بے بنیاد الزام تراشی پر لیاقت چٹھ کا ٹھکنا یقینی ہو گیا؟

پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض کے مبینہ دست راست، سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید کے ذاتی دوست اور پی ٹی آئی رہنما میاں اسلم اقبال کے کاروباری شراکت دار سابق کمشنر راولپنڈی لیاقت چٹھ کی جانب سے انتخابی نتائج میں دھاندلی کے الزامات پر ان کے خلاف پنجاب کی نگران کابینہ نے مقدمہ درج کرنے کی منظوری دے دی ہے۔رپورٹ کے مطابق لیاقت علی چٹھہ کے خلاف الیکشن ایکٹ اور ضابطہ فوجداری سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا جائے گا۔ لیاقت چٹھہ کے خلاف مقدمہ کیلئے آئی جی پنجاب کو ہدایات بھی جاری کردی گئی ہیں۔

تاہم قانونی ماہرین کے مطابق اگر سابق کمشنر راولپنڈی ڈویژن ، لیاقت علی چٹھہ ریٹرننگ افسران کی جانب سے عام انتخابات 2024میں انتخابی قوانین کی مبینہ پامالی کرتے ہوئے راولپنڈی ڈویژن سے تعلق رکھنے والے ، مسلم لیگ ن کے ٹکٹ ہولڈر امیدواروں کو بدترین شکست کے باوجود ستر ستر ہزار ووٹوں کی لیڈ سے جتوانے کی مبینہ سازش کی مجموعی ذمہ داری الیکشن کمیشن ،چیف الیکشن کمشنر راجہ اور چیف جسٹس آف پاکستان ،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر ڈال دینے کے الزامات کے خلاف انکوائری کے دوران اپنے الزامات ثابت کرنے میں ناکام ہو جاتے ہیں تو ان کے خلاف مختلف فوجداری و قانونی وآئینی ومحکمانہ کاروائیاں ہو سکتی ہیں ، جس میں 6 ماہ تک قید کی سزا اور سرکار کی نوکری سے برخواستگی اور ریٹائرمنٹ کے بعد پنشن اور دیگر مراعات کا خاتمہ شامل ہے۔

ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ اپنے الزامات ثابت نہ کرنے پر لیاقت چٹھ کو چار طرح کی سزاؤں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جن میں (اول) محکمانہ کاروائی،(دوئم) توہین عدالت کی کاروائی ،(سوئم)توہین الیکشن کمیشن کی کارروائی (چہارم) کسی فرد یا افرادکے خلاف نفرت انگیزی اور سنسنی پھیلانے کے حوالے تادیبی کارروائی شامل ہے۔ تاہم لیاقت چٹھہ کے خلاف دی پنجاب سول سرونٹس رولز 1975کے تحت محکمانہ کاروائی آغاز تو ہفتہ کے روزہی شروع ہوگیاتھا اور انہیں فوری طور پر سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب میں بھجواتے ہوئے قائم مقام کمشنر راولپنڈی ڈویژن مقرر کردیا گیا تھا۔

ماہرین قانون کا کہناہے کہ لیاقت علی چٹھہ نے چیف جسٹس کی ذات کو اس ڈرامے میں نشانہ بنایا ہے ،یہ ان کی ذات کے ساتھ بہت بڑی زیادتی ہے ، اگر سپریم کورٹ چاہے تو وہ لیاقت علی چٹھہ کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کرکے ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کو آگے بڑھا سکتی ہے ،جس میں اگر وہ اپنے الزامات کوثابت نہ کرسکیں تو چھ ماہ تک قید کی سزا اور سرکار کی نوکری سے برخواستگی اور ریٹائرمنٹ کے بعد پنشن اور دیگر مراعات کا خاتمہ ہوسکتا ہے ، چٹھہ کیخلاف توہین الیکشن کمیشن کی کارروائی شروع کی جاسکتی ہے ، الزامات ثابت نہ ہونے کی صورت میں ایف آئی اے حکام سوشل میڈیا پر عام انتخابات کے حوالے سے نفرت اور سنسنی پھیلانے کے جرم میں ان کے خلاف پیکاایکٹ 2016 کی دفعہ 20 کے تحت کاروائی کرسکتے ہیں ،جس کی سزا تین سال قید اور دس لاکھ روپے جرمانہ تک ہوسکتی ہے۔

تاہم یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتاہے کہ سابق کمشنر راولپنڈی لیاقت چٹھہ نے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسی پر الیکشن دھاندلی کے الزامات کیوں لگائے، چیف جسٹس آف پاکستان کا عام انتخابات 2024 میں کیا کردار تھا؟ ان کا الیکشن نمٹانے یا دھاندلی سے کیا تعلق ہے؟

قانونی ماہرین کے مطابق کمشنر راولپنڈی لیاقت حسین چٹھہ کی جانب سے لگائے گئے تمام الزامات میں سے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے بارے میں دعوے سب سے کمزور ہیں کیونکہ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ انتخابات کرانے یا مبینہ دھاندلی میں چیف جسٹس کا کیا کردار تھا۔ اگرچہ کمشنر چٹھہ نے چیف جسٹس پر الزامات عائد کیے ہیں لیکن انہوں نے کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا اور نہ ہی میڈیا کو بریف کیا کہ چیف جسٹس نے انتخابات میں دھاندلی میں کس طرح کردار ادا کیا۔ قانونی ماہرین کے مطابق راولپنڈی کمشنر کے ای سی پی پر الزامات قابل فہم ہیں کیونکہ یہ الیکشن کمیشن ہے جس کے پاس انتخابات کرانے کی ذمہ داری ہے لیکن چیف جسٹس کا کردار سمجھ سے بالاتر ہے۔

عام انتخابات 2024 میں عدلیہ سے ریٹرننگ افسران نہیں لیے گئے اس لیے وہ عدلیہ کے سامنے جوابدہ نہیں رہے۔ ان حالات میں چیف جسٹس دھاندلی میں کیسے ملوث ہیں؟ کمشنر کی پریس کانفرنس کے فوراً بعد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے الزامات کی سختی سے تردید کی۔ انہوں نے ان الزامات کو بے بنیاد اور کسی بھی سچائی یا صداقت سے عاری قرار دیا۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ایسے سنگین الزامات لگاتے وقت ثبوت کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ الزام لگانے والا الزامات کی حمایت میں کوئی ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا ہے۔ انہوں نے بے بنیاد الزامات کے ممکنہ نقصان پر تشویش کا اظہار کیا۔ چیف جسٹس نے تبصرہ کیا کہ کوئی بھی الزام لگا سکتا ہے۔ ایسا کرنا ان کا حق ہے، لیکن یہ ثبوت کے ساتھ ہونا چاہیے۔

کمشنر راولپنڈی کی جانب سے جمع کرائے گئے شواہد کی کمی بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے اسے چوری اور قتل کے الزامات سے تشبیہ دینا ہے۔ دریں اثناء ڈپٹی کمشنر راولپنڈی حسن وقار چیمہ نے کمشنر چٹھہ کے الزامات کو بے بنیاد قرار دے دیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈی آر او اور کمشنر کا انتخابی نتائج سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ کمشنر کی ذمہ داریاں انتخابات سے پہلے ہم آہنگی پیدا کرنا اور تربیت میں مدد فراہم کرنا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کمشنرز انتخابات کی نگرانی کرتے ہیں لیکن انتخابی عمل میں ان کا کوئی کردار نہیں ہے کیونکہ ریٹرننگ افسران اور الیکشن کمیشن ایک دوسرے سے براہ راست رابطے میں رہتے ہیں۔

Back to top button