بھارتی سفارتی پسپائی: مقبوضہ کشمیرپر سلامتی کونسل کا خصوصی اجلاس

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس ہوا جس میں خصوصی طور پر مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر غور کیا گیا۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس نیویارک میں ہوا۔ اجلاس میں خصوصی طورپرمقبوضہ کشمیرکی صورتحال پرغورکیا گیا۔ پاکستان نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں مسئلہ کشمیر پر بحث کرنے کا خیرمقدم کیا گیا۔ اجلاس بلانے میں برادرممالک چین اور انڈونیشیا نے اہم کردارادا کیا۔ سفارتی ذرائع کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس ان کیمرہ اجلاس تھا۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ سلامتی کونسل کا اجلاس پاکستان کی درخواست پر بلایا گیا۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جموں و کشمیر کی صورتحال پر ایک سال کے دوران سیکیورٹی کونسل کا تیسرا اجلاس ہوا، جس سے بھارت کے اس دعوے کی نفی ہوتی ہے کہ یہ اس کا داخلی معاملہ ہے، بھارتی جرائم کے خلاف آواز اٹھانے پر پاکستان سلامتی کونسل کے رکن ممالک بالخصوص چین کا شکر گزار ہے۔
وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کوخط بھی لکھا تھا، خط میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی توجہ مقبوضہ کشمیرکی صورتحال، بھارت کے مظالم، 5 اگست 2019 کوبھارت کے غیرقانونی و یکطرفہ اقدامات کی جانب مبزول کرائی گئی تھی۔ وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی نے اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل میں کشمیرکے حوالے سے میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ انڈونیشیا سیکیورٹی کونسل کے صدرسے بھی بات ہوئی، سیکیورٹی کونسل کے تمام ممبران کا شکر گزارہوں۔ شاہ محمود قریشی نے کہا انہوں نے اس سال تیسری مرتبہ کشمیر کی صورتحال پر گفتگو کی، میں بے حد ممنون مشکورہوں چین کا جنہوں نے پاکستان کی حوصلہ افزائی کی، پندرہ میں سے 14 ممبران نے اپنے خیالات ریکارڈ کرائے، بہت سے ممالک نے بھی اپنا نقطہ نظرپیش کیا۔ ہمارا موقف پہلے دن سے واضح رہا، کشمیریوں کوواضح پیغام دینا چاہتا ہوں کہ آپ کا مسئلہ حقیقی ہے، پاکستان مسئلے کے حل کیلئے کاوشیں کرتا رہے گا، یہ مسئلہ سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر مسلسل چلتارہا، دوطرفہ بحث سےمعاملات کو آگے بڑھایا جاسکتا ہے۔
دوسری جانب چینی دفتر خارجہ کے ترجمان نے بھارت کے 5 اگست کے غیر قانونی اقدام پر کہا کہ مسئلہ کشمیر پر ہمارا موقف واضح اور مستقل ہے، مسئلہ کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک تنازع ہے، یہ حقیقت سلامتی کونسل کی قراردادوں اور پاک بھارت باہمی معاہدوں سے ثابت شدہ ہے۔
ادھر او آئی سی نے مقبوضہ کشمیر کے محاصرے کو ایک سال مکمل ہونے پر مذمتی بیان جاری کیا ہے۔ اسلامی ممالک کی تنظیم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ 5 اگست 2019 سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال ابتر ہوچکی ہے، اقوام متحدہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیق کرے۔ او آئی سی نے بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب بدلنے سے باز رہنے کا بھی کہا۔
