بیروت دھماکے میں گندم کا بڑا ذخیرہ تباہ، غذاتی قلت کا خدشہ

پاکستان میں لبنان کے سفیر ویزکن کیولیکین کا کہنا ہے کہ بیروت بندرگاہ پر ہونے والے دھماکے میں گندم کا بڑا ذخیرہ تباہ ہوگیا ہے۔ انہوں نے نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گندم کا بڑا ذخیرہ بندرگاہ پر تباہ ہونے کے باعث ہمیں غذائی قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دھماکے سے بیروت پورٹ کی برتھیں تباہ ہوگئی ہیں۔
اس دھماکے کو ہیروشیما کی طرح بیروت شیما کہاں جا رہا ہے۔ لبنانی سفیر نے مزید کہا کہ بیروت بم دھماکے سے وزارت خارجہ کی عمارت کو شدید نقصان پہنچا ہے دھماکے سے وزارت کی عمارت کی ایک چھت اڑ گئی ہے۔
خیال رہے کہ لبنان کے دارالحکومت بیروت میں ہونے والے ایک بڑے دھماکے میں اموات کی تعداد80 تک پہنچ گئی ہے جب کہ حکام نے4 ہزار6سو افراد کے زخمی ہونے کی بھی تصدیق کی ہے دھماکہ بیروت کی بندرگاہ کے علاقے میں ایک گودام میں ہوا اور یہ اتنا شدید تھا کہ پورا شہر ہل کر رہ گیا۔ دھماکے کی شدت اتنی تھی کہ اس کے اثرات 240 کلومیٹر دور مشرقی بحیرہ روم کے ملک قبرص میں بھی محسوس کیے گئے جہاں لوگوں نے اسے زلزلہ سمجھا دھماکے سے قبل بندرگاہ میں متاثرہ مقام پر آگ لگی دیکھی گئی جس کے بعد ایک بڑا دھماکہ ہوا اور جائے حادثہ پر نارنجی رنگ کے بادل چھا گئے اس دھماکے سے بندرگاہ اور اس کے نواح میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے اور کاروباری اور رہائشی عمارتیں اور گاڑیاں تباہ ہو گئیں۔ ملک کے صدر عون مشیل نے اس حادثے پر تین روزہ سوگ کا اعلان کرتے ہوئے لبنان کی وفاقی کابینہ کا اجلاس طلب کرلیا ہے صدر نے مطالبہ کیا ہے کہ ملک میں دو ہفتے کےلیے ہنگامی حالت نافذ کی جائے یہ دھماکہ بظاہر ایک گودام میں موجود امونیم نائٹریٹ کے ذخیرے میں ہوا ہے تاہم اس سلسلے میں سرکاری طور پر ابھی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔ لبنانی صدر نے کہا ہے کہ یہ امونیم نائٹریٹ ایک گودام میں غیرمحفوظ طریقے سے 6برس سے موجود تھی لبنانی وزیراعظم حسن دیاب نے کہا ہے کہ یہ ناقابل قبول ہے کہ ویئر ہاﺅس میں 2750 ٹن امونیم نائٹریٹ موجود تھی انہوں نے اپنے ٹوئٹر اکاﺅنٹ پر پیغام میں لکھا کہ ’میں تب تک چین سے نہیں بیٹھوں گا جب تک مجھے اس واقعے کے ذمہ دار کا نہ پتا چل جائے تاکہ اس کا محاسبہ کیا جائے اور بہت سخت سزا دی جائے۔
