بیوروکریٹس کوڑیوں کے بھاؤ توشہ خانہ لوٹنے لگے

سرکاری توشہ خانہ کے تحائف سستے داموں خریدنے کے الزام میں نیب کے کیسز کا سامنا تو دو سابق وزرائے اعظم کر رہے ہیں لیکن لاہور ہائی کورٹ میں جمع کرائی گئی 18-2017 کی ایک رپورٹ سے لگتا ہے کہ اصل میں توشہ خانہ کو طاقتور بیوروکریٹس دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں۔ یاد رہے کہ اس وقت دو وزرائے اعظم یوسف رضا گیلانی اور نواز شریف سرکاری توشہ خانہ کی گاڑیوں کو کم قیمت پر خریدنے کی وجہ سے نیب کیسز کا سامنا کر رہے ہیں۔
لیکن لاہور ہائی کورٹ میں سرکاری طور پر جمع کروائی گئی ایک رپورٹ میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ 90 بیوروکریٹس نے صرف سال 17- 2018 میں توشہ خانہ سے کوڑیوں کے دام دو کروڑ روپے سے زائد کے تحائف کی خریداری کی۔ اس خریداری کی تفصیل کے مطابق وزارت داخلہ کے سیکشن افسر شہزاد انجم نے نوے لاکھ مالیت کے زیورات خریدے جن کی اصل مالیت تین کروڑ سے زائد تھی۔ پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس کامرہ کے پروگرام منیجر جاوید اقبال نے 27 لاکھ کی بلغارین گھڑی خریدی جسکی اصل قیمت پچاس لاکھ سے زائد تھی۔ ایوان صدر کے پروٹوکول افسر محمد سعید نے 12 لاکھ کی اشیا خریدیں جبکہ مارکیٹ ویلیو کہیں ذیادہ تھی۔ لیکن کابینہ ڈویژن کے نجیب اللہ نے باریک واردات ڈالتے ہوئے صرف 600 روپے میں ایک بدھا کا مجسمہ خرید لیا جو کہ اصل میں لاکھوں کا تھا۔ اسی طرح غلام محمد نامی ایک بیوروکریٹ نے لاکھوں کا ایرانی قالین صرف 3500 روپے میں خرید لیا۔ سیکرٹری ایوان صدر نے بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتے ہوئے ایک قیمتی ماربل ڈیکوریشن پیس صرف دو ہزار روپے میں خرید لیا جبکہ اسسٹنٹ سیکرٹری پروٹوکول ایوان صدر نے تین ہزار روپے میں نایاب فلائی کاٹ ان امبر کا گفٹ خریدا۔ ایک اور بیوروکریٹ نے صرف 20 ہزار میں ایک ایسا قیمتی پورٹریٹ خرید لیا جس کی مارکیٹ ویلیو لاکھوں میں ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور خوش نصیب لٹیرے نے صرف دو ہزار 400 روپے میں دو لاکھ مالیت کا لیمپ اور 45 ہزار 500 روپے میں پانچ لاکھ مالیت کے قیمتی تحائف سے بھرا باکس خریدا۔ باکس میں امپورٹڈ پرفیوم سیٹ، لوبان دان سگریٹ لائیٹر اور نایاب خوشبویات شامل تھیں۔ ایک اور بیوروکریٹ سعید خان نے نو ہزار 500 روپے میں دو ڈیکوریشن پیس اور تین ہزار 250 روپے میں ایک خنجر خریدا جبکہ ان اشیا کی اصل قیمت دو لاکھ سے زائد تھی۔ بلال ظفر نامی خوش نصیب بیوروکریٹ نے تین ہزار روپے میں ٹیبل کلاتھ خریدا۔ کیبنٹ ڈویژن کی ایک اسسٹنٹ رضوان احمد نے چار ہزارروپے میں ایک بیش قیمتی خنجرخریدا۔ سیکرٹری پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ شعیب احمد صدیقی نے بیلا کٹورا کوڑیوں کے بھاو صرف دو ہزار روپے میں خریدا۔ سیکرٹری شماریات ڈویژن رخسانہ یاسمین نے دو عدد کارپٹ صرف 22 ہزار اور 25 ہزار روپے میں خریدے جبکہ انکی اصل قیمت ڈھائی لاکھ روپے بنتی تھی۔ اسی طرح کیبنٹ ڈویژن کی سیکشن آفیسر نجیب اللہ نے 600 روپے میں دوستی کی علامت کا بیش قیمت مجسمہ خریدا۔
یاد رہے کہ مختلف ممالک کے بادشاہوں اور وزیروں کے درمیان تحائف کے تبادلے کی روایت صدیوں پرانی ہے جو آج بھی کسی نہ کسی شکل میں سفارتی روایات کے طور پر زندہ ہے۔ پاکستان میں صدر، وزیراعظم اور اعلی حکومتی حکام کو غیر ملکی معززین سے ملنے والے تحائف کو سرکاری ’توشہ خانہ‘ میں رکھا جاتا ہے۔ ’توشہ خانہ‘ فارسی زبان کا لفظ ہے. ریختہ ڈکشنری کے مطابق اس کے معنی ہیں ’وہ مکان جہاں امیروں کے لباس، پوشاک اور زیورات وغیرہ جمع رہتے ہیں‘۔ پاکستان میں صدر مملکت، وزیراعظم، وزرا، چیئرمین سینٹ، سپیکر قومی اسمبلی، صوبائی وزرائے اعلی، ججز، سرکاری افسران اور حتی کہ سرکاری وفد کے ہمراہ جانے والے عام افراد کو بیرون ملک دورے کے دوران ملنے والے تحائف توشہ خانہ کے ضابطہ کار 2018 کے تحت کابینہ ڈویژن کے نوٹس میں لانا اور یہاں جمع کروانا ضروری ہیں جس کے بعد انہیں سرکاری طور پر نیلام کر دیا جاتا ہے۔
قانون کے مطابق سرکاری طور پر ملنے والے تمام تحائف توشہ خانہ میں جمع کروائے جاتے ہیں۔ تاہم جمع کروانے کے بعد 30 ہزار روپے تک مالیت کے تحائف صدر، وزیراعظم یا جس بھی شخص کو تحفتاً ملا ہو وہ مفت حاصل کر سکتا ہے۔ تاہم 30 ہزار سے زائد مالیت کے تحائف کے لیے ان شخصیات کو اس کی قیمت کے تخمینے کا نصف ادا کرنا لازم ہوتا ہے جس کے بعد وہ اس کی ملکیت میں آ جاتا ہے۔
قیمت کا تخمینہ ایف بی آر اور پرائیویٹ ماہرین لگاتے ہیں۔ تاہم دسمبر 2018 کے ضابطہ کار کے تحت تحفے میں ملنے والی گاڑیاں اور نوادرات خریدے نہیں جا سکتے، بلکہ گاڑیاں سرکاری استعمال میں آجاتی ہیں اور نوادرات صدر، وزیراعظم ہاؤس، میوزیم یا سرکاری عمارتوں میں نمائش کے لیے رکھے جاتے ہیں۔
تحریک انصاف کی حکومت نے گزشتہ سال اکتوبر میں توشہ خانہ کے دو سو کے قریب تحائف کی نیلامی کا اعلان کیا تھا۔ اس حوالے سے کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری مراسلے کے مطابق ان اشیا کی نیلامی میں صرف سرکاری ملازمین اور فوج کے ملازمین حصہ لے سکتے ہیں۔ لیکن اس نوٹیفیکیشن کو لاہور ہائی کورٹ میں چلینج کر دیا گیا تھا جس کے بعد لاہور ہائی کورٹ نے اس سال 25 مئی کو توشہ خانے کے سرکاری تحائف کی خفیہ نیلامی کی پالیسی کو غیر آئینی قرار دیا تھا۔ لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس قاسم خان نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے حکم دیا تھا کہ حکومت اس پر قانون سازی کرے۔ فیصلے کے مطابق درخواست گزار کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ توشہ خانے کی چیزیں پبلک پراپرٹی ہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا تھا کہ ’ان چیزوں کا عجائب گھر بنا دیں، عوام کو بولی میں شامل نہ کرنا دھتکارنے کے مترادف ہے۔‘ کابینہ ڈویژن کے ایک اعلی افسر کے مطابق اس وقت کابینہ ڈویژن ان تحائف کے حوالے سے نئی پالیسی تشکیل دے رہی ہے تاہم یہ بھی امکان ہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا جائے۔
قانون کے مطابق جو تحائف صدر، وزیراعظم یا حکام نہیں خریدتے ان کو ایک مقررہ مدت کے بعد نیلامی میں فروخت کر دیا جاتا ہے۔ لاہور ہائی کورٹ میں جمع کروائی گئی تفصیل کے مطابق اس وقت توشہ خانہ میں 1200 روپے کے پیالوں سے لے کر ڈیڑھ کروڑ روپے تک کی گھڑیوں سمیت متعدد اشیا موجود ہیں جن میں کلاشنکوف، پینٹنگز، گھڑیاں، پین اور سٹیشنری کی اشیا شامل ہیں۔
