تحریک انصاف پر بطور پارٹی پابندی لگائے جانے کا کتنا امکان ہے؟

سیاسی و عسکری قیادت کی جانب سے 9 مئی کے ملزمان سے کسی بھی ڈیل یا ڈھیل کے حوالے سے صاف انکار اور شرپسند ٹولے کو قرار واقعی سزا دلوانے میں یکسوئی کے بعد عمرانڈو قیادت اور پی ٹی آئی کا بچنا نا ممکن دکھائی دیتا ہے۔ 9 مئی کے حوالے سے منعقدہ مختلف تقریبات میں حکومتی اور عسکری حکام کی جانب سے کی گئی تقاریر سے اندازہ ہوتا ہے کہ عمرانی شرپسند ٹولے کو کسی بھی صورت معافی ملنے کا کوئی امکان نہیں جب کہ دوسری جانب عمران خان کی جماعت تحریک انصاف کو بھی کالعدم قرار دے کر اس پر بھی پابندی عائد کرنے کی خبریں سامنے آنا شروع ہو گئی ہیں۔ ان خبروں کی تصدیق کرتے ہوئے سیاسی اور عوامی امور کے لئے وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف سیاسی جماعت کی حیثیت سے کام کرنےکےلئے اپنا استحقاق کھوچکی ہے پارلیمنٹ کی متفقہ قرارداد کی روشنی میں پی ٹی آئی کو غیر قانونی جماعت قراردیکر اس کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کرنےکا فیصلہ کسی بھی وقت ہوسکتاہے اس سلسلے میں موزوں وقت پر سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کردیا جائے گا۔

لیگی رہنما نے مزید کہا کہ تحریک انصاف کی قیادت نے ثابت کیاہے کہ اسے ملک و قوم کے مفاد سے کوئی دلچسپی نہیں فرد واحد کا اقتدار اور اسے اپنا ملجیٰ و ماویٰ ثابت کرنا اس کا نصب العین ہے انہوں نے کہا کہ 9 مئی کے واقعات کے بارے میں کابینہ کمیٹی کی رپورٹ سے ثابت ہوچکا ہے کہ تحریک انصاف نے نو مئی کے ملک گیر حملوں کے لئے مکمل منصوبہ بندی کر رکھی تھی اس کا سرغنہ تحریک انصاف کا بانی عمران خان ہے جس نے اپنے فدائین کو تیار رہنےکا حکم کئی ماہ سے دینا شروع کر رکھا تھا اور وہ انہیں خبردار کرتا رہا کہ وہ بہت جلد انہیں کال دے گا جس کے لئے وہ انتظار کریں۔سابق وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ نو مئی کے حملے اس کال کے تناظر میں کئے گئے۔

رانا ثناء نے مزید کہا کہ سیاست میں مسائل اور اختلافات کو طے کرنےکا بہترین اور آزمودہ طریقہ مذاکرات ہوتے ہیں تحریک انصاف سے بھی مذاکرات ہوسکتے ہیں بشرطیکہ وہ ثابت کرے کہ وہ سیاسی جماعت ہے اور پرامن بقائے باہمی پر یقین رکھتی ہے۔ اس کا یہ دعویٰ کہ وہ صرف فوج سے مذاکرات کرے گی ثبوت فراہم کرتاہے کہ تحریک انصاف اور اس کے بانی کا سیاسی رویوں سے کوئی سروکار نہیں ہے۔

سابق وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کے مطابق پی ٹی آئی کے خلاف نو مئی کے اتنے ثبوت ہیں کہ کوئی ابہام باقی نہیں ہے، کہ اس شرپسند ٹولے نے ریاست کیخلاف مسلحہ بغاوت کی ہے۔ رانا ثناء اللہ نے مزید کہا کہ نو مئی تک ہم تحریک انصاف کو سیاسی جماعت کے طور پر لیتے تھے، ہمیں معلوم تھا کہ عمران خان اپنے لوگوں کو آرمی ہاؤسز کے باہر جاکر احتجاج کرنے کیلئے کہہ رہا ہے، ہمارا خیال تھا جیسے احتجاج ہوتا ہے یہ ویسے ہی احتجاج کریں گے، ہم سمجھتے تھے یہ بڑے چوک پر جاکر بیٹھ جائینگے، ہمارا اندازہ تھا کہ ایک دو دن میں انہیں انگیج کر کے اٹھالیا جائے گا، ہمیں یہ اندازہ نہیں تھا کہ ان لوگوں نے حملہ کرنا ہے اور لوٹ مار کرنی ہے، ہمیں ان کے حملے کا اندازہ ہوتا تو انتظامات کچھ اور طرح کے ہوتے۔ رانا ثناء اللہ کا مزید کہنا تھا کہ پولیس کو اسی لیے ہٹایا گیا تھا کہ کوئی جانی نقصان نہ ہو، ہمیں اندازہ ہوتاتو پولیس، انتظامیہ کے علاوہ بھی وہاں ایسے انتظامات تھے کہ یہ پاس نہیں پھٹک سکتے تھے، تاہم ہم نے وہاں سے ایک گارڈ اسی لیے ہٹائی گئی کہ کوئی نقصان نہیں ہو، ان کا پروگرام اور منصوبہ بندی تھی کہ حملہ کرنا اور لوٹ مار کرنی ہے، رانا ثناء اللہ کے مطابق اگر منصوبہ بندی نہیں تھی تو سینئر قیادت کو لوگوں کو سمجھانا چاہئے تھا، کیا پی ٹی آئی رہنماؤں کو معلوم نہیں تھا کہ لوگوں کو کس پوائنٹ پر روکنا ہے؟، پی ٹی آئی سینئر رہنما خود کہہ رہے تھے اس طرح کریں،وہ خود آگ لگانے اور لوٹ مار میں ملوث تھے ۔ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ نو مئی کے ثبوتوں میں پی ٹی آئی کے لوگوں کی اپنی آڈیوز ویڈیوز موجود ہیں، ان کے خلاف نو مئی کے اتنے ثبوت ہیں کہ کوئی ابہام باقی نہیں ہے، ٹرائل ہوگا تو ہی ملزمان کو سزا ہوگی جب ٹرائل ہی اسٹے ہوگیا تو کسی کو سزا کیسے ہوگی؟

Back to top button