بی ایل اے نے اغوا شدہ فوجیوں کے بدلے اپنے بندے مانگ لئے

بلوچستان کے ضلع ہرنائی سے 25 ستمبر کو اغوا ہونے والے سکیورٹی فورسز کے ایک اہلکار سمیت دو افراد کی تاحال بازیابی ممکن نہیں ہوئی ہے، تاہم ان دونوں افراد کو اغوا کرنے کی ذمہ داری قبول کرنے والی تنظیم کالعدم بلوچ لبریشن آرمی نے ان کی رہائی کے بدلے میں قیدیوں کے تبادلے کی پیشکش کی ہے۔
اس سے پہلے ان دونوں مغوی اہلکاروں کے لیے سرچ آپریشن کرنے والا فوج کا ایک ہیلی کاپٹر خوست کے علاقے میں گر کر تباہ ہو گیا تھا جس میں دونوں پائلٹ سمیت چھ اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔
بی بی سی کی رپورٹ مطابق بی ایل اے کی سینیئر کمانڈ کونسل نے منظوری دی ہے کہ پاکستانی فوج کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کا عمل شروع کیا جا سکتا ہے۔ تنظیم کی جانب سے سوشل میڈیا پر ایک بیان جاری کرنے کے علاوہ اغوا کیے جانے والے دونوں افراد کی تصاویر بھی جاری کی ہیں اور دعویٰ کیا ہے کہ دونوں ہی افراد کا تعلق پاکستانی فوج سے ہے۔ تاہم سرکاری حکام صرف ایک سکیورٹی اہلکار کے اغوا کی تصدیق کرتے ہیں جبکہ دوسرے کی شناخت کان میں کام کرنے والے مزدور کے طور پر کی گئی ہے۔
تاحال کالعدم تنظیم کی جانب سے قیدیوں کے تبادلے کی پیشکش پر سرکاری حکام کا رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔یاد رہے کہ ہرنائی میں سیک فوجی اہلکار سمیت دو افراد کو شاہرگ کے علاقے سے اغوا کیا گیا تھا۔ نامعلوم مسلح افراد نے اس علاقے میں بعض لوگوں کو گاڑیوں سے اتارا اور ان میں سے دو کو شناخت کے بعد اپنے ساتھ پہاڑوں کی جانب لے گئے۔ ان افراد میں سکیورٹی فورسز کا ایک نائب صوبیدار اور کوئلے کی کان میں کام کرنے والا ایک مزدور شامل ہے۔ ان افراد کے اغوا کے حوالے سے کمشنر سبی ڈویژن بالاچ عزیز سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ ایک ڈاکٹر سے چیک اپ کروانے کے سلسلے میں کراچی میں ہیں اس لیے وہ اس وقت اس سلسلے میں بات نہیں کر سکتے۔ تاہم ہرنائی میں انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار نے دونوں افراد کے اغوا کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ تاحال ان کی بازیابی ممکن نہیں ہوئی ہے۔
بلوچستان حکومت کے ایک سینیئر عہدیدار نے اغوا کے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اسکے بعد سکیورٹی فورسز نے اس علاقے میں مغویوں کی بازیابی کے لیے سرچ آپریشن کیا تھا۔ اس سرچ آپریشن کے موقع پر فوج کا ایک ہیلی کاپٹر بھی خوست کے علاقے میں گر کر تباہ ہو گیا تھا جس میں دونوں پائلٹ سمیت چھ اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔ حکومت کے ایک سینیئر عہدیدار کے مطابق ہیلی کاپٹر کسی تکنیکی نقص کی وجہ سے گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ تاہم کوئٹہ میں سکیورٹی حکام نے گر کر تباہ ہونے والے ہیلی کاپٹر کے مغویوں کی بازیابی کے لیے آپریشن کا حصہ ہونے کی تصدیق نہیں کی ہے۔ آئی ایس پی آر نے اس حوالے سے جو بیان جاری کیا تھا اس کے مطابق گر کر تباہ ہونے والا ہیلی کاپٹر اس علاقے میں فلائنگ مشن پر تھا۔
کالعدم تنظیم بی ایل اے کی جانب سے مغویوں کی رہائی کے بدلے قیدیوں کے تبادلے کی اعلانیہ پیش کش غالباً اپنی نوعیت کی پہلی پیش کش ہے۔ کالعدم تنظیم کی پیشکش پر سرکاری حکام کا رد عمل معلوم کرنے کے لیے بلوچستان کے مشیر داخلہ اور سکیورٹی حکام سے رابطے کی کوشش کی گئی لیکن ان کی جانب سے کال وصول نہیں کی گئی۔
یاد رہے کہ ہرنائی بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے شمال مشرق میں اندازاً 180 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ ضلع زیادہ تر سنگلاخ پہاڑی علاقوں پر مشتمل علاقہ ہے۔ ہرنائی سیر و سیاحت کے لیے معروف بلوچستان کے ضلع زیارت سے متصل ہے جبکہ اس کی سرحدیں ضلع کچھی کے علاقے بولان، سبی اور کوہلو سے بھی لگتی ہیں۔
