بھگوڑے کیپٹن ذوالفقار مرزا کے جرائم کی داستان

کراچی میں جرائم پیشہ افراد کی سرپرستی، مالی بدعنوانی، بھتہ خوری اور قتل کے الزامات کے باوجود آرمی کے بھگوڑے کیپٹن ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے خلاف قانون حرکت میں آنے سے گریزاں ہے چونکہ موصوف پیپلز پارٹی کے مخالف ہیں اور تحریک انصاف کی اتحادی جماعت گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس سے تعلق رکھتے ہیں۔
سندھ حکومت کی طرف سے جاری کردہ نثار مورائی اور عذیر بلوچ تحقیقاتی رپورٹس میں ذوالفقار مرزا کا بطور مرکزی ملزم نام سامنے آنے کے باوجود ان کو قانون کے کٹہرے میں لانے کی بجائے وفاقی وزراء کی طرف سے انھیں ہیرو قرار دیا جا رہا ہے۔ یعنی پی ٹی آئی کی لانڈری میں دھل جانے کے بعد ان کے تمام جرائم دھل چکے ہیں۔ سندھ حکومت کی جاری کردہ تحقیقاتی رپورٹس میں سابق وزیر داخلہ سندھ ذوالفقار مرزا پر متعدد جرائم پیشہ افراد اور متنازع سیاسی شخصیات سے روابط رکھنے کا الزام ہے، جبکہ وہ اپنے متعدد انٹرویوز میں ایم کیو ایم کے خلاف لیاری کے لوگوں کو مسلح کرنے کا اعتراف کرتے رہے ہیں لیکن نہ تو ان کے خلاف ماضی میں کوئی کارروائی عمل میں لائی گئی اور نہ ہی انھیں اب قانون کے کٹہرے میں لایا جا رہا ہے۔ سندھ حکومت نے لیاری کے مشہور زمانہ گینگسٹر عذیر بلوچ، بلدیہ فیکٹری میں لگنے والی آگ اور فشرمین کوآپریٹو سوسائٹی کے سابق سربراہ نثار مورائی کے بارے میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیموں یعنی جے آئی ٹی کی رپورٹس حال ہی میں جاری کی ہیں جن میں سندھ کے سابق وزیر داخلہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کا نام نمایاں ہے۔ نثار مورائی نے ذوالفقار مرزا کے بارے میں تحقیقاتی ٹیم کو بتایا کہ انہوں نے الطاف حسین کی ایم کیو ایم کا مقابلہ کرنے کے لئے آفاق احمد کی ایم کیو ایم حقیقی کی مالی امداد کی اور انہیں اسلحہ بھی فراہم کرتے رہے ہیں۔
’نثار مورائی نے یہ بھی بتایا کہ وہ خود 2008ء کے الیکشن میں ذوالفقار مرزا کی سیاسی مہم کا حصہ رہے ہیں اور انہوں نے مرزا کو تحفے کے طور پر اسلحہ اور گاڑی بھی دی۔ عذیر بلوچ کے حوالے سے بنائی گئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ذوالفقار مرزا لیاری میں گینگ وار کے اہم کرداروں کی کھل کر حمایت کرتے رہے ہیں۔ حتیٰ کہ جب عذیر بلوچ نے پاکستان پیپلز پارٹی سے دوری اختیار کرلی، اس کے بعد بھی ذولفقار مرزا سیاسی اور انفرادی حیثیت میں اس کا ساتھ دیتے رہے۔ نثار مورائی کے مطابق 2010ء میں ذوالفقار مرزا نے کراچی کے سرجانی ٹاؤن میں پولیس افسروں کی مدد سے زمینوں پر قبضہ کرکے ان کی فروخت کا کام شروع کیا۔ نثار مورائی کا یہ بھی کہنا ہے کہ ذوالفقار مرزا انھیں اپنے ساتھ لے کر لیاری میں عزیر بلوچ سے ملاقات کرنے بھی گئے تھے۔
ماضی میں پیپلز پارٹی کے شریک چئیرمین آصف علی زرداری کی دوستی کا دم بھرنے والے اور آج کل عمران خان کو مسیحا قرار دینے والے متنازع شخصیت اور کردار کے حامل ڈاکٹرذوالفقار مرزا سندھ ہائی کورٹ کے ایک سابق جج ظفر حسین مرزا کے گھر 1954ء میں سندھ کے شہر حیدرآباد میں پیدا ہوئے۔ 1980ء میں انہوں نے لیاقت میڈیکل کالج جامشورو سے ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی، جس کے بعد وہ پاک فوج میں میڈیکل کور میں کیپٹن بن گئے۔ بعد ازاں کاکول اکیڈمی میں ٹریننگ حاصل کرنے کے بعد وہ پاکستان نیوی میں چلے گئے۔ 1985ء میں جنرل ضیاءالحق کے دور میں ذوالفقار مرزا نے بھگوڑا ہو کر فوج چھوڑ دی اور پی آئی اے سے منسلک ہوگئے، جہاں انہوں نے 1989ء تک کام کیا۔ 1989ء میں بےنظیر بھٹو کے پہلے دور حکومت میں ذوالفقار مرزا پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہوگئے اور انتخابی سیاست کا باقاعدہ آغاز کر دیا، اسی دوران انہوں نے آصف زرداری کی مہربانی سے بدین میں ایک شوگر مل لگائی، جس کے بعد وہ بدین میں ہی آباد ہوگئے۔ 1993ء میں انہوں نے بدین سے ہی پہلی مرتبہ الیکشن لڑا، جس میں کامیابی کے بعد وہ قومی اسمبلی کے رُکن بنے۔ اس دوران وہ پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو کے شوہر آصف علی زرداری کے انتہائی قریب رہے۔ اس دوران زرداری نے انہیں سندھ کا وزیر داخلہ بنایا اور ان کی اہلیہ فہمیدہ مرزا کو قومی اسمبلی کا اسپیکر بنایا۔ 2008ء سے 2011ء تک ذوالفقار مرزا سندھ کے وزیر داخلہ رہے۔ لیکن جب وہ اپنے آپ سے باہر ہونا شروع ہو گئے تو ان سے وزارت داخلہ واپس لے لی گئی۔
چنانچہ ذوالفقار مرزا ناراض ہوگئے اور پیپلز پارٹی سے علیحدگی اختیار کر لی۔۔تاہم اس دوران انکی اہلیہ فہمیدہ مرزا بطور سپیکر قومی اسمبلی اپنے فرائض سر انجام دیتی رہیں۔ 2013 کے الیکشن سے پہلے دونوں میاں بیوی کھل کر اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ جا ملے اور اب اسٹیبلشمنٹ نواز گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کا حصہ ہیں۔ 2018 کے الیکشن میں لوٹا ہو جانے کی وجہ سے بدین کی عوام نے ذوالفقار مرزا کو مسترد کردیا تاہم ان کی اہلیہ قومی اسمبلی میں پہنچ گئیں۔ اب عملی طور پر ذوالفقار مرزا کی سیاست ختم ہو چکی ہے لیکن ان کی اہلیہ عمران خان کی کابینہ میں وفاقی وزیر ہیں۔ مرزا اب آصف زرداری کے بد ترین دشمن تصور کئے جاتے ہیں۔ تاہم سندھ حکومت کی جانب سے جاری کردہ جے آئی ٹی رپورٹس میں واضح طور پر ذوالفقار مرزا کے جرائم کا ذکر ہونے کے باوجود اب تک ان کے خلاف کسی قسم کی کوئی قانونی کاروائی نہیں کی گئی۔
