بھارت پر امریکی ٹیرف ختم کرنے کے لیے کانگریس میں قرارداد پیش

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھارت پر عائد کیے گئے ٹیرف ختم کرنے کے لیے امریکی کانگریس میں ایک قرارداد پیش کر دی گئی ہے۔ یہ قرارداد کانگریس کے ارکان راجا کرشنامورتی، ڈیبورا روز اور مارک وی سی نے مشترکہ طور پر پیش کی۔

قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے بھارت پر لگایا گیا 50 فیصد ٹیرف ختم کیا جائے اور بین الاقوامی تجارت سے متعلق امریکی کانگریس کے آئینی اختیارات کو بحال کیا جائے۔

کانگریس رکن راجا کرشنامورتی نے کہا ہے کہ بھارت کے خلاف صدر ٹرمپ کی غیر ذمہ دارانہ ٹیرف پالیسی ایک اہم دوطرفہ شراکت داری کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ ٹیرف امریکی مفادات کے تحفظ کے بجائے سپلائی چین میں خلل ڈال رہے ہیں، امریکی محنت کشوں کو متاثر کر رہے ہیں اور صارفین پر اضافی مالی بوجھ ڈال رہے ہیں۔

ادھر کانگریس رکن مارک وی سی کا کہنا ہے کہ بھارت امریکا کا ایک اہم اقتصادی اور اسٹریٹجک شراکت دار ہے، جبکہ یہ غیر قانونی ٹیرف دراصل عام شہریوں پر بالواسطہ ٹیکس کے مترادف ہیں۔

واضح رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں برس بھارت سمیت متعدد ممالک پر تجارتی محصولات عائد کیے۔ ابتدا میں بھارت پر 25 فیصد ٹیرف نافذ کیا گیا تھا، تاہم اگست میں روس سے تیل کی درآمد کا حوالہ دیتے ہوئے بھارت پر مزید 25 فیصد اضافی ٹیرف لگا دیا گیا۔

Back to top button