بیت اللہ میں مطاف کوعمرہ ادا نہ کرنے والوں کیلئے کھول دیا گیا

سعودی عرب نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے مسجد الـحرام میں مطاف یعنی خانہ کعبہ کے اطراف کے صحن کو تفصیلی صفائی کے لیے بند کرنے کے بعد اب عمرہ ادا نہ کرنے والے افراد کے لیے کھول دیا ہے۔
مسجد الحرام اور مسجد نبوی ﷺ امور کے جنرل پریذیڈنٹ شیخ ڈاکٹر عبدالرحمٰن بن عبدالعزیز السدیس نے شاہ سلمان بن عبدالعزیز کا شاہی فرمان جاری کیا ہے۔
اس حوالے سے جاری اعلان میں کہا گیا کہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے 7 مارچ کی صبح سے عمرہ ادا نہ کرنے والے افراد کے لیے مطاف کو کھولنے کی اجازت دی ہے۔ شیخ ڈاکٹر عبدالرحمٰن بن عبدالعزیز السدیس نے احتیاطی طریقہ کار اور مسجد الحرام کے ورکرز کے ساتھ تعاون کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی قیادت شہریوں اور تارکین وطن کی سلامتی، آرام و سکون اور تحفظ فراہم کرنے کی خواہاں ہے۔
علاوہ ازیں عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق مذکورہ فیصلہ تفصیلی صفائی اور جراثیم کش اقدامات کے سلسلے میں مطاف کو خالی کروانے کے بعد کیا گیا ہے۔
سعودی عرب کی جانب سے کورونا وائرس کے پھیلاؤ سے بچاؤ کے مقصد کے تحت نافذ کی گئی پابندیوں کے بعد گزشتہ روز پہلی مرتبہ مکہ مکرمہ میں مسجد الحرام اور مدینہ منورہ میں مسجد نبویﷺ میں نماز جمعہ مساجد کے احاطے میں ادا کی گئی تھی۔ گزشتہ روز کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے سعودی عرب نے مکہ مکرمہ میں مسجد الحرام اور مدینہ منورہ میں مسجد نبوی نمازِ عشا کے ایک گھنٹے بعد سے نمازِ فجر سے ایک گھنٹہ قبل تک روزانہ بند رکھنے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی مسجد نبوی میں روضہ رسولﷺ بھی عمرے پر پابندی کے عرصے کے دوران بند رکھنے جبکہ جنت البقیع میں بھی زائرین کے جانے پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔
قبل ازیں 5 مارچ کو مطاف کو بھی تفصیلی صفائی اور جراثیم کش اقدامات کے سلسلے میں خالی کروالیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ 4 مارچ کو سعودی عرب نے کورونا وائرس پھیلنے کے خدشات کے باعث عمرے کی ادائیگی عارضی طور پر معطل کردی تھی۔ سعودی عرب کی وزارت داخلہ نے کہا تھا کہ فیصلے کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جائے گا اور حالات تبدیل ہوتے ہی فیصلے کو واپس لے لیا جائے گا۔ اس سے قبل حکومت نے مکہ اور مدینہ میں غیر ملکیوں کے داخلے پر بھی پابندی عائد کی تھی تاہم دونوں مقدس شہر سعودی عرب کے شہریوں کے لیے اب بھی کھلے ہوئے ہیں جہاں شہریوں کو نماز اور عبادات کرنے کی اجازت ہے۔
خیال رہے کہ چین سے شروع ہونے والا کورونا وائرس دنیا کے درجنوں ممالک میں پہنچ چکا ہے اور اس کے خطرے کے پیش نظر متعدد ممالک نے احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے مختلف پابندیاں عائد کردی ہیں۔ سعودی عرب میں اب تک کورونا وائرس کے 5 کیسز سامنے آچکے ہیں اور سعودی عرب کی جانب سے ایران پر مسافروں کی آمدو رفت کا صحیح دستاویزی اندراج نہ کر کے کورونا وائرس کے عالمی خطرے میں اضافے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
سعودی عرب میں کرونا کے مریض سامنے آنے کے بعد ہنگامی اقدامات کرتے ہوئے مسجد الحرام میں کعبۃ اللہ کے ارد گرد کے حصے مطاف کی صفائی کی گئی، انتظامات مکمل ہوتے ہی دونوں مقامات کھول دیئے گئے۔ بالائی منزلوں پر بھی طواف کی اجازت دے دی گئی۔ خیال رہے کہ سعودی حکومت کی جانب سے کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کے باعث حرم شریف میں مطاف کے حصے میں طواف کا سلسلہ عارضی طور پر روکا گیا تھا۔ تاہم اب سعودی عرب کی حکومت نے خانہ کعبہ کو عمرہ زائرین کے سوا باقی تمام مسلمانوں کے طواف کےلیے کھول دیا ہے۔ مطاف کی صفائی اور کورونا وائرس سے حفاظت کےلیے اختیار کردہ تدابیر کے پیش نظر مطاف کو خالی کرانے کے بعد آج ہفتے کو علی الصبح طواف کا عمل دوبارہ شروع ہو گیا ہے۔
یاد رہے کہ دو روز قبل کرونا وائرس کے خطرے کو مدنظر رکھتے ہوئے سعودی عرب نے جراثیم کش اقدامات کی وجہ سے دونوں مقدس مقامات کو بند کر دیا تھا جس کے بعد پوری دنیا میں ہنگامہ برپا ہو گیا تھا کیوںکہ 40 سالوں میں ایسا کبھی دیکھنے میں نہیں آیا کہ مسجد الحرم اور مسجد نبوی کو بند کر دیا گیا ہو۔ یہ دو وہ مقامات ہیں جہاں ہر وقت مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد عبادت کی غرض سے موجود ہوتی ہے۔گزشتہ روز ان مقامات کو جب بند کیا گیا تو پورے عالم اسلام میں سعودی عرب حکومت کی جانب سوال اٹھائے گئے، لیکن اب جراثیم کش اقدامات کے بعد دونوں مقدس مقامات کو عبادت کے کئے کھول دیا گیا ہے۔
