بھارت نے آزاد کشمیر اور گلگت کو اپنا علاقہ قرار دے دیا

بھارت کی مودی سرکار نے جموں کشمیر پر اپنا قبضہ جمانے کے بعد اب پاکستان کے زیر انتظام آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے علاقوں کو بھی اپنی ملکیت قرار دے کر دوردرشن ٹی وی اور آل انڈیا ریڈیو پر روزانہ ان علاقوں کے موسم کی پیش گوئی کرنا بھی شروع کر دی ہے۔
یہ پہلی بار ہے جب بھارت کے محکمہ موسمیات نے گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے شہروں میرپور اور مظفرآباد کے موسم کی خبریں دینا شروع کی ہیں۔ اب بھارت کے محکمہ موسمیات آئی آیم ڈی کی ویب سائٹ پر شمال مغربی سب ڈویژن کے تحت مظفرآباد، سکردو اور وادی نیلم کے موسم کی خبر بھی روزانہ دی جا رہی ہے۔ اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے آئی ایم ڈی کے سربراہ مرتونجے موہا پاترا کا کہنا ہے کہ محکمہ موسمیات پورے جموں و کشمیر اور لداخ کے خطے کے موسم کی خبریں جاری کرتا ہے۔ ہم موسم کی خبروں میں گلگت بلتستان اور مظفرآباد کا ذکر کر رہے ہیں کیونکہ یہ انڈیا کا حصہ ہیں۔‘
بھارتی حکومت کی طرف سے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو اپنا علاقہ ظاہر کرنے کا فیصلہ حال ہی میں پاکستان کی سپریم کورٹ کی جانب سے گلگت بلتستان میں انتخابات کے انعقاد کی منظوری کے فیصلے کے فوری بعد کیا گیا ہے۔ قبل ازیں انڈیا کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے ستمبر 2019 میں کہا تھا پاکستان کا زیر انتظام کشمیر ’انڈیا کی ملکیت ہے اور ہم یہ توقع کرتے ہیں کہ ایک دن یہ باضاطہ طور پر انڈیا کا حصہ بن جائے گا۔‘
بھارتی قومی نشریاتی ادارے پر آزاد کشمیر اور گلگت کی خبروں کے نشر کئے جانے کے حوالے سے بعض ماہرین کا خیال ہے کہ یہ پاکستان کے بارے میں انڈیا کے موقف میں ایک بڑی تبدیلی کا اشارہ ہے۔
بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز نے اپنی ایک رپورٹ میں بعض سرکاری اہلکاروں کے حوالے سے لکھا ہے کہ پاکستان کے زیر انتظام علاقوں کو ’انڈیا کے موسم کی خبروں میں شامل کرنے کا یہ تصور قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈووال کا ہے۔ اس بارے میں ایک باضابطہ تجویز تین مہینے پہلے تیار کی گئی تھی۔ اسے قومی سلامتی کے نائب مشیر کے دفتر سے خارجہ اور داخلہ سکریٹریوں کے پاس بھیجا گیا۔ اسے انٹیلی جنس بیورو اور ریسرچ اینڈ انیلیسِس وِنگ را کے پاس بھی بھیجا گیا۔ تاہم اس کی حتمی منظوری اب آئی۔ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بھارتی قدم کا بنیادی مقصد یہ پیغام دینا ہے کہ ‘یہ ہمارا علاقہ ہے ور بھارت پاکستان کو یہ واضح پیغام دینا چاہتا ہے کہ ‘اسلام آباد جموں وکشمیر کے 86 ہزار مربع کلومیٹر کے کشمیری رقبے پر غیر قانونی طور پر قابض ہے اور بھارت یہ قبضہ واگزار کروا کر رہے گا۔’
واضح رہے کہ کرونا وائرس کی عالمی وبا کی وجہ سے انڈیا اور اس کے زیر انتظام کشمیر میں مکمل لاک ڈاؤن نافذ ہے جبکہ بھارت کو ڈومیسائل لاء جیسے نئے قوانین کے نفاذ می وجہ سے مقامی حریت پسندوں کی وجہ سے بھی شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔ دلی میں دائیں بازو کے حامی ٹی وی چینلوں نے کشمیر سے متعلق حکومت کے اقدامات کی ستائش کی ہے۔ کشمیر میں شدت پسند تنظیم حزب المجاہدین کے چیف آپریشنل کمانڈر ریاض نائیکو کی ہلاکت کے بعد حزب المجاہدین اور جیش محمد کے حوالے سے پاکستان ان دنوں ایک بار پھر ٹی وی چینلوں پر خبروں میں آنے لگا ہے۔
اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے پاکستانی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان بھی جموں کشمیر کی طرح پاکستان کا حصہ ہیں اور بھارت کی طرف سے بے بنیاد دعوے کرنے سے یہ علاقے اس کا حصہ نہیں بن سکتے۔
