بھارت مجھ سے اقتدارچھیننے کی سازش کررہا ہے، نیپالی وزیراعظم

نیپال کے وزیراعظم کے پی شرما اولی نے بھارت پر الزام عائد کردیا ہے کہ انہیں ہٹانے کے لیے سیاسی حریف کے ساتھ مل کر سازش کی جارہی ہے۔
بھارتی نیوز ایجنسی پریس ٹرسٹ آف انڈیا (پی ٹی آئی) کے مطابق کے پی شرما اولی نے ایک سرکاری تقریب کے دوران کہا کہ ‘مجھے اقتدار سے ہٹانے کی کوشش کی جارہی ہیں لیکن وہ کامیاب نہیں ہوں گے’۔اسکرول ان کی رپورٹ کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ ‘میں خفیہ چلنے والی تحریک کو جان چکا ہوں، سفارت خانوں اور ہوٹلوں میں مختلف قسم کی سرگرمیاں ہوتی رہی ہیں’۔
انہوں نے کہا کہ ‘اگر آپ نئی دہلی کے میڈیا کوسن رہے ہیں تو آپ کو اس کا اشارہ مل جائے گا’۔نیپالی وزیراعظم کا بیان پارلیمنٹ کی جانب سے لیپولیکھ پہاڑیوں، کالاپانی اور لیمیادھورا کو اپنےنقشے میں شامل کرنے کی منظور کے ایک ہفتے بعد سامنے آیا ہے۔ نقشے میں شامل یہ علاقے بھارت اور نیپال کے درمیان سرحدی تنازع کی بنیادی وجہ ہیں۔
انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق نیپال کے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ‘آپ سب کومعلوم ہوناچاہیے کہ نیپالی قوم کمزور نہیں ہے کہ بیرونی فورسزکوالٹ دے گی’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم اپنے نقشے کو تبدیل کرچکے ہیں اور اگر ملک کے وزیراعظم کو ہٹا دیا جاتا ہے تو وہ نیپال کے لیے ناقابل فہم ہوگا’۔
میڈیا کی رپورٹس کے مطابق وزیراعظم کے پی شرما اولی اور کمیونسٹ پارٹی کے ایگزیکٹیو چیئرپرسن پشپا کمال داہل پراچندا کے درمیان پارٹی کی قیادت پر اختلافات پیدا ہوئے تھے۔دونوں رہنماؤں کے درمیان اختلافات پارٹی کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے اجلاس میں بھی سامنے آئے تھے جہاں اولی کو پارٹی کے دو اجلاس میں شرکت نہ کرنے پر تنقید کاسامنا کرنا پڑا تھا جبکہ گزشتہ اجلاس میں انہوں نے مختصر شرکت کی تھی۔نیپال اور بھارت کے درمیان سرحدی تنازع گزشتہ چند ماہ سے چل رہا ہے جبکہ بھارت نے لیپولیکھ پہاڑیاں، کالاپانی اور لیمپیادھورا کے علاقوں کو اپنے نقشے میں شامل کرنے کے نیپال کے اقدام پر عتراض کیا تھا۔
دوسری جانب نیپال کا مؤقف ہے کہ مسلسل اعتراضات کے باوجود بھارت دارچولا-لیپولیکھ راہداری پردعویٰ کرتا ہے جبکہ بھارت کا دعویٰ ہے کہ راہداری ان کے خطے کے اندر ہے۔خیال رہے کہ نیپال کی پارلیمنٹ نے ایک ہفتے قبل ملک کے نئے نقشے کی منظوری دی تھی جس میں بھارت کے ساتھ متنازع کہلانے والے علاقوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔نیپال کی پارلیمنٹ کے اسپیکر کا کہنا تھا کہ ایوان زیریں میں متنازع علاقوں کو بھی شامل کرکے نئے نقشے کی منظوری دے دی ہے۔نیپال کی پارلیمنٹ کے اسپیکر آگنی پراساد سیپکوٹا کا کہنا تھا کہ نئے نقشے کی منظوری 275 اراکین میں سے 258 نے دی جو دو تہائی سے زیادہ تعداد ہے۔
بھارت اور نیپال کے درمیان کم از کم 200 سال سے دونوں ممالک کی سرحد پر موجود (کالا پانی علاقہ) کے نام سے موجود علاقے پر کشیدگی جاری ہے۔تاریخی لحاظ سے یہ علاقہ نیپال کا حصہ تھا مگر 1816 میں ریاست نیپال اور اس وقت متحدہ ہندوستان کی برٹش انڈین حکومت کے درمیان اس علاقے سے متعلق ایک معاہدہ ہوا جسے سگولی معاہدے کا نام دیا گیا۔
اس معاہدے کے تحت نیپال کی ریاست، کالاپانی کے علاقے پر اپنی ملکیت کے دعوے سے دستبرداری ہوگئی تھی مگر ساتھ ہی معاہدے کے تحت کچھ حقوق نیپال کو بھی دیے گئے تھے، علاوہ ازیں نیپال کی ریاست کو برٹش انڈین حکومت نے بدلے میں دوسرے علاقوں تک بھی رسائی دی تھی۔مگر 150 سال بعد جب متحدہ ہندوستان کی تقسیم ہوئی اور بھارت ایک الگ ملک بنا تو اس نے دیگر علاقوں کی طرح اس علاقے کو بھی اپنی حدود میں شامل کرلیا مگر نیپال نے اس وقت سے ہی اس پر احتجاج شروع کردیا تھا۔
بھارتی حکومت کا مؤقف ہے کہ 1816 میں ہونے والے معاہدے کے تحت اب کالا پانی کا علاقہ اس کی ملکیت ہے جب کہ نیپال کا مؤقف ہے کہ اس علاقے کی اصل ملکیت نیپال کے پاس ہی ہے مگر معاہدے کےتحت اس کے بعض انتظامات بھارت سنبھال سکتا ہےلیکن حال ہی میں اس معاملے پر اس وقت دونوں ممالک میں کشیدگی دیکھی گئی جب بھارتی حکومت نے اس علاقے میں ایک روڈ بنانے کا افتتاح کیا تھا جو چین اور بھارت کو ملاتا ہے۔بھارت کی جانب سے متنازع علاقے کو اپنی ملکیت سمجھ کر نیپال سے تجویز لیے بغیر ہی روڈ بنانے پر نیپال نے برہمی کا اظہار کیا اور نیپالی حکومت نے ایک ایسا نقشہ جاری کردیا جس میں کالاپانی کے علاقے کو نیپال کا حصہ دکھایا گیا تھا۔
کالا پانی کا علاقہ زمینی طور پر بھارت کی ریاست اترا کھنڈ اور نیپال کے صوبے سدر پشچم پردیش کے درمیان واقع ہے اور دلچسپ بات ہے کہ ان دونوں ممالک کی سرحد کے ساتھ چین کا متنازع علاقہ تبت بھی واقع ہے، جس پر بھی بھارت اور چین کے درمیان تنازع چل رہا ہے۔ کالا پانی کا علاقہ لمپیادھورا اور لپولیکھ نامی علاقوں کا ایک مجموعہ ہے اور یہ علاقے ہمالیہ پہاڑوں کے دامن میں تین ممالک یعنی نیپال، بھارت اور چین کی سرحد پر واقع ہے، جس کی وجہ سے تینوں ممالک میں کشیدگی جاری رہتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button