تبدیلی سرکار کے معاملات دگرگوں ہیں

تبدیلی سرکار کے حکومت میں آنے کے بعد حالات اس قدر خراب ہو چکے کہ تبدیلی کا خواب بیچنے والے بھی اُکتا گئے اور اب مایوسی کی باتیں کرنے لگے ہیں۔ وزیراعظم آفس کے اندر حالات یہ ہیں کہ معاونین خصوصی ہر وقت ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے میں مصروف رہتے ہیں۔
ان خیالات کا اظہار سینئر صحافی انصار عباسی نے اپنے تحریری تجزیے میں کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت اقتدار میں تیرہ ماہ گزارنے کے بعد بھی عوام کی امیدوں پر پورا نہیں اترسکی جس وجہ سے اسے عوام کی جانب سے تنقید کا سامنا بھی رہتا ہے۔ انہوں نے کہ مولانا فضل الرحمٰن تحریک انصاف کی حکومت کےلیے کتنا بڑا خطرہ ہوسکتے ہیں، یہ تو بعد میں دیکھا جائے گا لیکن یہ طے ہے کہ عمران خان کے اقتدار کو سب سے زیادہ خطرہ اپنے آپ سے ہے۔
ملک ناگفتہ بہ حالات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ حالات اس قدر خراب ہوچکے کہ تبدیلی کا خواب بیچنے والے بھی اُکتا گئے ہیں اور اب مایوسی کی باتیں کرنے لگے ہیں۔ انصارعباسی نے کہا کہ جو عمران خان پر نثار ہوتے تھے، وہ اب کہتے ہیں کہ یہ تو بہت ہی نالائق نکلے۔ دوسرے تو کیا، اب تو صابر کا صبر بھی جواب دے رہا ہے اور غلام کی زبان تلخ سے تلخ ہوتی جارہی ہے۔ جو پہلے تعریفیں کرتے نہیں تھکتے تھے، عمران خان کا دفاع کرنا اپنی قومی ذمہ داری سمجھتے تھے، پی ٹی آئی کی پروپیگنڈہ ٹیم کا اہم حصہ تھے، اب جو بول رہے ہیں، سن کر لگتا ہی نہیں کہ یہ وہی لوگ ہیں۔
گرتی معیشت اور بڑھتی مہنگائی کے بارے میں انہو ں نے کہا کہ مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے اور عوام رو رہے ہیں، کاروبار ٹھپ ہوچکے اور مارکیٹیں بند پڑی ہیں، گڈ گورننس، بیڈ گورننس کو چھوڑیں، یہاں تو گورننس نام کی کوئی شے ہی نہیں رہی، وزیراعظم فیصلہ کرتے ہیں تو اس پر عمل درآمد نہیں ہوتا، جو کبھی پہلے نہ سنا، نہ دیکھا۔ آپس میں وزیراعظم، وزراء اور بیورو کریسی کے درمیان کوئی ورکنگ ریلیشن شپ نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم آفس کے اندر کے حالات یہ ہیں کہ معاونین خصوصی ہر وقت ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے میں مصروف رہتے ہیں، ماسوائے وزیراعظم عمران خان کے، حکومت کے پاس ایک درجن آدمی بھی ایسے نہیں جن پر کرپشن کے الزامات نہ ہوں اور اس کے نتیجے میں نچلے لیول پر تباہی ہی تباہی ہے۔ جہاں ایک ہزار روپے کی رشوت چلتی تھی، وہاں ایک لاکھ روپیہ مانگا جا رہا ہے، جہاں ایک لاکھ رشوت چلتی تھی، وہاں لیول اب پچاس لاکھ تک پہنچ گیا ہے۔
تحریک انصاف کے خواب بیچنے والوں نے تو یہ بھی کہہ دیا کہ یہ تاثر عام ہے کہ عمران خان کی حکومت ناکام ہو چکی۔ اس ماحول میں مولانا فضل الرحمٰن حکومت کےلیے کتنا بڑا تھریٹ ہوسکتے ہیں، اس بات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ انصار عباسی نے کہا کہ آئندہ چند ماہ پاکستان کی سیاست کو کس رخ پر ڈالیں گے اس حوالے سے کچھ بھی ممکن ہے لیکن ایک بات طے ہے کہ عمران خان کی حکومت کے لیے آئندہ چند ماہ بہت مشکل ہوں گے اور اس کی وجہ صرف مولانا نہیں بلکہ خراب معیشت اور مایوس کن گورننس ہے جس کا فوری علاج ممکن نظر نہیں آ رہا، چاہے معالج پنڈی کا ہی کیوں نہ ہو۔
