بہت خوب، ذوق اچھا مگر شاعر اقبال نہیں

شوبز شخصیات کےلیے فینز اور ان کا متحرک ہونا اور بڑھتے رہنا غالباً ایسا ہی کردار ادا کرتا ہے جیسے انسانی جسم میں آکسیجن، اس مقصد کےلیے سیلبرٹیز تقریبات، عوامی مقامات پر گاہے بگاہے موجودگی سمیت پبلک ریلیشننگ کی تمام اقسام بشمول متنازعہ پی آر وغیرہ کا سہارا لیتی ہیں۔
کورونا وائرس کی صورت حال میں لاک ڈاؤن نے عوامی مقامات اور تقریبات کا آپشن ختم کیا تو بہت سے دیگر شعبوں کی طرح شوبز شخصیات بھی سوشل میڈیا پر اپنی توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہیں۔ پاکستانی اداکارہ مہوش حیات بھی سوشل میڈیا پر خاصی متحرک رہتی ہیں۔
اس مرتبہ انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پیغام کےلیے اپنی ایک تصویر اور ساتھ ہی شاعری کا انتخاب کیا۔ ٹویٹ کرتے ہوئے مہوش حیات نے اشعار کے ساتھ شاعر کا نام لکھا تو سوشل میڈیا کو گویا گفتگو کا نیا موضوع تھما دیا۔


صارفین نے جہاں ان کی تصویر کی تعریف کی، لباس کو موضوع بحث بنایا، عمدہ انتخاب پر ذوق کی داد دی وہیں کچھ ایسے بھی تھے جو کسی اور کی شاعری علامہ اقبال سے منسوب کرنے پر ان کو متوجہ کرتے دکھائی دیے۔
سلمان جاوید نامی ایک صارف نے مہوش حیات کی شخصیت کو اپنا موضوع گفتگو بنایا تو لکھا ’ناقابل یقین خوبصورتی اپنی بہترین صورت میں،‘
انعم نامی صارف نے مہوش حیات کی سرگرمی پر تبصرے میں لکھا ’بہت خوب، ذوق اچھا ہے۔‘ تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ لباس، تصویر، شاعری یا شاعر، کس بات کے انتخاب پر ذوق کو اچھا قرار دے رہی ہیں۔
کچھ صارف مہوش حیات سے شاعری اور شاعر کے معاملے میں متفق دکھائی دیے تو انہوں نے تشریح کی ذمہ داری اپنے سر لے لی۔ صداقت نامی ہینڈل نے لکھا ’آئینہ یا اس سے بننے والی چیزیں انتہائی عمدہ ہوتی ہیں، یہاں اقبال کہتے ہیں کہ ہمارے دل آئینے جیسے ہیں۔ اور اقبال صاحب نے سخت لفظوں سے دل توڑنے والوں کے خلاف پتھر اٹھائے ہیں۔‘

حقائق درست رکھنے کے خواہشمند گفتگو کا حصہ بنے تو انہوں نے مہوش حیات سے پوچھا کہ کیا وہ حوالہ دیں گی کہ یہ اشعار علامہ اقبال ہی کے ہیں۔ یہ کلام اقبال کا نہیں ہے۔ کسی بات کو پبلک کرنے سے پہلے اس کی چھان بین کر لینی چاہیے۔

فاخرہ انصاری نامی صارف نے علامہ اقبال سے غلط اشعار منسوب کرنے کا معاملہ آگے بڑھایا تو لکھا ’يہ محمد اسماعيل صاحب کی غزل کے اشعار ہيں۔ بہت معذرت، اقبال کے نہيں۔‘

یہ پہلا موقع نہیں کہ 37 سالہ پاکستانی اداکارہ یا کسی اور عوامی شخصیت کو شاعری یا قول کسی دوسرے کے سر باندھنے کی کاوش پر خفت کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ ماضی میں وزیراعظم عمران خان سمیت کئی شخصیات اس ناخوشگوار تجربے سے گزر چکی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button