بھارتی جہاز کی ہائی جیکنگ اور مولانا مسعود اظہر کی رہائی کی کہانی

https://youtu.be/VFfZdacAsYI

یہ کہانی اُس انڈین طیارے کی ہے جسے 24 دسمبر 1999 کو ہائی جیک کیا گیا اور پھر اسے بھارت، پاکستان اور دبئی کے تین ہوائی اڈوں پر اتارنے کے بعد افغانستان پہنچایا گیا جہاں ایک ہفتہ بعد پاکستانی جہادی لیڈر مولانا مسعود اظہر کی رہائی کا مطالبہ پورا ہونے کے بعد مسافروں کو رہا کیا گیا۔ کسی طیارے کے ہائی جیک ہونے کے بعد ٹی وی سکرینز پر جو مناظر زیادہ نظر آتے ہیں ان میں جہاز کے اردگرد سیکورٹی اہلکاروں اور گاڑیوں کی تیزی سے حرکت کے ہوتے ہیں۔ لیکن دو دہائیوں قبل تب صحافیوں کی حیرت کی انتہا نہیں رہی جب انھوں افغانستان کے صوبہ قندھار کے ایئرپورٹ پر ہائی جیک ہونے والے طیارے کے گرد بکتر بند گاڑی کے بجائے ایک داڑھی والے شخص کو سائیکل پر چکر کاٹتے دیکھا۔

تاریخ میں افغانستان کے صوبہ قندھار کی اہمیت کسی طرح سے بھی کابل سے کم نہیں رہی۔ مگر نوے کی دہائی سے پہلے بین الاقوامی میڈیا نے اس صوبے کو زیادہ اہمیت نہیں دی تھی۔ تاہم نوے کی دہائی کے دوران جن دو بڑے واقعات کے باعث یہ علاقہ دنیا کی توجہ کا مرکز بنا رہا ان میں سے ایک طالبان کا ظہور اور قندھار پر قبضہ اور دوسرا انڈین ایئر لائنز کے طیارے کی ہائی جیکنگ تھی جسے مبینہ طور پر پاکستانی جہادیوں نے اپنی خفیہ ایجنسی کی مدد سے ہائی جیک کیا اور سری نگر کی جیل میں قید حرکت المجاہدین سے وابستہ تین جہادیوں مولانا مسعود اظہر، مشتاق احمد زرگر اور شیخ احمد عمر سعید کو رہا کروایا۔ بعد میں پاکستان پہنچ کر مسعود اظہر نے ایک نئی جہادی تنظیم جیشِ محمد کی بنیاد رکھی جبکہ شیخ احمد عمر سعید نے امریکی صحافی ڈینیئل پرل کا قتل کیا اور دوبارہ سے ایک پاکستانی جیل کی سلاخوں کے پیچھے چلا گیا۔

کئی پہلوؤں سے دلچسپ ہونے کے ساتھ ساتھ یہ واقعہ اس لیے بھی مشہور ہے کیونکہ یہ ہوائی سفر کی تاریخ میں طویل ترین دورانیے کی ہائی جیکنگ میں سے ایک ہے جو سات دن تک جاری رہی۔ یہ 24 دسمبر 1999 کی بات ہے جب انڈین ایئر لائنز کا طیارہ 814 نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو سے انڈیا کے شہر لکنھؤ کے لیے اڑا۔ اس ایئربس میں 176 مسافروں کے علاوہ پائلٹس سمیت جہاز کے عملے کے 15 افراد سوار تھے۔ اپنی منزل کی جانب روانگی پر مسافر انتہائی خوش تھے لیکن انکی یہ خوشی زیادہ دیر تک قائم نہیں رہی کیونکہ جب یہ طیارہ انڈین فضائی حدود میں داخل ہوا تو ایک نقاب پوش شخص اٹھا اور کاک پٹ کی جانب بڑھا۔ اس نے طیارے کے پائلٹ کو دھمکی دی کہ اگر جہاز کا رخ لکھنؤ کے بجائے لاہور کی جانب نہیں موڑا گیا تو وہ طیارے کو بم سے اڑا دیں گے۔ اس کے ساتھ ہی اس کے چار دیگر نقاب پوش ساتھی بھی کھڑے ہوئے اور جہاز کے مختلف حصوں میں پوزیشن سنبھال لیں۔ اگرچہ طیارے کے پائلٹ کیپٹن دیوی شرن نے لکھنؤ کے بجائے طیارے کا رخ لاہور کی جانب موڑا لیکن اس سفر کے لیے ان کے پاس ایندھن ناکافی تھا۔ چنانچہ طیارے کو انڈین پنجاب کے شہر امرتسر میں اتارا گیا۔

لینڈنگ پر انڈین پولیس نے ہائی جیکروں کے خلاف فوری کارروائی کی تیاری کی تھی اور شاید ہائی جیکرز نے یہی خطرہ محسوس کرتے ہوئے طیارے کے پائلٹ کو ایندھن لیے بغیر ہی لاہور کے لیے اڑان بھرنے پر مجبور کر دیا۔ ابتدائی طور پر پاکستانی حکام نے طیارے کو لاہور میں اترنے کی اجازت نہیں دی اور اس مقصد کے لیے ایئرپورٹ کی لائٹس کو بند کر دیا گیا۔ لیکن ہائی جیکروں کے دباؤ کے باعث پائلٹ کے پاس ایندھن بھرنے کے لیے لاہور ایئرپورٹ کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا اور بالآخر طیارے کو لاہور ایئرپورٹ پر اتارنے کی اجازت دی گئی۔ تاہم ایندھن بھرنے کے بعد پاکستانی حکام نے طیارے کے پائلٹ کو فوری طور پر لاہور ایئرپورٹ چھوڑنے کا کہا۔ لاہور کے بعد یہ طیارہ دبئی ایئرپورٹ پہنچ گیا اور وہاں ہائی جیکروں نے 27 مسافروں کو طیارے سے اترنے کی اجازت دے دی۔ انڈین حکام نے دبئی ایئرپورٹ پر طیارے کو ہائی جیکروں سے چھڑانے کے لیے متحدہ عرب امارات کے حکام سے کارروائی کے اجازت کی درخواست کی تھی لیکن انھوں نے انکار کر دیا۔ اس کے بعد یہ طیارہ افغانستان کے دوسرے بڑے شہر قندھار کے ایئرپورٹ پہنچا اور ہائی جیکنگ کے اختتام تک وہیں کھڑا رہا۔ تب افغانستان میں طالبان کے سربراہ ملا محمد عمر کی حکومت قائم تھی۔

بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق چونکہ قندھار ایئرپورٹ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے قریب ہے اس لیے مقامی اور بین الاقوامی میڈیا سے تعلق رکھنے والے نمائندے سب سے پہلے کوئٹہ پہنچے۔ کوئٹہ سے جو صحافی سب سے پہلے قندھار پہنچے تھے ان میں کوئٹہ میں بی بی سی پشتو سروس کے ایوب ترین شامل تھے جبکہ ان کے بعد پہنچنے والوں میں سینئر صحافی شہزادہ ذوالفقار اور اے ایف پی سے وابستہ معروف فوٹو گرافر بنارس خان شامل تھے۔ دو دہائیاں گزرنے کے باوجود، ہائی جیکنگ کے شروع سے اختتام تک کے تمام مناظر اب بھی ان افراد کی آنکھوں کے سامنے ہیں۔ ایوب ترین نے بتایا کہ وہ پہلے روز قندھار میں ایک ہوٹل میں ٹھہرے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ ماہِ رمضان میں پیش آیا تھا۔ ’جب ہم سحری کے لیے اٹھے تو ہوٹل میں موجود لوگ ہمیں گھور کر دیکھنے لگے کہ بغیر داڑھی کے یہ مخلوق کہاں سے آئی ہے۔ ہوٹل میں موجود لوگ اس بات سے بے خبر تھے کہ کسی انڈین طیارے کو اغوا کر کے ان کے شہر کے ایئرپورٹ پر لایا گیا ہے۔‘ شہزادہ ذوالفقار نے بتایا کہ انھوں نے قندھار ایئرپورٹ پر جو سب سے عجیب و غریب چیز دیکھی وہ ایک شخص کا سائیکل پر ایئرپورٹ آنا اور اسی سائیکل پر طیارے کے گرد چکر لگانا تھی۔ بنارس خان کے مطابق وہاں سکیورٹی کے فرائض سرانجام دینے والے سائیکل یا موٹر سائیکل پر ہی گشت کرتے تھے۔ ہم اس بات پر حیران تھے کہ ایسے موقعوں پر تو بکتر بند گاڑیاں اور سکیورٹی کے جدید آلے ہونے چاہئیں لیکن ایسا کچھ نہیں تھا۔ شہزادہ ذوالفقار کے مطابق ان کے استفسار پر بتایا گیا کہ جو شخص زیادہ تر سائیکل پر چکر لگاتا تھا وہ ایئرپورٹ کے علاقے کی پولیس میں ایس ایچ او کے رتبے کا اہلکار ہے۔

چونکہ ایئرپورٹ بالخصوص طیارے کے قریب سردی سے بچنے کا کوئی خاطرخواہ انتظام نہیں تھا لہذا جہاز سکیورٹی پر مامور طالبان اہلکاروں نے اس کا حل میدان میں لکڑیاں جلا کر نکالا۔ یہ لکڑیاں بہت زیادہ دور نہیں بلکہ جہاز کے بالکل قریب جلائی جاتی تھیں۔ حالانکہ کسی بھی طیارے کے نیچے آگ جلانا کسی طرح بھی مناسب نہیں ہوتا ہے لیکن طالبان کو اس بات کی بالکل پرواہ نہیں تھی اور وہ خود کر سردی سے بچانے کے لیے طیارے کے بالکل قریب آگ جلاتے رہے۔ اس دوران طالبان نے بتایا کہ انڈین حکومت کی جانب سے ہائی جیکرز کے خلاف کمانڈو ایکشن کا بھی منصوبہ تیار کیا گیا لیکن انھوں نے اس کی اجازت نہیں دی کیوں کہ وہ کسی بھی غیر ملکی فورس کو اپنی سرزمین پر کارروائی کی اجازت نہیں دے سکتے۔ انڈین حکام مذاکرات کے لیے متعدد باہر آئے اور طالبان حکام سے بات چیت کرتے رہے۔ تاہم ہائی جیکرز اپنی ساتھیوں کی رہائی کے بغیر ہوائی جہاز کے مسافروں کو چھوڑنے کے لئے تیار نہیں تھے۔ اس دوران ہائی جیکرز نے ڈیڈ لائن دے کر جہاز کے مسافروں کو ایک ایک کر کے قتل کرنے کی دھمکی دے دے۔ تاہم صرف ایک مسافر کے قتل کے بعد ہی بھارتی حکومت نے گھٹنے ٹیک دئیے اور تینوں گرفتارشدہ پاکستانی عسکریت پسندوں کو رہا کردیا جس کے بعد ہائی جیکرز نے بھی تمام مسافروں کو رہا کر دیا۔

جس روز طیارے کے اغوا کا ڈراپ سین ہوا اس روز انڈیا سے دو طیارے قندھار آئے جن میں سے ایک میں بھارتی وزیر خارجہ جسونت سنگھ سوار تھے اور دوسرے طیارے میں مولانا مسعود اظہر سمیت تینوں عسکریت پسندوں کو لایا گیا تھا۔ ہائی جیکنگ کے ڈراپ سین سے پہلے طیارے کے قریب ایک ایمبولینس آکر کھڑی ہوئی۔ طیارے کے اگلے سائیڈ کی طرف سے پانچ نقاب پوش ہائی جیکرز رسی سے لٹک کر کمانڈوز کی طرح برق رفتاری سے بھاگ کر ایمبولینس میں بیٹھ گئے۔ مولانا مسعود اظہر سمیت رہائی پانے والے تینوں جہادی بھی اسی ایمبولینس میں بیٹھے جن میں ہائی جیکرز تھے۔ ہائی جیکروں اور رہائی پانے والے جہادیوں کو طالبان حکام کی جانب سے یہ حکم تھا کہ وہ دو گھنٹے میں افغانستان چھوڑ دیں۔ لہذا ایسا ہی ہوا اور ایمبولینس ایئرپورٹ کی حدود سے فوری باہر نکل گئی۔ اس واقعہ کے کچھ ہی عرصہ بعد مولانا مسعود اظہر آزاد کشمیر میں منظرعام پر آئے اور اپنی جہادی تنظیم جیش محمد قائم کرنے کا اعلان کیا۔ ائف اے ٹی ایف کی پابندیوں، 2001 کے سرینگر پارلیمنٹ حملے اور 2019 کے پلوامہ حملے میں بھارت کو مطلوب مولانا مسعود اظہر اب منظر عام سے غائب ہیں اور انڈر گراؤنڈ زندگی گزار رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button