بینکوں کے قرضے حکومت کے لیے ہیں، عوام کے لیے نہیں


پاکستان میں بینکوں کی جانب سے عوام اور نجی شعبے کی نسبت حکومت کو بڑے پیمانے پر قرضے دینے کا رحجان اب ایک کھلی حقیقت بن چکا ہے اور عمومی تاثر یہی ہے کہ نجی بینکوں کے قرضے سرکار کے لیے ہیں، عوام کے لیے نہیں۔
افسوسناک بات یہ یے کہ اس رجحان میں ایک ایسے وقت میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے جب پاکستان کے بینکوں کے پاس ڈیپازٹس یا جمع شدہ رقم میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے اور 2020 کے اختتام تک بینکوں کے ڈیپازٹس سترہ ہزار ارب روپے سے تجاوز کر گئے۔ تاہم بینکوں کے پاس اتنا خطیر سرمایہ ہونے کے باوجود وہ کاروبار اور عام افراد کو ادھار دینے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔
بینکوں کے نزدیک حکومت کو ادھار دینا سب سے محفوظ اور آسان ذریعہ ہے چونکہ اس سے انھیں معقول منافع کے ساتھ رقم ڈوبنے کا بھی خطرہ نہیں رہتا۔ بینکوں کی جانب سے آج بھی 90 فیصد ادھار حکومت کو دیا جاتا ہے جب کہ صرف دس فیصد نجی صارفین کو فراہم کیا جاتا ہے۔ اس صورت حال میں کوئی تبدیلی بھی نظر نہیں آ رہی جو گذشتہ پانچ سال کے اعداد و شمار سے ظاہر ہے۔ گذشتہ پانچ سالوں میں ڈیپازٹس کے بڑھنے کی اوسطاً شرح 14 فیصد سے زائد رہی تو دوسری جانب نجی شعبے کو قرضے دینے کی شرح میں اوسطاً دس فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ مالیاتی نظام کے ماہرین کے مطابق آج بھی حکومت کو دیے جانے والے قرضے کے مقابلے میں بھی شعبے کو قرضے دینے کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے۔ ان کے نزدیک حکومت کو اس کے لیے سخت قوانین متعارف کرانے پڑیں گے تاکہ نجی شعبے کو قرضے کی فراہمی میں اضافہ ہو اور معاشی ترقی کو مدد مل سکے۔
پاکستانی بینکوں کے ڈیپازٹس سال 2020 کے اختتام پر سترہ ہزار ارب سے زائد تھے۔ اگر سال 2020 کا موازنہ 2019 سے کیا جائے تو ان ڈیپازٹس کی تعداد میں 22 فیصد یا تین ہزار ارب روپے سے زیادہ کا اضافہ ہوا جو پہلے ساڑھے چودہ ہزار ارب سے زائد تھے۔ بینک ڈیپازٹس کی تعداد بڑھنے کا سلسلہ صرف گذشتہ برس تک محیط نہیں بلکہ ان میں کئی سالوں سے اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ 2016 میں بینکوں کے پاس ڈیپازٹس کی مالیت گیارہ ہزار ارب سے کچھ زائد تھی جو 2017 میں بارہ ہزار ارب سے تجاوز کر گئی۔ یہ اضافہ دس فیصد تھا۔ اس سے اگلے سال یعنی 2018 میں ڈیپازٹس تیرہ ہزار ارب سے تجاوز کر گئے جو 2019 میں بڑھ کر ساڑھے چودہ ہزار ارب سے تجاوز کر گئے اور 2020 میں ساڑھے سترہ ہزار سے اوپر چلے گئے۔ بینکوں کے ڈیپازٹس میں نمایاں اضافہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب پاکستان کی معیشت مشکلات کا شکار ہے اور کرونا وائرس کی وجہ سے لگنے والے لاک ڈاون نے اسے شدید متاثر کیا۔
تاہم کرونا وائرس نے بینکوں کے ڈیپازٹس کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا کیونکہ لوگوں نے اپنے اخراجات کم کیے اور اپنی بچتوں کو بینکوں میں رکھا۔ اسی طرح حج اور عمرے پر بھی پیسہ خرچ نہیں کیا جا سکا اور یہ پیسہ بھی بینکوں میں جمع ہوا۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے بھی مقامی طور پر بینکوں کے ڈیپازٹس کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔ بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے اس مالی سال میں ریکارڈ ترسیلات زر وصول ہو رہی ہیں۔ اوسطاً دو ارب ڈالر ماہانہ کی رقوم بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے ملک بھیجی جا رہی ہیں۔ یہ خطیر سرمایہ بھی بینکوں میں ڈیپازٹس کو بڑھا رہا ہے۔ بینکوں کے بڑھتے ہوئے ڈیپازٹس کے مقابلے میں نجی شعبے کو دیے جانے والے قرضے کو دیکھا جائے تو یہ بہت کم ہے اور یہ مجموعی طور پر ڈیپازٹس کا صرف دس فیصد بنتا ہے۔ گذشتہ برس نجی شعبے کو دیا جانے والا قرضہ صرف 332 ارب تھا۔ جب کہ دوسری جانب بینکوں کی جانب سے حکومت کو دیے جانے والے قرضے کی مالیت ساڑھے گیارہ ہزار ارب روپے سے زائد رہی جو بینکوں کی جانب سے حکومتی سکیورٹیز اور بانڈز میں لگائی گئی۔ گذشتہ برس حکومت کی سکیورٹیز اور بانڈز میں بینکوں کی سرمایہ کاری 38فیصد زائد رہی۔ بینکوں کی جانب سے حکومت کو کیوں قرضہ دیا جاتا ہے اور نجی شعبے میں اس کی فراہمی کیوں کم ہے اس کے بارے میں بات کرتے ہوئے یوسف سعید نے کہا کہ اس کی سب سے بڑی وجہ تو رسک فیکٹر ہے۔ بینکوں کے نزدیک حکومت کی سکیورٹیز میں سرمایہ کاری پر جہاں منافع اچھا ملتا ہے تو دوسری جانب ان کی رقم ڈوبنے کا خطرہ نہیں ہے جب کہ نجی شعبے کو دیے جانے والے قرض میں ڈیفالٹ کا خطرہ رہتا ہے۔
بینکر منیر کمال نے اس سلسلے میں کہا کہ بڑے بینک گورنمنٹ کو ادھار دینے میں زیادہ دلچسپی کا اظہار کرتے ہیں کہ جہاں محفوظ سرمایہ کاری کے ساتھ اچھا ریٹرن بھی حاصل ہو رہا ہوتا۔ انھوں نے کہا حکومت کی جانب سے بھی کوئی ایسا اقدام نہیں کیا جاتا کہ نجی شعبے کو قرضے بڑھایا جائے جس کی ایک وجہ یہ ہے کہ حکومت کی بھی ضرورت ہوتی ہے کہ اسے زیادہ سے زیادہ رقم بینکوں مل سکے تاکہ وہ اپنے اخراجات اور خسارے پورے کر سکے۔ انھوں نے کہا پاکستان میں ٹارگٹڈ فنانسنگ نہیں ہوتی یعنی ایک خاص شعبے کو کتنا کریڈٹ دیا جائے جب کہ اس کے مقابلے میں انڈیا میں یہ کی جاتی ہے اور اگر بینک ایسا نہ کریں تو انھیں جرمانہ ادا کرنا پڑتا ہے۔ مارگیج فنانسنگ کی مثال دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ انڈیا میں یہ 12 سے 13 فیصد ہوتی ہے جب کہ ترقی یافتہ ممالک میں اس کی شرح 40 فیصد تک ہوتی ہے تاہم اگر پاکستان میں اس کو دیکھا جائے تو اس کی شرح ایک فیصد سے بھی کم ہے۔
معاشی تجزیہ کار فرید عالم خان نے بتایا کہ بینکوں کے پاس زیادہ پیسے ہونے کے باوجود وہ معیشت کی ترقی کے لیے استعمال نہیں ہو پا رہا کیونکہ زیادہ بڑا حصہ تو گورنمنٹ ادھار لیتی ہے جب کہ پرائیوٹ سیکٹر کو کم قرض جاتا ہے جو معیشت سے منسلک ہے۔ یوسف سعید نے کہا کہ نجی شعبے کو بینکوں کی جانب سے کم قرض دینے کی شرح معیشت کے لیے ایک منفی رجحان ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بینکوں کی جانب سے نجی شعبے کو دیا جانے والا قرض معاشی سرگرمی سے منسلک ہوتا ہے۔ ’اگر ان زیادہ قرض جا رہا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ کاروبار میں توسیع یا نیا کاروبار شروع کیا جارہا ہے جو معاشی سرگرمیوں کو فروغ دے اور اس کا براہ راست اثر ملکی معشیت پر پڑتا ہے۔ جب نئی کاروباری سرگرمی شروع ہو رہی یا یا اس میں توسیع ہو تو یہ نئی ملازمتوں کو بھی پیدا کرنے کا باعث بنتی ہے جو ملکی آبادی کے لیے ایک مثبت رجحان ہوتا ہے۔‘ یوسف نے کہا کہ نجی شعبے میں زیادہ قرض ملکی معیشت اور عام افراد دونوں کے لیے مثبت ہوتا ہے اور کم قرض اس کے مقابلے میں معاشی سرگرمی کو گھٹائے گا جو نئی ملازمتوں کو پیدا کرنے کی بجائے پہلے سے موجود ملازمتوں کو بھی ختم کر سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button