تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ق) کے اتحاد میں دراڑیں آ چکیں

پاکستان تحریک انصاف کی رہنما ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ پنجاب اسمبلی کے اسپیکر چوہدری پرویز الٰہی کے ذاتی اقدامات کی وجہ سے ان کی جماعت اور پاکستان مسلم لیگ (ق) کے تعلقات میں پڑنے والی دراڑیں نمایاں ہو چکی ہیں۔
پنجاب میں مخلوط حکومت بنانے والی جماعتوں مسلم لیگ (ق) اور تحریک انصاف کے درمیان تعلقات ایک سال قبل اس وقت شہ سرخیوں کی زینت بنے تھے جب مسلم لیگ(ق) نے حکمران جماعت پر وعدے پورے نہ کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔
اس دوران دونوں جماعتوں کے درمیان اختلافات کی خبریں سامنے آتی رہیں اور رواں سال جون میں یہ اطلاع دی گئی تھی کہ پی ٹی آئی نے مسلم لیگ (ق) کے اراکین قومی اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز فراہم کرنے کے مطالبے پر رضامندی ظاہر کردی ہے جس کے بعد دونوں اتحادی جماعتوں کے معاملات طے پا گئے تھے۔
آج نجی ٹی وی جیو نیوز کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے فردوس عاشق اعوان نے انہیں پنجاب اسمبلی میں داخلے سے روکے جانے کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام اس بات کا واضح عندیہ دیتا ہے کہ دونوں جماعتوں کے درمیان تعلقات اب خراب ہوتے جا رہے ہیں۔9 اگست کو سوشل میڈیا پر زیر گردش ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا تھا کہ فردوس عاشق اعوان کو سیکیورٹی اہلکاروں نے صوبائی اسمبلی کے دروازے پر روکا، عہدیداروں نے انہیں مہمانوں کی فہرست دکھائی، جنہیں پی ٹی آئی کے رکن صوبائی اسمبلی احسن سلیم بریار کی تقریب حلف برداری میں شرکت کی اجازت دی گئی تھی جہاں سے ان کا نام ہٹا دیا گیا تھا اور اس کے بعد وہ پنجاب اسمبلی سے باہر چلی گئی تھیں۔
وزیر اعلیٰ پنجاب کی سابق معاون خصوصی نے کہا کہ کچھ دن قبل میں نے مسلم لیگ (ق) کے نائب صدر کے بیٹے کو پی ٹی آئی میں شمولیت کی سہولت فراہم کی اور پھر انہوں نے پی پی-38 کا ٹکٹ حاصل کر لیا، اگر کوئی پرویز الٰہی کی پارٹی چھوڑ دیتا ہے، کسی دوسرے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑ کر منتخب ہونے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ دونوں جماعتوں کے درمیان کشیدہ تعلقات کا واضح ثبوت ہے۔انہوں نے کہا کہ اسپیکر کی ذاتی حرکتوں کی وجہ سے دونوں اتحادی جماعتوں کے تعلقات میں دراڑیں پڑتی نظر آ رہی ہیں۔
پی ٹی آئی رہنما نے مزید کہا کہ ایسی کئی مثالیں ہیں، صحافیوں سے متعلق ایک بل حال ہی میں پیش کیا گیا اور ایک پرائیویٹ ممبرز ڈے پر منظور کیا گیا جس کے بعد صحافیوں نے احتجاج کیا، میں نے بعد میں آواز اٹھائی کہ یہ حکومت کا نہیں بلکہ ایک پرائیویٹ ممبر کا بل ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس کے بعد ایک پیغام بھیجا گیا کہ حکومت ان کی رضامندی سے قانون سازی کرنے کی پابند نہیں ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب کے مشیر کے طور پر تقرر کے بارے میں بات کرتے ہوئے فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ وزیر اعظم اور سیف اللہ نیازی نے انہیں صوبے میں ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے وہاں جانے پر قائل کیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ الیکشن ہارنے کے باوجود میں نے تین سال صوبے میں کام کیا اور اس کے نتیجے میں پی پی-38 سے فاتح رہی۔انہوں نے کہا کہ حریف اکثر اپنے مخالفین کی ٹانگ کھینچتے ہیں اور یہ ترقی کے لیے کوششیں کرنے کا ایک جمہوری طریقہ تھا اور اگر کسی نے میرے ساتھ ایسا کیا تو میں اس شخص سے کوئی رنجش نہیں رکھوں گی۔
سابق مشیر نے کہا کہ اگر پارٹی محسوس کرے گی کہ ملک اور صوبے کے لیے میری خدمات درکار ہیں تو وزیراعظم عمران خان مجھے ایک نیا کردار سونپیں گے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب ایک مشکل میدان جنگ ہے، تحریک انصاف کی اہم حریف جماعت نے عوام اور بیوروکریسی میں ایک مختلف رجحان قائم کیا ہوا ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار ایک ایماندار آدمی ہیں، وہ میڈیا پر ان عوامی فلاحی کاموں کو اجاگر نہیں کر رہے جو انہوں نے کیے ہیں اور کوئی بھی ایسا شخص جو ان کے کاموں کی بڑائی اور تشہیر نہیں کرتا، وہ میڈیا اسکرینوں پر نمایاں ہونے میں ناکام رہتا ہے۔
