بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک بند کیا جائے

صدر مسلم لیگ ن شہباز شریف نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کے ساتھ بھیڑ بکریوں جیسا سلوک فوری طور پر بند کیا جائے۔ انہوں نے کورونا وائرس کے پیش نظر بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کی مشکلات پر اپنے ردعمل کہا ہے کہ حکومت کا بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کے ساتھ رویہ انتہائی قابل مذمت، قابل افسوس اور شرم ناک ہے۔
انہوں نے بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کی فوری وطن واپسی کے لیے اضافی اور خصوصی پروازیں چلانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جہاز چارٹر کریں لیکن عیدالفطر سے قبل بیرون ملک پھنسے تمام پاکستانیوں کی وطن واپسی یقینی بنائی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کے ساتھ بھیڑ بکریوں جیسا سلوک بند کیا جائے، مریض، بزرگ، طلبہ اور فیملیز سمیت دیگر پاکستانیوں کی وطن واپسی کےلیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے شہباز شریف کا کہنا تھا کہ وزیراعظم، وزیر خارجہ بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کی وطن واپسی کےلیے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں، وزیراعظم اور وزیر خارجہ کو احساس ہوتا تو اب تک یہ آپریشن مکمل ہو جاتا۔ صدر مسلم لیگ ن نے کہا کہ حکومت کی توجہ عوام کی مشکلات حل کرنے کے بجائے تقریروں، تسلیوں اور اپوزیشن کو فتح کرنے پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی سفارتخانوں پر لمبی قطاریں حکمرانوں کی بےحسی اورپاکستانیوں کی بے بسی کا منہ بولتا ثبوت ہے، ہر مرحلے پر ملک کی مدد کرنے والے پاکستانیوں کو سفاک حالات کے رحم و کرم پرنہیں چھوڑ سکتے۔
شہباز شریف نے وزیر اعظم سے پوچھا کہ عمران خان کی بیرون ملک پاکستانیوں کےلیے کمٹمنٹ اب کہاں ہے؟ حکومت کو یہ احساس بھی نہیں کہ بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کے پاس وسائل بھی ختم ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم آفس، وزارت خارجہ اور ایک چہیتے وزیر کی پرچی پر وطن واپسی کی شرط بنا دینے کی شکایت تشوشناک ہے، پاکستانیوں کی وطن واپسی کےلیے پرچی سسٹم ختم کر کے فوری جامع حکمت عملی بنائی جائے۔
