بھارت اور افغانستان کے تعلقات میں طالبان کا کردار

حالیہ دنوں میں ذرائع ابلاغ پر چند ایسی خبریں گردش کرتی رہی ہیں جن میں بعض میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ افغان طالبان نے انڈیا میں کارروائیاں کرنے کا اعلان کیا ہے جب کہ بعض میں کہا گیا کہ طالبان کی جانب سے انڈیا کو مذاکرات کی پیشکش کی گئی۔
انڈیا میں کارروائیوں سے متعلق بیان افغان طالبان کے چیف مذاکرات کار شیر محمد عباس ستانکزئی کے نام سے چلنے والے ایک ٹوئٹر اکاؤنٹ کے ذریعے شیئر کیا گیا تھا۔ اس بیان میں دھمکی دی گئی تھی کہ طالبان عیدالفطر کے بعد انڈیا میں اپنی کارروائیاں شروع کریں گے۔
تاہم منگل کی صبح افغان طالبان کے قطر میں قائم سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر کے ذریعے طالبان سے منسوب اس بیان سے اظہار لاتعلقی کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’اسلامی امارت کی پالیسی بہت واضح ہے اور وہ یہ ہے کہ (اسلامی امارات) دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت پر یقین نہیں رکھتیں۔‘
افغان طالبان کے چیف مذاکرات کار شیر محمد عباس ستانکزئی نے بھی واضح کیا ہے کہ ان کا کوئی ٹوئٹر اکاؤنٹ نہیں ہے جب کہ افغانستان میں طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بھی ستانکزئی کے ٹوئٹر اکاؤنٹ کو جعلی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس اکاؤنٹ کو کوئی اہمیت نہ دی جائے۔ حال ہی میں بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں شیر محمد عباس ستانکزئی نے کہا تھا کہ انڈیا اگر اپنی پالیسی میں تبدیلی لائے تو مذاکرات ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک بشمول افغانستان کے ہمسایہ ممالک افغانستان میں جنگ کے خاتمے، قیام امن اور غیر ملکی افواج کے انخلا میں اپنا کردار ادا کریں۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ انڈیا کو بھی چاہیے کہ وہ افغانستان کے بارے میں اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرے اور اگر انڈیا کی حکومت افغانستان میں قیام امن اور اس جنگ زدہ ملک کی ترقی میں کردار ادا کرنا چاہے تو وہ اسے خوش آئند قرار دیں گے۔ انڈیا کے سابق سفیر راجیو ڈوگرا کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں انڈیا اور افغانستان کے تعلقات میں طالبان کے کردار کے حوالے سے ایک نیا موڑ آیا ہے یا باالفاظ دیگر ’نیا موڑ‘ لانے کی کوششیں کی جا رہی ہے۔
یاد رہے کہ افغانستان کے امور پر امریکہ کے خصوصی مشیر زلمے خلیل زاد حال ہی میں انڈیا کے دورے پر آئے ہوئے تھے اور انڈین ذرائع ابلاغ کے مطابق انہوں نے انڈیا کے سفارتکاروں اور وزرات خارجہ کے عہدیداروں پر زور دیا تھا کہ انڈیا کو طالبان سے بات کرنی چاہیے۔
راجیو ڈوگرا کا کہنا تھا کہ دراصل امریکہ ایسا اس لیے چاہتا ہے کیوں کہ وہ افغانستان سے محفوظ انخلا چاہتا ہے اور امریکہ کی خواہش ہے کہ پاکستان اس سے متعلق جتنی جلدی اپنی رضامندی ظاہر کر دے اتنا ہی بہتر ہوگا۔ ان کے مطابق طالبان کے معاملے میں ’یہ بات واضح ہے کہ اسے پاکستان کی آئی ایس آئی ہینڈل کرتی ہے لیکن آئی ایس آئی کے طریقے میں بھی بدلاؤ آیا ہے اور وہ یہ کہ جہاں سنہ 2001 میں وہ صرف ایک طالبان کی حمایت کر رہی تھی آج وہ اس کے کئی دھڑوں کی حمایت کرتی ہے، تاکہ اگر کوئی ایک گروہ ان کی نہ سنے تو وہ دوسرے کا استعمال کریں۔‘ سابق انڈین سفارت کار کا کہنا ہے کہ طالبان کی جانب سے اںڈیا کے خلاف نرمی کو ہم تسلیم نہیں کر سکتے کیوں کہ یہ ایک سچائی ہے کہ اس نے افغانستان میں انڈیا کے سفارت خانے کو بم سے اڑانے کی کوشش کی تھی یا پھر گزشتہ دنوں جو گرودوارے پر حملہ ہوا وہ بھی انہوں نے ہی کیا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان میں بھی تبدیلیاں آ رہی ہیں جہاں حال ہی میں اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کے دھڑوں میں اتحاد قائم ہوا ہے جس سے وہاں خونریزی میں اضافے کا امکان ہے اور امریکہ یہ نہیں چاہتا ہے کیوں کہ اسے وہاں سے بحفاظت نکلنا ہے۔ دوسری جانب افغان امور پر لکھنے والے سینئر صحافی عقیل یوسفزئی نے کہا ہے کہ حالیہ بیانات اہم پیش رفت ہیں کیوں کہ انڈیا کا طالبان کی پالیسیوں کے خلاف رویہ جارحانہ رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ طالبان نے افغانستان میں انڈیا کے کردار کو کبھی تسلیم نہیں کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ انڈیا افغانستان میں بائیں بازو کی جمہوریت پسند جماعتوں یا ایسے گروپس کی حمایت کرتا رہا ہے جو زیادہ آزاد پالیسیاں رکھتے رہے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اب امریکہ کی طالبان کے حوالے سے پالیسی میں تبدیلی آئی ہے اور امریکہ کے افغانستان کےلیے نمائندے زلمے خلیل زاد نے گزشتہ دنوں اس خطے کا دورہ کیا تھا۔ انڈیا کے دورے کے دوران ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ انڈیا کو چاہیے کہ وہ براہ راست طالبان کے ساتھ مذاکرات کرے۔
افغانستان میں قیام امن کےلیے امریکہ اور طالبان نے رواں برس 29 فروری کو قطر میں ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت طالبان اور افغان حکومت کے قیدیوں کی رہائی، بین الافغان مذاکرات اور پھر عالمی سطح پر بات چیت کے ذریعے ایک قومی حکومت کا قیام عمل میں لانا ہے۔ اس معاہدے پر اب تک صرف اتنا عملدرآمد ہوا ہے کہ دونوں جانب سے کچھ قیدیوں کو رہا کیا گیا ہے لیکن بڑی تعداد میں قیدیوں کی رہائی کا عمل اب تک باقی ہے۔ قطر میں طے کیے گئے اس امن معاہدے پر دستخط کی تقریب میں بیشتر ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی تھی لیکن انڈیا اور ایران کی نمائندگی وہاں موجود نہیں تھی۔
عقیل یوسفزئی کے مطابق اب حالیہ دنوں میں افغانستان میں صدر اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کے درمیان معاہدہ طے پا گیا ہے اور اس معاہدے میں ایران کے وزیر خارجہ کا اہم کردار رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button