بینگن، بکری اوروہیل چیئر، عمرانڈوز کس نشان پر الیکشن لڑینگے؟

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کو آزاد قرار دیتے ہوئے دلچسپ اور منفرد انتخابی نشان دے دئیے ہیں۔بلے سے محروم پاکستان تحریک انصاف کے عمرانڈو کو بھینگن، بکری، کُھسّہ، توا، زبان، سبز مرچ، فرائی پین، جہاز، ریڈیو، وکٹ، انار، چارپائی، ہینڈ پمپ اور گھڑیال سمیت مختلف انتخابی نشانات الاٹ کیے گئے ہیں۔
خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات اور بلےکے انتخابی نشان کےکیس کا فیصلہ سناتے ہوئے پی ٹی آئی سے بلا واپس لینے کا فیصلہ سنایا تھا جس کے بعد اب بلے سے محروم پاکستان تحریک انصاف کے امیدواروں کو مختلف نشانات الاٹ کئےگئے ہیں۔
الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر گوہر علی خان کو چینک، سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو وہیل چیئر اور لطیف کھوسہ کو انگریزی حرف ’k‘ ، شعیب شاہین کو جوتا اور یاسمین راشد کو لیپ ٹاپ کا انتخابی نشان الاٹ کیا ہے۔
سابق وزیر داخلہ اعجاز شاہ کو مور، عمیر نیازی کو دروازہ، عالیہ حمزہ کو ڈائس جبکہ سلمان اکرم راجہ کو ریکٹ کے نشانات الاٹ کیے گئے ہیں۔
مزید برآں ملک عامر ڈوگر کوکلاک، زین قریشی کو جوتا اور مہر بانو قریشی کو انتخابی نشان چمٹا الاٹ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ شوکت یوسفزئی کو ریکٹ، کامران بنگش کو وائلن اور آصف خان کو ہاتھ گاڑی کا نشان الاٹ کیا گیا ہے جبکہ لاہور سے قومی اسمبلی کے امیدوار میاں اظہر ایڈووکیٹ کو وکٹ کا نشان الاٹ کیا گیا ہے۔
ڈیرہ اسماعیل خان سے علی امین گنڈاپور کو بوتل اور کراچی سے خرم شیر زمان کو ڈھول کا نشان دیا گیا ہے۔سوشل میڈیا صارفین نے علی امین گنڈاپور کو بوتل کا نشان دیے جانے پر الیکشن کمیشن کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اور اس کو ذاتی نوعیت کا حملہ قرار دیا ہے۔
یاد رہے کہ سنہ 2014 میں دھرنے کے دوران علی امین گنڈاپور پر اسلام آباد کی پولیس نے شراب کی بوتلیں بنی گالہ لے کر جانے کا الزام عائد کیا تھا مگر وہ بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوئے تھے۔
پشاور سے تحریک انصاف کی امیدوار شاندانہ گلزار کو پیالہ الاٹ کیا گیا ہے، جبکہ محمود جان کو گھڑیال، سابق صوبائی وزیر کامران بنگش کو وایلن، سابق صوبائی وزیر تیمور جھگڑا کو ٹیبل، ارباب شیر علی کو ٹریفک لائٹ، آصف خان کو ہتھ گاڑی، علی زمان کو مور، ایڈووکیٹ شہاب خان کو پیالہ، شیر علی آفریدی کو گھڑیال، نورین عارف کو فاختہ اور مینا خان آفریدی انتحابی نشان صوفے کے ساتھ الیکشن لڑیں گے۔
کراچی سے تحریک انصاف کے امیدوار حلیم عادل شیخ کو ٹیبل ٹینس بال، عالمگیرخان کو بینگن، یاسربلوچ کو ڈھول، خرم شیر زمان کو ڈھول، آفتاب جہانگیر کو کرکٹ سٹیمپ، عطاءاللہ خان کو ریکٹ، ملک عارف اعوان کو ریکٹ جبکہ ارسلان خالد کو الفابیٹ ’پی‘ کا نشان دیا گیا ہے۔پی ٹی آئی کے ترجمان شعیب شاہین کو انتخابی نشان شوز، عامر مغل کو پیالہ جبکہ این اے 48 سے علی بخاری کو پیراشوٹ کا نشان الاٹ کیا گیا ہے۔
