بھارتی جارحیت پر پاکستان نے موثر اور ذمہ دارانہ رد عمل دیا

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے پلوامہ حملے کے بعد ہمیں بھارتی جارحیت کا خدشہ تھا کیونکہ ہمارے پاس انٹیلی جنس رپورٹ تھیں۔ تاہم پاکستان نے بھارتی جارحیت کے مقابلے میں جو کوئی اقدام کیے وہ انتہائی میچور تھے۔
اسلام آباد میں بھارتی جارحیت کا موثراور منہ توڑ جواب دینے کا ایک سال مکمل ہونے پر تقریب کا انعقاد کیا گیا جس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ‘ہماری فورس نے ہر محاذ پر انتہائی محدود اور ذمہ دارانہ ردعمل کا اظہار کیا’۔وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ خطرناک راستے پر چلتا بھارت بڑی مشکل میں پھنس گیا ہے۔ ہندوتوا پالیسی اقلیتوں کے خلاف نفرت پھیلا رہی ہے۔ وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ہم نے اونچ نیچ دیکھی، قوم نے مشکل حالات دیکھے۔ قومیں مشکل وقت میں متحد ہو جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ہم مشکل وقت سے نکل آئے ہیں۔ امریکا سپر پاور ہونے کے باوجود افغان جنگ نہیں جیت سکا جبکہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف مشکل جنگ جیتی۔ دوسری جانب بھارت بہت خطرناک راستے پر چل پڑا ہے۔ بھارت نے جو راستہ چنا ہے، اس کی واپسی بہت مشکل ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں پتا تھا کہ پلوامہ واقعے کے بعد بھارت کچھ کرے گا۔ ہماری جوابی کارروائی ایک میچور ملک جیسی تھی جبکہ بھارتی پائلٹ کی واپسی ایک میچور قوم کی نشانی تھی۔ اس معاملے پر تمام سیاسی جماعتیں ایک پیج پر تھیں۔ صبح 3 بجے ایئر چیف نے مجھے بھارتی حملے کا فون پر بتایا۔ ہمیں اپنی مسلح افواج پر فخر ہے۔ اس موقع پر آرمی چیف اور ایئرچیف بالکل گھبرائے نہیں ہوئے تھے۔ ان کی پراعتماد باتیں سن کر میرا اعتماد بھی بڑھا۔ ہم بھارت کو اسی وقت جواب دے سکتے تھے لیکن ہم نے اگلے روز جواب دیا۔
وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ بھارت میں نفرت کی پالیسی چل رہی ہے۔ ہندوتوا پالیسی اقلیتوں کے خلاف نفرت پھیلا رہی ہے۔ جو قوم اس آئیڈیالوجی پر گئی وہاں خون خرابہ ہوا۔ راونڈا، جنوبی افریقا، میانمار اور بوسنیا میں بھی قتل عام ہوا۔ بھارت بھی اسی طرف جا رہا ہے۔ بھارت نے 80 لاکھ کشمیریوں کو محصور بنا رکھا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارتی متنازع قانون انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ آر ایس ایس کے گینگ ہٹلر سے متاثر ہیں۔ عالمی برادری بھارت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے۔انہوں نے کہا کہ ‘بھارت کے مقابلے میں پاکستان کے میڈیا نے انتہائی ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی اور افراتفری میں جواب دینے کی بجائے تحمل کا مظاہرہ کیا’۔
وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ‘بھارتی جارحیت کے بعد متعدد مرتبہ منہ توڑ جواب دے سکتے تھے لیکن ہم نے تحمل کا مظاہرہ کیا، بھارتی پائلٹ نئی دہلی کے حوالے کیا، بھارتی آبدوز کو لاک ڈاؤن کرلیا لیکن کوئی جارحانہ اقدام نہیں اٹھایا’۔ علاوہ ازیں عمران خان نے کہا کہ بھارت نے جو نسل پرستانہ اور فاشسٹ نظریہ اپنایا ہے ادھر سے واپسی انتہائی مشکل ہے، شہریت ترمیمی قانون کے انتہا پسند ہندوؤں آر ایس ایس کا نظریہ اپنایا اور اب بھارت میں فسادات کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوگیا۔انہوں نے کہا کہ ‘اس کا منطقی انجام ہے خونریزی ہے’۔
وزیراعظم عمران خان نے کہ ‘انتہاپسندی اور قومیت پسندی کی بنیاد پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) بھارتی اقلیتوں پر ظلم اٹھا رہی ہے اور اگر بی جے پی نے پیچھے ہٹنے کی کوشش کی تو یہ ہی انتہا پسندی اور قومیت پسندی انہیں پیچھے ہٹنے نہیں دے گی’۔ علاوہ ازیں عمران خان نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بھارت کو روکنے کے لیے کردار ادا کرے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کررہا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ بھارتی اقدامات سے جنوبی ایشیا کا امن خطرے میں پڑ گیا اس لیے یہ وقت ہے کہ دنیا بھارتی اقدامات کا نوٹس لے۔
تقریب میں وفاقی وزرا، اعلیٰ سول و عسکری حکام سمیت آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ائر چیف مجاہد انور خان بھی تقریب میں شریک ہوئے۔
