بھارت میں بھی تبلیغی جماعت کرونا پھیلانے کی ذمہ دار قرار

تبلیغی جماعت کے لوگوں نے صرف پاکستان میں ہی کرونا وائرس کے پھیلاؤ میں کردار ادا نہیں کیا بلکہ بھارت کو بھی اسی طرح کی صورتحال کا سامنا ہے۔ بھارت میں تبلیغی جماعت کے تین روزہ اجتماع میں شریک سینکڑوں افراد میں کرونا وائرس کی تشخیص کے بعد ملک بھر میں تبلیغی جماعت کے ارکان کی تلاش اور انہیں قرنطینہ کرنے کا سلسلہ زور پکڑ گیا۔ پاکستان کی طرح بھارت میں بھی حکام نے تبلیغی جماعت والوں کو کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیش نظر اپنا اجتماع ملتوی کرنے کی درخواست کی تھی لیکن وہ نہیں مانے۔ حال ہی میں منعقدہ تبلیغی اجتماع کے اختتام پر متعدد شرکا اپنے گھروں اور ریاستی شہروں کو لوٹ گئے لیکن سینکڑوں لاک ڈاؤن کی وجہ سے پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش کے بعد نئی دہلی کے مغربی علاقے میں قائم ناظم الدین تبلیغی مرکز میں ہی رک گئے تھے جہاں اب سینکڑوں افراد میں کرونا وائرس کی تشخیص ہو گئی ہے۔ کچھ اسی طرح کی صورتحال کا سامنا رائیونڈ تبلیغی اجتماع کے شرکاء کو کرنا پڑا جب لاک ڈاؤن کے باعث 22 سو کے قریب تبلیغی لوگوں نے رائیونڈ کے مرکز میں ہی قیام کا فیصلہ کیا۔ اب ان میں سے سینکڑوں کو کرونا وائرس کی تشخیص ہو چکی ہے جنہیں کالا شاہ کاکو کے آئسولیشن یونٹ میں شفٹ کر دیا گیا ہے اور رائیونڈ کے علاقے کو مکمل لاک ڈاون کر دیا گیا ہے۔
دوسری طرف بھارت میں دہلی کے وزیر صحت ستیندر جین نے صحافیوں کو بتایا کہ پولیس نے علاقے سے ایک ہزار سے زیادہ کرونا سے متائثرہ تبلیغی جماعت کے ارکان کو مذکورہ علاقے سے بسوں کے ذریعے منتقل کیا۔ انہوں نے بتایا کہ 335 افراد کو ہسپتال میں داخل کرایا گیا اور باقی افراد کو قرنطینہ میں منتقل کردیا گیا۔ اس ضمن میں حکام نے بتایا کہ گزشتہ دنوں جنوبی تلنگانہ ریاست میں 6 اور دہلی میں 3 سمیت تبلیغی جماعت کے کم از کم 10 ارکان انتقال کرگئے ہیں۔ پریس ٹرسٹ آف انڈیا نے بتایا کہ مذکورہ پروگرام میں تقریباً 8 ہزار تبلیغی شرکا نے حصہ لیا تھا جس میں سے ایک ہزار شرکا تلنگانہ ریاست سے تھے۔ دیگر ریاستوں اور علاقوں میں ہونے والے انفیکشن کو بھی اجتماع سے جوڑا دیا گیا ہے۔ اس مجمع میں تقریباً 300 غیر ملکی شریک ہوئے جن کے بارے میں فوری طور پر پتہ نہیں چل سکا۔
وزیر صحت ستیندر جین نے اس تقریب کے بارے میں کہا کہ ایک سنگین جرم کا ارتکاب ہوا۔ ادھر تبلیغی جماعت کے مرکز کی جانب سے زور دیا گیا کہ انہوں نے حکومتی ہدایت کی پاسداری کی تھی۔ ان کی جانب سے کہا گیا کہ 25 مارچ کو ملک بھر مین کرفیو نافذ کرنے کے نتیجے میں پبلک ٹرانسپورٹ بند ہوگئی تھی اور تبلیغی جماعت کے ارکان پھنس گئے تھے۔ جماعت کے ایک ممبر مشرف علی نے صحافیوں کو بتایا کہ ہم مسئلے کی سنجیدگی سے واقف تھے، ہم نے شرکا کی آمد و رفت کا انتظام کرنے کے لیے حکام سے بھی رابطہ کیا تھا۔ ابھی یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا بھارت میں کورونا وائرس پھیلنے کی دوسری وجہ کو ملائیشیا میں ہونے والے تبلیغی جماعت کے اجتماع کے ساتھ بھی جوڑا جارہا ہے جو 27 فروری سے یکم مارچ تک منعقد ہوا تھا۔
واضح رہے کہ ملائیشیا میں کورونا وائرس کے سامنے آنے والے کیسز میں سے تقریباً 2 ہزار 626 کا تعلق مذکورہ اجتماع سے رہا جس میں 16 ہزار لوگوں نے شرکت کی تھی اور اس میں 15 سو غیر ملکی شامل تھے۔ واضح رہے بھارتی وزیر اعظم نے 22 مارچ کو ملک میں 14 گھنٹے کے لیے ‘جنتا کرفیو’ نافذ کیا تاہم اگلے ہی دن تبلیغی مرکز میں شامل ہونے والے 1500 افراد وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہوگئے اور وہ بھارت کی مختلف ریاستوں اور شہروں میں پھیل گئے اور ایک ہزار سے زائد افراد مرکز میں موجود رہے۔ حکومت نے 25 مارچ کو ناظم الدین تبلیغی مرکز کے علاقے کو سیل کرکے اسے قرنطینہ میں تبدیل کردیا جب کہ وہاں مقیم تمام افراد کے ٹیسٹ کیے جارہے ہیں۔ تبلیغی مرکز میں موجود افراد کے دیگر ریاستوں میں پھیلنے کے بعد ہریانہ سے لے کر تلنگانہ، مقبوضہ کشمیر سے لے کر انڈمان جزائر، اترپردیش سے لے کر تامل ناڈو، مدھیا پردیش سے لے کر کرناٹکا اور آندھرا پردیش میں بھی تبلیغی افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button