھے رہے جیسے میر کے شعروں میں عاشق نامراد سہما رہتا ہے۔

Back to top button