بی بی شہید پر حملے میں مرنے والا خودکش بمبار زندہ نکلا

بے نظیر بھٹو شہید کے قتل کیس میں نامزد تحریک طالبان پاکستان کا خود کش بمبار اکرام اللہ محسود زندہ نکلا۔ جنرل مشرف دور کی تحقیقاتی ٹیموں نے اکرام اللہ محسود کو تحریک طالبان کے سابق سربراہ بیت اللہ محسود کا قریبی ساتھی قرار دیتے ہوئے یہ دعویٰ کیا تھا کہ اکرام ان دو خودکش بمباروں میں شامل تھا جنہوں نے بینظیر بھٹو کی گاڑی کے قریب خود کو دھماکے سے اڑادیا تھا۔ تاہم بیت اللہ محسود نے تب ہی ان دعووں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے بی بی کے قتل میں ملوث ہونے کی تردید کردی تھی۔
محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے قتل کے بارہ برس بعد تحریک طالبان پاکستان سے تعلق رکھنے والے قتل کے مرکزی کردار اکرام اللہ محسود نے دعوی کیا ہے کہ اس کا بی بی کے قتل سے کوئی تعلق نہیں اور اس پر لگا الزام جھوٹا ہے۔
یاد رہے کہ قتل کی تفتیش کرنے والوں نے پہلے اکرام اللہ کو بی بی قتل کیس میں دوسرے خودکش بمبار کے طور پر نامزد کیا تھا۔ تاہم بعدازاں جب یہ پتہ چلا کہ وہ زندہ ہے اور افغانستان فرار ہو چکا ہے تو اکرام اللہ کو پاکستانی اداروں نے مفرور قرار دے کر اس کے سر کی قیمت مقرر کر دی تھی۔ تاہم اب بےنظیر بھٹو قتل کے مبینہ مرکزی کردار اکرام اللہ محسود نے خود پر لگائے گئے الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ وہ بے نظیر کے قتل میں شریک نہیں تھا اور اس پر جھوٹا الزام عائد کیا گیا۔ کسی نامعلوم مقام سے سماجی رابطے کی ایک ویب سائٹ کے ذریعے بھیجے گئے ایک آڈیو پیغام میں اکرام محسود نے کہا ہے کہ سندھ اور پنجاب کے درمیان ’شخصی معاملات‘ کو چھپانے کے لیے یہ الزام عائد کیا گیا۔ اکرام کا کہنا تھا کہ سندھ اور پنجاب پہلے بھی ایک دوسرے کے خلاف ایسے اقدامات کرتے رہے ہیں۔ بےنظیر کا قتل کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ اس حوالے سے تمام تر ثبوت بھی موجود ہوں گے انہوں نے تلاش کرکے سچ تک پہنچنا چاہیے۔ دو مرتبہ وزیر اعظم بننے والی بےنظیر بھٹو کے قتل کے ملزم کا کہنا تھا کہ میں اس بات کو ایک بار پھر دہراتا ہوں کہ سندھ اور پنجاب کی پہلے سے آپس میں دشمنی ہے۔ یہ سب اس لڑائی کا نتیجہ ہے۔ میرے حوالےسے ایک بات مشہور کر دی گئی کہ بےنظیر کو اکرام محسود نے قتل کیا ہے۔ یہ پروپیگینڈا ہے۔ اس حوالے سے میں اب بھی یہ کہتا ہوں کہ بےنظیر کے غم میں شریک ہوں اور ان کا قاتل نہیں ہوں ورنہ مجھے تر دید کرنے کی بھی کوئی ضرورت نہیں تھی۔
بےنظیر بھٹو پر 27 دسمبر 2007 میں راولپنڈی کے لیاقت باغ میں ایک جلسہ عام کے اختتام پر حملہ کیا گیا تھا جس میں وہ شہید ہوئیں۔ ان کے قتل کے حوالے سے قائم کی گئی تحقیقاتی ٹیمیں بھی تاحال کوئی خاطر خواہ رپورٹس جاری نہیں کر سکی ہیں۔ تاہم ایف آئی اے کے تحقیقات کاروں کے خیال میں اکرام اللہ دوسرا بمبار تھا جس نے لیاقت باغ کے گیٹ کے قریب خود کو اڑایا تھا۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ پنجاب حکومت کی جانب سے میڈیا کو جاری کی گئی انتہائی مطلوب افراد کی ایک فہرست میں اکرام اللہ محسود کا نام اب بھی موجود ہے۔ حکومتِ پنجاب نے اکرام اللہ محسود کی گرفتاری یا ہلاکت کی صورت میں 20 لاکھ روپے کا انعام بھی رکھا ہوا ہے۔ وہ بےنظیر کی ہلاکت کے بعد سے روپوش ہے اور خیال ہے کہ افغانستان میں کہیں مقیم ہے۔
2007 میں بےنظیر بھٹو کو قتل کرنے کے بعد اس وقت کے فوجی آمر پرویز مشرف کی حکومت نے الزام لگایا تھا کہ یہ کارروائی تحریک طالبان پاکستان کی ہے۔ اس حوالے سے تحریک طالبان کے بانی اور امیر بیت اللہ محسود کی کسی شخص کے ساتھ ٹیلی فون ٹیپ بھی جاری کی گئی تھی۔ بیان جاری کرنے والے اکرام محسود کا تعلق جنوبی وزیرستان کے علاقے مکین سے ہے اور تحریک طالبان کے ابتدائی متحرک کارکنان میں ان کا شمار ہوتا رہا ہے۔ تاہم مشرف جنتا کی طرف سے یہ الزام عائد کرنے کے اگلے ہی روز تحریک طالبان کے سربراہ بیت اللہ محسود نے بینظیر بھٹو کے قتل میں اپنا ہاتھ ہونے کی سختی سے تردید کی تھی۔
بیت اللہ محسود کی امریکی ڈرون حملے میں وزیرستان میں ہلاکت کے بعد جب حکیم اللہ محسود تحریک طالبان کا سربراہ بنا تو اختلافات کی وجہ سے اکرام محسود نے شہریار محسود گروپ سے اپنا تعلق جوڑ لیا تھا۔ شہریار محسود اور اکرام محسود دونوں بیت اللہ کے قریبی اور زندہ بچ جانے والے چند درینہ ساتھیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ آپریشن ضرب عضب کے بعد قبائلی اضلاع میں طالبان کی سرگرمیاں کافی محدود ہوگئی تھیں تاہم حالیہ دنوں میں ایک بار پھر طالبان کی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق بےنظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات پر کروڑوں روپے خرچ کیے جا چکے ہیں تاہم ریاستی ادارے اور کئی حکومتیں اس بات پر متفق نہیں ہوسکیں کہ بےنظیر کو قتل کس نے کیا اور نہ ہی آج تک کوئی حتمی نتیجہ نکالا جاسکا ہے۔ لیکن یاد رہے کہ بے نظیر بھٹو نے اپنی زندگی میں ہی یہ کہہ دیا تھا کہ اگر میرا قتل ہوجائے تو مشرف کو میرے قتل کیس میں نامزد کیا جائے۔ اور ایسا ہوا بھی لیکن بی بی قتل کیس کا مرکزی ملزم پرویز مشرف قانون کی گرفت میں آنے کی بجائے ملک سے فرار ہوگیا اور آج تک واپس نہیں لایا جا سکا۔
