بیروت میں خوفناک دھماکے کیسے ہوئے، تباہی کیسے مچی؟

لبنان کے درالحکومت بیروت میں ہونے والے پراسرار اور خوفناک دھماکوں کی حتمی نوعیت کا تو فی الحال تعین نہیں کیا جا سکا تاہم حکومتی ذرائع ان افواہوں کی تردید کرتے ہیں کہ یہ کوئی بیرونی تخریب کاری کا واقعہ ہے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق بیروت کے ساحلی علاقے میں موجود ایک ڈپو میں 2 ہزار 700 ٹن امونیم نائٹریٹ چھ برس قبل ذخیرہ کیا گیا تھا جسکے پھٹنے سے سو سے زائد افراد ہلاک ہو گئے۔ تاہم اصل سوال یہ ہے کہ امونیم نائٹریٹ کے ذخیرے میں دھماکے کس وجہ سے ہوئے۔ اسرائیلی حکومت نے ان افواہوں کی تردید کی ہے کہ یہ دھماکے ان کی جانب سے میزائیل حملے کی وجہ سے ہوئے۔ اس طرح کی افواہیں سننے میں آئی ہیں کہ ڈپو میں ویلڈنگ کا کام جاری تھا جہاں سے چنگاریوں نے بڑھ کر آگ کی شکل اختیار کیا اور پھر امونیم نائٹریٹ کے ذخیرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا جس سے دھماکے ہوئے۔
لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ امونیم نائٹریٹ آخر اتنا خطرناک مادہ کیوں ہے اور اسے اتنی بڑی مقدار میں اتنے برسوں سے ذخیرہ کرکے کیوں رکھا گیا تھا۔ بیروت میں دھماکوں کی ٹائمنگ پر بھی سوال اٹھائے جا رہے ہیں کیونکہ یہ دھماکے ایسے وقت میں ہوئے جب لبنان کے سابق وزیراعظم رفیق حریری کے قاتلوں کو سزا سنائی جانے والی ہے۔ یاد رہے کے رفیق حریری کو کچھ برس قبل ایک کار بم دھماکے میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔
ماہرین کے مطابق امونیم نائٹریٹ دراصل نائٹروجن یعنی ہائیڈروجن اور آکسیجن پر مشتمل کیمیکلز کا مجموعہ ہے، امونیم نائٹریٹ بو کے بغیر قلمی صورت میں پایا جانے والا ایک شفاف مادہ ہے جو عام طور پر کھاد کی تیاری میں استعمال ہوتا ہے۔ زراعت میں امونیم نائٹریٹ کو کھاد کی دانے دار شکل میں استعمال کیا جاتا ہے جو نمی کے باعث بہت جلد تحلیل ہوجاتا ہے جس سے اس میں موجود نائٹروجن مٹی میں شامل ہو جاتی ہے۔ اس سے پودوں کی نشوونما کےلیے نہایت اہم ہے۔ امونیم نائٹریٹ پودوں کی نشوونما کےلیے دیگر کھادوں کے مقابلے میں خاص طور پر اچھا ہے، اس کے اثرات نقصان دہ نہیں ہیں اور یہ فضا میں بھی پائی جاتی ہے لیکن یہ عمل توانائی کی ایک بڑی مقدار کو خارج کردیتا ہے۔
اسکے علاوہ امونیم نائٹریٹ دھماکا خیز مواد کا مجموعہ بھی ہے اور دنیا بھر میں کان کنی اور تعمیرات میں توڑ پھوڑ کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ معمول کے حالات میں یہ کیمیکل بالکل محفوظ ہے، لیکن یہ آلودگی یا ایندھن کے تیل اور پھر گرمی کی شدت سے پڑنے والی اثرات سے پھٹ سکتا ہے۔ امونیم نائٹریٹ جب 170 ڈگری فارن ہائیٹ سے زائد حدت پکڑتا ہے تو گلنے کے عمل میں چلا جاتا ہے لیکن تیز حرارت یا ٹوٹ پھوٹ سے کیمیکل کا ارتعاش ہوسکتا ہے جو امونیم نائٹریٹ کو نائٹروجن، آکسیجن گیس اور پانی کے بخارات میں تبدیل کردیتا ہے۔
گزشتہ دہائیوں کے دوران امونیم نائٹریٹ دنیا میں متعدد صنعتی دھماکوں کا باعث بن چکا ہے۔ ان میں خاص طور پر 1947 میں ٹیکساس میں ہونے والا دھماکہ قابل ذکر ہے جہاں ایک کارخانے میں دو ہراز تین سو ٹن امونیم نائٹریٹ کا ذخیرہ پھٹ گیا تھا اور جس کے نتیجے میں 500 افراد مارے گئے تھے۔ اس دھماکے سے 15 فٹ بلند سمندری لہر بھی پیدا ہوئی تھی۔
چین کے شہر تیانجن میں بھی 2015 میں اسی مادے کے پھٹنے سے ہونے والی تباہی میں 170 سے زیادہ افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوگئے تھے۔ 2013 میں امریکی ریاست ٹیکساس کے کھاد کے ایک پلانٹ میں ‘جان بوجھ کر کیے جانے والا دھماکے’ میں 15 افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔
ایک اور اہم واقعہ 2001 میں فرانس کے شہر ٹولوس کے ایک کیمیکل پلانٹ میں ہوا تھا جس میں 31 افراد موت کے منہ میں چلے گئے تھے لیکن یہ ایک حادثہ تھا۔ یہ بات توجہ طلب ہے کہ 1995 میں اوکلاہوما شہر پر ہونے والے بم دھماکے میں بھی امونیم نائٹریٹ کا استعمال کیا گیا تھا۔ ماہرین کے مطابق عام طور پر زرعی اسٹوریج کے معمول کے حالات اور کم درجہ حرارت میں امونیم نائٹریٹ میں آگ بھڑکنے کے امکانات نہیں ہوتے۔
ماہرین کے مطابق امونیم نائٹریٹ مہمیز جیسے کام کرتا ہے، آکسیجن کی مدد سے یہ جلنے کے عمل کو تیز کرتا ہے، تاہم یہ خود آتش گیر مادہ بھی نہیں ہے۔ ان وجوہات کی بنا پر امونیم نائٹریٹ کو ذخیرہ کرنے کے بارے میں بہت سخت اصول بنائے گئے ہیں جس میں اسے ایندھن اور حرارت کے ذرائع سے دور رکھنا اہم ترین نکتہ ہے۔
امونیم نائٹریٹ کے باعث پیش آنے والے حادثات اور اس کے دہشت گردی میں استعمال کے خدشے کے بعد یورپی یونین میں بہت سے ممالک کا مطالبہ ہے کہ کیلشیم کاربونیٹ کو امونیم نائٹریٹ میں شامل کیا جائے تاکہ کیلشیم امونیم نائٹریٹ تیار کیا جاسکے جو زرعی استعمال کےلیے ذخیرہ کرنے میں بھی زیادہ محفوظ ہے۔
امریکہ میں اوکلاہوما کے دہشت گرد حملے میں امونیم کے استعمال کے بعد اس مادے کے حوالے سے قواعد و ضوابط کو سخت کردیا گیا تھا۔ ان تمام خطرات کے باوجود ماہرین کا ماننا ہے کہ زراعت اور تعمیرات کے شعبے میں امونیم نائٹریٹ کا استعمال ناگزیر ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس جدید دنیا کی تعمیرات اور ہماری موجودہ آبادی کو خوراک فراہم کرنا امونیم نائٹریٹ کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ یعنی دنیا کو امونیم نائٹریٹ کی ضرورت ہے لیکن اس کے غلط استعمال کو روکنا ہو گا۔
