ق لیگ کا تحریک انصاف میں ضم ہونے کا حتمی فیصلہ

مسلم لیگ (ق) نے  تحریک انصاف میں ضم ہونے کا حتمی فیصلہ کرلیا جبکہ وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کا کہنا ہے کہ چوہدری پرویز الٰہی کی ق لیگ کو پی ٹی آئی میں ضم کرنے کی خواہش کسی اور کی ضد معلوم ہوتی ہے ۔

باخبر ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے پارٹی کی سینئر قیادت اور رہنماؤں سے مشاورت مکمل کرلی ہے، جس کے بعد تحریک انصاف میں شمولیت کا حتمی فیصلہ کیا گیا ہے۔چودھری پرویز الٰہی بڑے سیاسی فیصلے کے تحت آج شام 6 بجے اپنے اراکین کے ساتھ تحریک انصاف میں شامل ہوں گے۔ قبل ازیں پرویز الٰہی نے مسلم لیگ (ق) کا اہم اجلاس طلب کیا تھا۔

دریں اثنا چودھری پرویز الٰہی نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی پیش کش پر  (ق) لیگ کو تحریک انصاف میں ضم کرنے کا حتمی فیصلہ کرلیا۔ پرویز الٰہی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے (ق) لیگ کے تحریک انصاف میں انضمام کی پیش کش کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا تھا کہ عمران خان نے کہا ہے کہ ق لیگ پی ٹی آئی میں ضم ہو جائے تو بہتر ہے۔

دوسری جانب وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کا کہنا ہے کہ چوہدری پرویز الٰہی کی ق لیگ کو پی ٹی آئی میں ضم کرنے کی خواہش کسی اور کی ضد معلوم ہوتی ہے۔

ایک بیان میں انکا کہناتھا پرویز الٰہی کی ق لیگ کو پی ٹی آئی میں ضم کرنی کی خواہش ان کی اپنی نہیں لگتی، ق لیگ کو پی ٹی آئی میں ضم کرنے کی خواہش کسی اور کی ضد لگتی ہے۔

چوہدری سالک حسین نے کہا کہ بچوں کی انا اور خواہشات پر سیاسی فیصلے کرنے سے پہلے اپنی کہی باتیں یاد کر لیں، جسے آپ چلا ہوا کارتوس بول رہے ہیں انہی کے سبب پارٹی کی پہچان اور عزت ہے۔

واضح رہے کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے چودھری پرویز الٰہی اور مونس الٰہی کو ق لیگ کے پی ٹی آئی میں ضم ہونے کی پیش کش کی تھی۔ اس سلسلے میں ذرائع کا کہنا ہے کہ مونس الٰہی مسلم لیگ ق کو پی ٹی آئی میں ضم کرنے کے حامی ہیں جب کہ مسلم لیگ (ق) کے سابق ارکان اسمبلی کی اکثریت نے بھی پارٹی کو پی ٹی آئی میں ضم کرنے کی حمایت کردی ہے۔

Back to top button