بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی جاری تین کشمیری شہید

مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے ریاستی دہشت گردی، ظلم و ستم کا سلسلہ جاری، قابض فوج نے ضلع پلوامہ میں گھر گھر تلاشی کے دوران مزید 3 کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا۔
وادی میں مودی سرکار کی جانب سے لگائے گئے کرفیو کو 6 ماہ سے زائد کا عرصہ ہوگیا ہے۔وادی میں گزشتہ سال 5 اگست سے تاحال موبائل اور انٹرنیٹ سمیت تمام مواصلاتی رابطے منقطع ہیں جب کہ حریت قیادت اور سیاسی رہنما بدستور گھروں اور جیلوں میں بند ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق قابض فوج نے تازہ کارروائی کی جس میں ضلع پلوامہ میں محاصرے کے دوران گھر گھر تلاشی کی آڑ میں تین کشمیری نوجوان کو فائرنگ کرکے شہید کردیا۔
خیال رہے کہ سال 2019 بھی کشمیریوں کےلیے گزشتہ 70 سالوں کی طرح سفاکانہ اور اذیت ناک رہا، سال 2019 میں 210 کشمیریوں کو شہید اور 2417 کو زخمی کیا گیا جب کہ 12 ہزار 892 کو گرفتار کیا گیا۔
کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ گزشتہ سال شہید ہونے والوں میں 3 خواتین اور 9 کم عمر لڑکے بھی شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 16کشمیریوں کو جعلی مقابلوں یا دوران حراست تشدد سے شہید کیا گیا، زخمیوں میں سے827 افراد پیلٹ گن کا نشانہ بنے اور بھارتی فورسزکے ہاتھوں چھروں کا نشانہ بننے والے 162 کشمیری بینائی سے محروم ہوگئے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہےکہ کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت 662 افراد کو گرفتار کیا گیا۔
بھارت نے 5 اگست 2019 کو راجیہ سبھا میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا بل پیش کرنے سے قبل ہی صدارتی حکم نامے کے ذریعے کشمیر کی خصوصی حیثیت دینے والے آئین کے آرٹیکل آرٹیکل 370 کو ختم کردیا اور ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر کو وفاق کے زیرِ انتظام دو حصوں یعنی (UNION TERRITORIES) میں تقسیم کر دیا جس کے تحت پہلا حصہ لداخ جب کہ دوسرا جموں اور کشمیر پر مشتمل ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button