تاحیات نااہلی کا فیصلہ دینے والے جج اب شرمندہ ہیں یا۔۔؟


چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی جانب سے تاحیات نااہلی کے قانون کو کالا قانون قرار دیے جانے کے بعد عوامی حلقوں میں سوال کیا جا رہا ہے کہ جب آئین کا آرٹیکل 62 ایف ون نااہلی کی مدت کے بارے میں خاموش تھا تو پھر سپریم کورٹ نے نواز شریف کے خلاف ایسا فیصلہ کیوں دیا جس سے وہ زندگی بھر کے لیے سیاست میں حصہ لینے، الیکشن لڑنے اور کوئی حکومتی عہدہ رکھنے کے لیے نااہل قرار پائے؟ آئینی اور قانونی ماہرین کہتے ہیں کہ دراصل مسئلہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں ہے جس کا مقصد نواز شریف کو سیاست سے مائنس کرنا تھا کیونکہ آئین نے تو تاحیات نا اہلی کا ذکر کیا ہی نہیں۔ اس سے بھی زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ نواز شریف کی تا حیات نااہلی کا فیصلہ دینے والے عمرانڈو جج اب عمران کی ممکنہ تاحیات نا اہلی کے پیش نظر یہ تسلیم کر رہے ہیں کہ ان کا فیصلہ سفاکانہ اور ظالمانہ تھا۔ بندیال کے اس اعتراف جرم سے اس الزام کی بھی تصدیق ہوتی ہے کہ عمران خان اور انکے ساتھیوں کے لیے انصاف کا دوہرا معیار اپنایا جاتا ہے۔ حال ہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے توہین عدالت کیس میں عمران کی بربریت سے بھی اس تاثر کو تقویت ملی ہے کہ پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کے لئے عدالتی انصاف کا پیمانہ مختلف ہے۔

یاد رہے کہ موجودہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نواز شریف کی تا حیات نااہلی کا فیصلہ دینے والے سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ کا حصہ تھے۔ تب موصوف نے 5 رکنی بینچ کے ایما پر فیصلہ لکھتے ہوئے قرار دیا تھا کہ جو شخص صادق اور امین نہ رہے اسے عمر بھر کے لئے نااہل کردینا ہی مناسب ہوگا۔ لیکن اب فیصل واوڈا کی جانب سے اپنی تاحیات نااہلی کے خلاف دائر کردہ کیس کی سماعت کرتے ہوئے بندیال کا ضمیر جاگتا ہوا دکھائی دیتا ہے اور انہوں نے اپنے پچھلے فیصلے کو ظالمانہ اور سفاکانہ قرار دے دیا ہے۔
آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے حوالے سے عمر عطا بندیال نے آبزرویشن دی ہے کہ کسی بھی عوامی نمائندے کی تا حیات نااہلی ایک کالا قانون ہے۔ چیف جسٹس کے اس بیان نے جہاں سپریم کورٹ اور چیف جسٹس کے اپنے پرانے کیسوں کے حوالے سے ایک بحث چھیڑ دی، وہیں سیاست اور صحافت سے تعلق رکھنے والے ایک طبقہ نے آئین کی اس شق کے خاتمہ کا مطالبہ شروع کردیا ہے اور یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ جب تک یہ آئینی شق ختم نہیں ہوتی سیاستدان عدلیہ کے ہاتھوں عمر بھر کے لیے نااہل ہوتے رہیں گے۔

آئینی اور قانونی حلقوں کا کہنا ہے کہ دراصل بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ پاکستانی فوج کی طرح عدلیہ بھی سیاسی ہو چکی ہے اور اس وقت سپریم کورٹ سے لے کر ہائی کورٹس اور اس سے بھی نیچے تک ایسے جج اکثریت میں ہیں جنہیں پچھلے ہائبرڈ دور حکومت میں نوکریاں اور ترقیاں ملیں۔ سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ عدلیہ کے حالات اتنے ابتر ہو چکے ہیں کہ اب فوجی اسٹیبلشمنٹ کے لوگ خود تسلیم کرتے ہیں کہ انہوں نے پچھلے دور حکومت میں جن ججز کو لگوایا اور ترقیاں دلوائیں وہ اب مسلسل گند ڈالتے ہوئے عمران خان کا ایجنڈا لے کر آگے بڑھ رہے ہیں اور آنکھیں بند کر کے مرضی کے فیصلے دے رہے ہیں۔

سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ جس طرح عمران کے دور حکومت میں قومی اسمبلی میں آئی ایس آئی کا ایک دفتر کھولا گیا اور ایک کرنل کو اراکین اسمبلی سے ڈیل کرنے کی ذمہ داری دی گئی تھی، بالکل اسی طرح کچھ سینئر فوجی افسران سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججز کو ڈیل کیا کرتے تھے اور ان سے مرضی کے فیصلے لیا کرتے تھے۔ لیکن پاکستانی عدلیہ کے ججز کو چکلے پر بٹھانے کا آغاز نواز شریف کے دوسرے دور حکومت میں ہو چکا تھا جب فیض آباد دھرنا کے ماسٹر مائنڈ نے عمران خان سے مل کر نواز شریف کو اقتدار سے رخصت کرنے کا منصوبہ ترتیب دیا۔ فوجی اسٹیبلشمنٹ کے اس منصوبے کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے سینئر جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے بے نقاب کرنے کی کوشش کی تو انہیں فیض حمید نے چیف جسٹس ثاقب نثار کے ذریعے برطرف کر کے گھر بھجوا دیا۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ شوکت صدیقی نے اپنی برطرفی کے خلاف جو اپیل دائر کی اس کا فیصلہ آج دن تک نہیں ہو پایا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہماری عدلیہ پر کس کردار کے لوگ حاوی ہیں۔ یہ وہی عدلیہ ہے جس نے پاکستانی تاریخ میں پہلی مرتبہ نواز شریف کے خلاف پانامہ کیس کی تحقیقات کے لیے ایک جی آئی ٹی بنائی اور پھر احتساب عدالت کے جج پر سپریم کورٹ کے جج کو مانیٹرنگ جج لگا کر مرضی کا فیصلہ حاصل کر لیا۔ یوں وزیراعظم نواز شریف کو نہ صرف وزارت عظمیٰ سے ہٹا دیا گیا بلکہ انھیں تاحیات نااہل بھی کر دیا گیا۔ اس دوران نواز شریف کو سزا سنانے والے ججوں کی آڈیوز بھی آئیں اور ویڈیوز بھی لیکن سپریم کورٹ کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی اور سابق وزیراعظم آج تک تاحیات نااہلی کر شکار ہیں۔نواز شریف کی نااہلی کے بعد سے عدالتی طوائف الملوکی کا کلچر سپریم کورٹ سے ہوتا ہوا نیچے تک کی عدالتوں میں پہنچ چکا ہے اور معزز جج حضرات اپنے چھوٹے چھوٹے چکلے چلا رہے ہیں جہاں مرضی کا انصاف دیا جاتا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے جو کالے قانون کی بات کی، یہ تو دراصل سپریم کورٹ کے فیصلے ہیں جنہوں نے ایک بہترین قانون کو کالا قانون بنا دیا۔ انکا کہنا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 62 ایف ون میں کوئی خامی نہیں۔ اگر کوئی خامی تھی تو ججوں کے فیصلوں میں تھی جنہوں نے انصاف کے نام پر ناانصافی کی اور نا اہلی کے بجائے نواز شریف کو تاحیات نااہلی کی سزا سنا دی جو کہ آئین میں ترمیم کے مترادف ہے اور یہ حق صرف پارلیمنٹ کے پاس ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کو فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ایما پر ایسا شرمناک فیصلہ دینے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا جسے اب جج حضرات خود سفاکانہ اور ظالمانہ قرار دے رہے ہیں۔

Back to top button