بھارت میں بوائز لاکر روم گینگ ریپ سکینڈل کی گونج

بھارت میں اگرچہ ماضی میں سوشل میڈیا پر خواتین کی تضحیک کرنے، ان کے خلاف نامناسب زبان استعمال کرنے اور انہیں ریپ سمیت قتل کی دھمکیاں دیے جانے کے مسائل سامنے آتے رہے ہیں، تاہم اب ایک ’بوائز لاکر روم‘ نامی سوشل میڈیا اسکینڈل سامنے آیا ہے جس کے مطابق ‘بوائز’ نوجوان لڑکیوں کے گینگ ریپ کا منصوبہ بناتے پکڑے گئے۔
’بوائز لاکر روم‘ دراصل سوشل شیئرنگ ایپلی کیشن انسٹاگرام پر دو درجن کے لڑکوں کی جانب سے بنایا جانے والا چیٹ گروپ کا نام ہے، جس کے اسکرین شاٹ بھارتی سوشل میڈیا پر سامنے آنے کے بعد ہنگامہ کھڑا ہوگیا۔ بھارتی اخبار انڈیا ٹوڈے کے مطابق ’بوائز لاکر روم‘ نامی چیٹ گروپ میں 18 سال کی عمر تک کے 20 لڑکے شامل تھے جو اس چیٹ گروپ میں خواتین، طالبات اور کم عمر لڑکیوں کی تصاویر شیئر کرنے اور ان کے جسمانی خدوخال پر فقرے کسنے کے علاوہ ان کا گینگ ریپ کرنے کے منصوبے بناتے پائے گئے۔
اس چیٹ گروپ کے ممبران دہلی کے تین اعلیٰ و مہنگے نجی اسکولوں کے طالب علم تھے اور زیادہ تر کی عمریں 15 سے 18 سال کے درمیان ہیں۔ مذکورہ گروپ میں لڑکوں کی جانب سے اپنے اسکول کی لڑکیوں سمیت دیگر خواتین اور کم عمر لڑکیوں کی تصاویر شیئر کی جاتی رہیں اور پھر ان تصاویر پر لڑکوں کی جانب سے جنسی جملے کسے جاتے رہے۔’بوائز لاکر روم‘ نامی چیٹ کے ارکان لڑکی کی تصویر شیئر کیے جانے کے بعد ان کے جسمانی خدوخال پر بات کرتے اور ایک دوسرے کو لڑکی کا گینگ ریپ کرنے پر اکسانے سمیت دیگر طرح کی جنسی استحصال کی باتیں کرتے۔اس چیٹ گروپ کا پہلا اسکرین شاٹ 3 مئی کو ایک خاتون نے سوشل میڈیا پر شیئر کیا تھا، جس میں لڑکوں کی جانب سے کسی خاتون کا گینگ ریپ کیے جانے کی باتیں کی جا رہی تھیں۔
سامنے آنے والے اسکرین شاٹ میں واضح طور پر پڑھا جا سکتا ہے کہ ارکان ایک دوسرے کو کہہ رہے ہیں کہ وہ آسانی سے خاتون کا گینگ ریپ کردیں گے۔ اس چیٹ میں ایک لڑکااپنے ساتھی ارکان کو کہتا ہے کہ وہ دوسرے ساتھیوں کو بھی گینگ ریپ کے لیے ساتھ لائے گا۔ اسکرین شاٹ سامنے آنے کے بعد ’بوائز لاکر روم‘ پر سیاسی، سماجی، انسانی حقوق کی شخصیات سمیت بولی وڈ شخصیات نے بھی برہمی و غصے کا اظہار کیا اور ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
انڈیا ٹوڈے نے اپنی ایک اور خبر میں بتایا کہ دہلی پولیس نے یہ سکینڈل سامنے آنے کے بعد کارروائی کرتے ہوئے 6 مئی کی دوپہر کو مذکورہ گروپ کے ایڈمن کو گرفتار کرلیا اور ابتدائی تفتیش سے پتہ چلا ہے کہ وہ ایک طالبعلم ہے جو نابالغ نہیں۔ گروپ کے ایڈمن کی گرفتاری کے بعد اب خیال کیا جا رہا ہے کہ مزید ارکان کو بھی گرفتار کیا جا سکے گا، پولیس نے ایڈمن کی گرفتاری کے بعد معاملے کی تفتیش کا دائرہ بڑھاتے ہوئے گروپ میں شیئر کی جانے والی خواتین اور لڑکیوں کی تصاویر سے متعلق جانچ کرنا شروع کردی۔
پولیس نے چیٹ روم تک رسائی کے لیے فیس بک انتظامیہ کو بھی خط لکھ دیا ہے۔
پولیس کے مطابق اب تک ہونے والی ابتدائی تفتیش سے ’بوائز لاکر روم‘ کے تمام ارکان کی نشاندہی کی جا چکی ہے، تاہم تاحال صرف ایک ہی رکن کو گرفتار کیا جا سکا ہے۔ پولیس نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے خود ہی سوشل میڈیا پر معاملہ سامنے آنے کے بعد نوٹس لیتے ہوئے کارروائی کی ہے اور تمام ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ دوسری جانب دہلی کمیشن فار وویمن کی چیئرپرسن سواتی جین نے بھی اپنی ویڈیو میں پولیس سے مطالبہ کیا کہ وہ تمام ملزمان کو گرفتار کرکے ’بوائز لاکر روم‘ میں شامل تمام ارکان کے اصل نام، اکاؤنٹ نام، گھر کا ایڈریس اور فون نمبرز بھی فراہم کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بات انتہائی خطرناک ہے کہ نوجوان لڑکے خواتین اور خاص طور پر کم عمر لڑکیوں کے گینگ ریپ کی باتیں کر رہے ہیں۔
