بینکوں میں گروی رکھوایا گیا سونا غیر محفوظ کیوں ہو گیا؟


کراچی کے ایک بینک کے لاکر میں قرض کے عوض گروی رکھوایا گیا سونا غائب ہو جانے اور ایکدوسرے بینک کے لاکر میں اصلی کی جگہ مصنوعی زیورات رکھے جانے کے واقعات نے بینکوں کی ساکھ کے بارے میں سنجیدہ سوالات اٹھا دیئے ہیں۔ اس بارے سٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ گروی رکھوائے گئے سونے کی انشورنس کروانی چاہیے تاکہ نقصان کی صورت میں قرض لینے والے کو قرضے کی ادائیگی پر اس کا اثاثہ اصلی حالت میں واپس مل سکے۔
بینکنگ شعبے کے ماہرین کہتے ہیں کہ اسٹیٹ بینک کے قواعد و ضوابط بینک اور صارف کے تعلق اور اس سے جڑے امور سے متعلق ہوتے ہیں تاہم اگر بینک کے لاکر سے سونا چوری ہوتا ہے یا اصلی کی بجائے نقلی زیورات رکھ دیے جاتے ہیں تو اس ہیرا پھیری میں بینک کا عملہ ملوث ہوتا ہے اور ان کی ملی بھگت سے یہ کام ہوتا ہے۔ لاکروں میں رکھا ہوا یہ سونا کتنا محفوظ ہے اس کے بارے میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ آئے دن لاکر توڑنے کی خبروں سے پتا چل جاتا ہے کہ یہ سونا کتنا محفوظ ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ ملک میں ہر دوسری جگہ کی طرح بینکوں میں بھی فراڈ ہوتے ہیں اور جب ان میں بینک کا عملہ ملوث ہو تو اسے فوجداری قانون کے تحت دیکھا جاتا ہے اور ان کیسز میں ایف آئی اے کا بینکنگ سرکل کارووائی کرتا ہے۔
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق لاکرز توڑ کر سونا چوری کرنا یا گروی رکھے ہوئے سونے کے زیورات کے بدلے میں نقلی زیورات رکھنا ایک جرم ہے اور اس کا اکثر ارتکاب بھی ہوتا ہے تاہم پھر بھی ان کی نظر میں گھر میں رکھے ہوئے سونے کی نسبت بینک میں رکھا ہوا سونا زیادہ محفوظ ہوتا ہے۔ سٹیٹ بینک حکام کے مطابق بینکوں میں گروی رکھے سونے کو محفوظ بنانے کے لیے رسک مینجمنٹ کا وہی طریقہ کار ہے جس میں دوسرے شعبوں کو محفوظ بنایا گیا ہے۔ قرض کے لیے گروی رکھے گئے سونے کی چوری کی صورت میں بینک کیا قدم اٹھائے گا اور قرض لینے والے کو یہ سونا کیسے لوٹائے گا اس کے بارے میں سٹیٹ بینک نے ہدایات جاری کر رکھی ہیں کہ گروی رکھے ہوئے سونے کی چوری، آتشزدگی اور دوسرے خطرات کے پیش نظر انشورنس ہونی چاہیے تاکہ سونے کی چوری یا کسی اور وجہ سے اگر سونا ناقابل واپسی ہو تو قرض لینے والے کو قرضے کی ادائیگی پر اس کا اثاثہ واپس مل سکے۔
قانونی اعتبار سے سونا گروی رکھ کر قرض دینے کی پالیسی کے بارے میں پاکستان میں مالیاتی شعبے کے ریگولیٹر سٹیٹ بینک کے مطابق اس کی مکمل اجازت ہے۔ بینک اس سلسلے میں سونے کے بدلے میں ذاتی و کاروباری قرضے فراہم کر رہے ہیں۔ پاکستان کے بینکاری کے شعبے میں مختلف بینکوں کی جانب سے سونے کے بدلے میں قرض کے لیے اشتہاری مہم بھی چلائی جاتی ہیں۔ پاکستان میں سرکاری شعبے کے واحد بینک نیشنل بینک نے اپنی ویب سائٹ پر سونے کے بدلے میں قرضہ کے لیے تفصیلات جاری کر رکھی ہیں تو اسی طرح نجی شعبے میں کام کرنے والے کئی بینکوں نے بھی اپنی ویب سائٹوں پر سونے کے بدلے قرض کے حصول کے لیے سکیموں کا اعلان کر رکھا ہے۔ سٹیٹ بینک کی پالیسی کے مطابق بینکوں کو صرف ان برانچوں میں سونے کے بدلے قرضہ دینے کا اختیار ہے جہاں اس کے لیے مطلوبہ انفراسٹرکچر، تربیت یافتہ افرادی قوت اور حفاظتی انتظامات موجود ہوں۔ بینکوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سونے کے بدلے قرض دینے کےلیے ایسے ماہر افراد کی خدمات حاصل کریں جو سونے کے کاروبارمیں مہارت رکھتے ہوں اور اس کے لیے سٹیٹ بینک نے کچھ خاص ہدایات بھی جاری کی ہیں۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق تجارتی بینکوں نے دسمبر 2020 کے اختتام تک تقریباً 58 ارب روپے کے ایسے قرضے جاری کیے ہیں جو سونے، اس کے زیورات اور چاندی گروی رکھ کر جاری کیے گئے ہیں۔ سونا گروی رکھ کر قرض دینے کے پالیسی کے بارے میں بات کرتے ہوئے ماہر مالیاتی امور ڈاکٹر اکرام الحق نے کہا کہ اس کی پاکستان میں اجازت ہے لیکن سونا گروی رکھ کر اس کے بدلے میں قرض لینے کی پالیسی ترقی یافتہ دنیا بالخصوص امریکہ اور برطانیہ جیسے ممالک میں موجود نہیں ہے۔انھوں نے کہا کہ مضبوط مالیاتی نظام کے حامی ملکوں میں قرضہ ہمیشہ ایک انکم جنریٹنگ ایسٹ یعنی کمائی کر کے دینے والے اثاثے کے بدلے میں دیا جاتا ہے لیکن سونا کوئی ایسا اثاثہ نہیں کہ وہ انکم پیدا کر رہا ہو۔انھوں نے کہا کہ سونا گروی رکھنے کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ ڈیفالٹ کرنے کی صورت میں یہ سونا بینک اپنے پاس رکھ لیتا ہے اور ویسے بھی قرض دار کو سونے کی مالیت سے کم ہی قرض دیا جاتا ہے۔

Back to top button