بھارت میں تبلیغی سربراہ کے خلاف کرونا ہلاکتوں کا کیس درج

مودی سرکار نے مسلمانوں سے نفرت کی اپنی پالیسی آگے بڑھاتے ہوئے بھارتی تبلیغی جماعت کے سربراہ کے خلاف تبلیغی اجتماع کے ذریعے ملک بھر میں کرونا وائرس پھیلانے کے الزام میں قتل کے مترادف الزامات عائد کردئیے ہیں۔
بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ تبلیغی جماعت کا اجتماع ملک میں وسیع پیمانے پر کرونا وائرس پھیلانے کا باعث بنا۔ تاہم بھارت کی تبلیغی جماعت نے ان الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اپنے سربراہ کے خلاف مقدمے کے اندراج کو مودی سرکارکی مسلمان مخالف پالیسیوں کا شاخسانہ قرار دیا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق دہلی کے ایک کونے میں قائم تبلیغی جماعت کے مرکز کو سیل کردیا گیا ہے جبکہ اس تنظٰیم کے ہزاروں اراکین بشمول انڈونیشیا، ملائشیا اور بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے افراد کو قرنطینہ میں رکھ دیا گیا ہے۔
دہلی پولیس کے ایک پولیس ترجمان نے بتایا کہ ابتدائی طور پر مرکز کے چیف سعد قندھلوی کے خلاف بڑے اجتماعات پر پابندی کی خلاف ورزی کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا تھا لیکن اب انہوں نے مجرمانہ قتل عام کی دفعات بھی اس میں شامل کرلی ہیں۔ دہلی پولیس نے پہلے تبلیغی جماعت کے سربراہ کے خلاف ایف آئی آر درج کی تھی جس میں ’اب دفعہ 304 کو شامل کیا گیا ہے‘ جس میں مجرمانہ قتل عام کا ذکر ہے اور اس کے تحت زیادہ سے زیادہ 10 سال قید کی سزا سنائی جاتی ہے۔
یاد ریے کہ تبلیغی جماعت 80 سے زیادہ ممالک میں مسلمان پیروکاروں کے ساتھ دنیا کی سب سے بڑی سنی مسلمان مذہبی تنظیم ہے۔ بھارتی حکام نے ابتدا میں کہا تھا کہ اس وقت تقریباً وائرس کے 3 ہزار کیسز میں سے ایک تہائی یا تو وہ لوگ تھے جو تبلیغی اجتماع میں شریک ہوئے تھے یا وہ لوگ جن کا بعد میں ان سے رابطہ ہوا تھا۔ اب تک بھارت میں کورونا وائرس کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد بڑھ کر 12 ہزار 380 ہوگئی ہے جن میں سے 414 افراد ہلاک بھی ہوچکے ہیں۔ شہری حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق دہلی کے کرونا وائرس کے ایک ہزار 561 کیسز میں سے ایک ہزار 80 کا تعلق اس تنظیم کے اجتماع سے تھا۔ تبلیغی انتظامیہ نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ دہلی کے تاریخی نظام الدین مرکز کا دورہ کرنے والے پیروکار حکومت کی جانب سے 3 ہفتوں کے لاک ڈاؤن کے اعلان کے بعد پھنس گئے تھے اور مرکز نے انہیں پناہ دی تھی۔
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کے ناقدین نے مسلمانوں پر کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا الزام عائد کرکے فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرنے کے خلاف حکومت کو خبردار کیا ہے۔ ناقدین کا کہنا یے کہ بلاشبہ پاکستان کی طرح انڈیا میں بھی تبلیغی جماعت سے وابستہ افراد کی جانب سے احتیاط نہ برتنے کے باعث کرونا وائرس تیزی سے پھیلا ہے لیکن مودی حکومت یہ ثابت کرنے کی کوشش کررہی ہے کہ جیسے تبلیغی جماعت والوں نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اس مہلک وائرس کو پورے ملک میں پھیلانے کی کوشش کی۔
یاد رہے کہ جس طرح پاکستان میں ہر سال تبلیغی اجتماع ہوتا ہے اسی طرح بھارت میں بھی تبلیغی جماعت ایک سالانہ اجتماع عام منعقد کرتی ہے۔ جس پر اس برس کرونا وائرس پھیلانے کا الزام لگ گیا یے۔ تاہم تبلیغی جماعت والوں کا کہنا ہے کہ کوئی بھی ذی شعور شخص یا جماعت جان لیوا کرونا وائرس کسی منصوبہ بندی کے تحت نہیں پھیلا سکتا لیکن مسلمان مخالف مودی حکومت یہ الزام تبلیغیوں کے سر پر تھوپ رہی ہے۔
