بھارتی دہشت گردی کے ثبوت عالمی برداری کے سامنے لانے کااعلان

وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے بھارتی دہشت گردی کے ثبوت عالمی برداری کے سامنے لانے کااعلان کرتے ہوئےکہا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کی کوئی بھی صورت ہو اس میں کہیں نہ کہیں بھارت ملوث ہے اور اس حوالے سے بھارت کی کارروائیاں کسی دشمن ملک سے بھی آگے جا چکی ہیں۔
اسلام آباد میں ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی پنجاب عمران محمود عمران محمود کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے کہا کہ پاکستان کئی دہائیوں سے دہشت گردی کی آگ میں جھلس رہا ہے جو کہ ایک ایسا رجحان ہے جس میں ہم ہر روز نئی صورتحال سے دوچار ہوتے ہیں، پاکستان دہشت گردی کی آگ میں جھلس رہا ہے جہاں پاکستان کے تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں سمیت صحافیوں اور ہر مکتبہ فکر نے قربانیاں دی ہیں اور اس کا شکار رہا ہے، پاکستان میں دہشت گردی کی کوئی بھی صورت ہو اس میں کہیں نہ کہیں بھارت ملوث ہے اور اس حوالے سے بھارت کی کارروائیاں کسی دشمن ملک سے بھی آگے جا چکی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کشمیر میں اپنے بدترین ظلم کو چھپانے کے لیے ایسا کر رہا ہے اور اس ظلم کا جواز پیش کرنے کے لیے نئے بہانے تلاش کرکے بین الاقوامی برادری کی حمایت حاصل کرتے ہیں اور پاکستان میں ہر قسم کی دہشت گردی کو فروغ دیتے ہیں، کلبھوشن یادو کی گرفتاری اور اس کا بیان ہی کافی ہے کہ بھارت کسی نہ کسی طرح پاکستان میں ہر دہشت گردی میں ملوث ہے، جس انداز میں بھارت کو دنیا کے سامنے بے نقاب ہونا چاہیے وہ ہم نہیں کر پائے مگر کچھ حد تک کامیابی ملی ہے، جوہر ٹاؤن میں ہونے والے بم دھماکے میں بھارت کے ملوث ہونے کے واضح ثبوت ملے ہیں جس کے ثبوت بین الاقوامی براداری کو دیے جائیں گے۔
اس موقع پر محکمہ انسداد دہشت گردی پولیس ( سی ٹی ڈی) کے ایڈشنل آئی جی پنجاب عمران محمود نے کہا کہ 23 جون 2021 کو صبح گیارہ بجکر نو منٹ پر لاہور میں جوہر ٹاؤن کے ای بلاک میں ایک گاڑی کے اندر بم دھماکہ ہوا تھا جس کے نتیجے میں 3 شہری جاں بحق اور دو اہلکاروں سمیت 22 عام شہری زخمی ہوئے تھے، آج تک کسی بھی دہشت گرد جماعت نے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی مگر انسداد دہشت گردی پولیس نے اس کا مقدمہ درج کرکے 60 گھنٹوں کے اندر اس معاملہ تک رسائی حاصل کی تھی اور پہلے 24 گھنٹوں میں 3 دہشت گردوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ جوہر ٹاؤن میں گھر کے سامنے گاڑی کھڑی کرنے والے ملزم کی شناخت عید گل سے ہوئی تھی جس کے ساتھ ان کی اہلیہ عائشہ گل کو بھی گرفتار کیا گیا تھا کیونکہ دھماکے کے لیے مواد تیار کرتے وقت خاتون نے کچھ وڈیوز بنائیں تھیں، عید گل کی گرفتاری کے بعد مزکزی ملزم سمیع الحق نامی شخص کی شناخت ہوئی مگر گرفتاری سے بچا ہوا تھا مگر تفتیش کے بعد پتا چلا کہ یہ شخص 2012 سے بھارتی خفیہ ایجنسی را کے لیے کام کرتا تھا اور پاکستان میں دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث تھا۔
انکا کہناتھا گرفتار نہ ہونے کی صورت میں عدالت سے مرکزی ملزم سمیع الحق کی گرفتار کے لیے انٹرپول کے ذریعے ریڈ وارنٹس جاری کیے گئے تھے جس کے بعد خفیہ اطلاعات موصول ہوئیں کہ یہ شخص پاکستان آنے والا ہے اسی طرح پاکستان میں داخل ہوتے وقت اس کو 24 اپریل 2022 کو اپنے ایک ساتھی عزیز اختر کے ہمراہ بلوچستان سے گرفتار کیا گیا، گرفتاری کے بعد اس شخص سے مختلف ممالک کی بھاری مقدار میں کرنسیز بھی برآمد کی گئی تھیں۔
ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی نے کہا کہ تفتیش کے بعد پتا چلا کہ اس تمام کارروائیوں کا اہم کھلاڑی نوید اختر ہے جو جرمانے کے پیسے نہ ہونے کی وجہ سے مشرق وسطیٰ کے ایک ملک میں جیل میں قید تھا جس سے بھارتی خفیہ ایجسنی را کے ہینڈلر نے رابطہ کیا اور کہا کہ ہم جرمانہ ادا کرتے ہیں آپ پاکستان کے خلاف بھارت کے لیے کام کریں اور اسی طرح اس شخص نے رہائی حاصل کرنے کے لیے حامی بھر لی، جیل سے رہائی کے بعد یہ شخص پاکستان پہنچا جس نے جوہر ٹاؤن میں دھماکے کے لیے ریکی کی تھی اور اس کو یہ پتا نہیں تھا کہ عزیر اختر اور سمیع الحق کو بلوچستان سے گرفتار کیا گیا ہے۔
عمران محمود نے بتایاکہ جب سمیع الحق کو گرفتار کیا گیا تو اس نے کہا کہ وہ 10 مئی کو لاہور میں نوید اختر سے ملاقات کرنے جا رہا ہے اور بعدازاں مقررہ وقت پر نوید اختر کو ملاقات کے لیے طے کی گئی جگہ سے گرفتار کیا گیا اور گاڑیاں بھی برآمد کیں جو مزید دہشت گرد کارروائیوں میں استعمال کے لیے خریدی گئیں تھیں، تفتیش کے بعد پتا چلا کہ سمیع الحق کا را کے مختلف ہینڈلرز کے ساتھ رابطہ تھا اور پاکستان میں دہشت گرد کارروائیوں کے لیے بھارت نے مختلف ذرائع سے 8 لاکھ 75 ہزار ڈالرز کے قریب رقم بھیجی تھی، گرفتار ہونے والے پیٹر پال ڈیوڈ، سجاد حسین، عید گل اور ضیا کو عدالت سے تین تین بار سزائے موت ہو چکی ہے جبکہ عائشہ گل کو پانچ سال کی سزا ہو چکی ہے جبکہ سمیع الحق، نوید اختر اور عزیر اختر کا مقدمہ زیر سماعت ہے۔
ایڈشنل آئی نے عمران محمود کہا کہ دہشت کارروائیوں میں ملوث سنجے کمار تواری، وسیم حیدر خان کی گرفتار کے لیے انٹرپول سے وارنٹ جاری ہو چکے ہیں اور ان کا بھارتی پاسپورٹ بھی سامنے آیا ہے جس سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ را ملوث ہے، دہشت کارروائیوں میں ملوث دیگت مرکزی کرداروں کی گرفتاری کے لیے بھی ریڈ وارنٹ لے رہے ہیں، دھماکے میں ملوث دہشت گرد بھارتی شہری اور را کے ایجنٹ ہیں اور بھارت سے ہی ان کے پاسپورٹ جاری ہوئے تھے۔
