بیرون ملک سے آنے والوں کےلیے ایئر پورٹس پر قرنطینہ مرکز قائم

بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کو وطن واپس لانے کےلیے فلائٹ آپریشن کو محدود اور عارضی طور پر کھولا جارہا ہےاس سلسلے میں برطانیہ، کینیڈا، ملائشیا، ترکی، ازبکستان اور آذربائیجان کےلیے پی آئی اے کی خصوصی پروازیں چلانے کا فیصلہ کیا ہے، ان مسافروں کے ٹیسٹ کےلیے ایئرپورٹ پر خصوصی اقدامات بھی کیے گئے ہیں۔
این ڈی ایم اے کے ترجمان ادریس محسود کے مطابق ملک کے تمام بڑے ایئرپورٹس کے قریب قرنطینہ مراکز قائم کیے گئے ہیں جہاں بیرون ملک سے آنے والے مسافروں میں سے مشتبہ مریضوں کو رکھا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ قرنطینہ مراکز میں ان کے ٹیسٹ کیے جائیں گے۔ اس مقصد کے لیے نجی ہوٹل اور عمارات کرائے پر لے کر ان میں تمام ضروری سہولیات مہیا کی ہیں۔
خیال رہے حکومت نے منگل کو بیرون ملک کے لیے خصوصی پروازیں چلانے کا اعلان کیا ہے۔ حکومت کے مطابق 3 سے 11 اپریل کے دوران پی آئی اے کی 17 خصوصی پروزیں چلائی جائیں گی۔
اس حوالے سے وزارت قومی صحت اور قومی ادارہ صحت نے ملک کے تمام داخلی مقامات کے حوالے سے نئی گائیڈ لائنز اور ایس او پیز تیار کرکے متعلقہ حکام کے حوالے کر دی ہیں۔ ان گائیڈ لائنز میں مسافروں کے ساتھ امیگریشن عملے، طبی ٹیم اور دیگر عملے کو محفوظ بنانے کے اقدامات بھی تجویز کیے گئے ہیں۔
وزارت قومی صحت کے ترجمان کے مطابق جہاز کے پاکستان میں لینڈ کرنے سے قبل عملہ تمام مسافروں سے ان کی صحت سے متعلق فارم پر کروانے کا پابند ہوگا۔ اس فارم میں مسافروں سے ان کی ذاتی معلومات، ٹریول ہسٹری سمیت کورونا سے متعلق علامات بارے پوچھا گیا ہے۔ ایئرپورٹ پر پہنچنے کے بعد مسافروں کو سماجی فاصلے کے مطابق کھڑا کیا جائے گا اور ان کی اسکریننگ کی جائے گی جس کے بعد علامات اور بغیر علامات کے مسافروں کو الگ کر دیا جائے گا۔
جن مسافروں میں علامات ہوں گی ان کو فوری طور پر ٹیسٹ کےلیے بھیج دیا جائے گا جب کہ جن مسافروں میں علامات نہیں ہوں گی ان کو متعلقہ قرنطینہ مرکز میں بھیج دیا جائے گا جہاں باری آنے پر ان کے ٹیسٹ کیے جائیں گے۔
دوسری جانب سول ایوی ایشن حکام نے بھی تمام ایئر لائنز کو مسافروں کو کورونا سے بچاؤ کے اقدامات کرنے کے لیے گائیڈ لائنز بھجوا دی ہیں۔ سول ایوی ایشن حکام کے مطابق تمام ایئر لائنز کو کہا گیا ہے کہ وہ مسافروں کو جہاز میں بٹھانے سے قبل جہاز کی مکمل صفائی اور انفیکشن کے خاتمے کا انتظام یقینی بنائیں۔
تمام مسافروں کو پابند کیا جائے کہ وہ سرجیکل فیس ماسک پہن کر رکھیں جب کہ مسافروں کو اپنی نشست تبدیل کرنے کی بھی اجازت نہیں ہوگی۔
جہاز کا عملہ دوران سفر تھوڑی تھوڑی دیر بعد سینیٹائزر سے مسافروں کے ہاتھ صاف کروائے۔ اسی طرح تمام ایئر لائنز کا عملہ ہیلتھ ڈیٹا فارم بھروانے کا پابند ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button