تحریک انصاف کا حکومت کیخلاف وکلاء کو میدان میں لانے کا فیصلہ

تمام سہارے چھن جانے کے بعد سیاسی یتیمی کی شکار پی ٹی آئی قیادت نے بند گلی سے باہر نکلنے کیلئے اب وکلاء سے امیدیں باندھ لی ہیں۔ تحریک انصاف سیاسی میدان میں جلد انتخابات کے انعقاد کو مطالبہ منانے میں تاحال یکسر ناکام رہی ہے۔ تاہم اب سیاسی صورت حال جس نہج پر پہنچ چکی ہے پی ٹی آئی کی زیادہ امید اب عدالتوں اور پھر دوسرے نمبر پر وکلا تنظیموں سے ہے۔
اس بات کا برملا اظہار تحریک انصاف کی قیادت گاہے بگاہے کر رہی ہے۔ لاہور میں بدھ کے روز ہونے والا آل پاکستان وکلا کنونشن اس سلسلے کی ہی ایک کڑی سمجھی جا رہی ہے۔سپریم کورٹ بار اور لاہور ہائی کورٹ بار کے زیر انتظام ہونے والا کنونشن بظاہر تحریک انصاف کی چھتری تلے نہیں تھا تاہم کنونشن میں پاس کی جانے والی قرارداد میں وہی مطالبات تھے جو تحریک انصاف پہلے ہی دوہرا رہی ہے۔
اس کنونشن کی سیٹلائٹ اور انٹرنیٹ کی لائیو سٹریمنگ البتہ تحریک انصاف کی ٹیم ہی کر رہی تھی۔ وکلا کنونشن نے پنجاب اور کے پی کے میں انتخابات وقت پر کرانے کی قرار داد بھی منظور کی۔
قرار داد آل پاکستان وکلا نمائندہ کنونشن میں سیکرٹری لاہور ہائی کورٹ بار صباحت رضوی نے پیش کی جس میں کہا گیا کہ وکلا کنونشن انتخابات ملتوی کرنے کی مذمت کرتا ہے۔ الیکشن کمیشن اپنے اختیار کا استعمال کرتے ہوئے عدالت کے فیصلے پر عمل کرے۔ قرارداد میں مزید کہا گیا کہ الیکشن کمیشن کو آئینی مدت سے تجاوز کرکے انتخابات ملتوی کرنے کا اختیار نہیں۔سپریم کورٹ کے ججز پر سیاسی مفادات کے لیے حملے کی مذمت کی جاتی ہے۔ قرارداد میں نشاندہی کی گئی کہ وکلا سپریم کورٹ کے ججز کے اختلافات پر پریشان ہیں۔
خیال رہے کہ اس طرح کے وکلا کنونشنز کی داغ بیل افتخار چوہدری کے دور میں اس وقت پڑی تھی جب ان کو معزول کیا گیا اور پھر کئی سال کی وکلا تحریک کے بعد بالآخر افتخار چوہدری بحال ہو گئے۔ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ کیا تحریک انصاف کے مطالبات کا احاطہ کرنے والا وکلا کنونشن ایک نئی تحریک کا آغاز ہے؟ اس سوال کا جواب خود اسی کنونشن سے ڈھونڈا جا سکتا ہے۔
اس وکلا کنونشن میں زیادہ متحرک بار ایسوسی ایشنز وہ ہیں جن میں آجکل تحریک انصاف کے حمایت یافتہ وکلا گروپس ہی برسر اقتدار ہیں۔ان میں سپریم کورٹ بار، لاہور ہائی کورٹ بار، لاہور کی ضلعی بار اور اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشنز شامل ہیں۔ان تمام بار ایسوسی ایشنز میں پروفیشنل گروپ اقتدار میں ہے جس کی سربراہی تحریک انصاف کے راہنما حامد خان کرتے ہیں تاہم حامد خان جب تقریر کرنے کے لیے آئے تو انہوں نے کہا کہ ’وکلا کسی سیاسی جماعت کے نہیں آئین کے نمائندے ہیں اور نہ ہی کسی جج کی ذات کے لیے اکھٹے ہوئے ہیں بلکہ ادارے کیلئے کھڑے ہیں۔‘انہوں نے عدلیہ کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ’چیف جسٹس پاکستان کو کوشش کرنی چاہیے کہ سب ججز کو اکٹھا کریں۔ آئین کے لیے ججز اکٹھے ہوں اور اختلافات کو دور کریں۔ آئین کا تحفظ کریں۔ آئین کا تحفط وقت کی ضرورت ہے وکلا تنظیموں کو کسی جماعت کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔
کنونشن میں حکومت کی طرف سے لائے گئے عدالتی اصلاحات کے بل پر بھی شدید تنقید کی گئی۔خیال رہے کہ قومی اسمبلی میں عدالتی اصلاحات سے متعلق بل بھاری اکثریت سے منظور کیا گیا ہےجہاں حزب اختلاف اور حکومتی اراکین نے اس بل کی بھرپور حمایت کی ہے وہیں چند آزاد اراکین نے اسے عدلیہ پر قدغن قرار دیا ہے۔
بینچز کی تشکیل کے حوالے سے قومی اسمبلی سے آج ترامیم کے بعد منظور کیے گئے بل میں کہا گیا ہے کہ عدالت عظمیٰ کے سامنے کسی وجہ، معاملہ یا اپیل کو چیف جسٹس اور دو سینئر ترین ججز پر مشتمل ایک کمیٹی کے ذریعے تشکیل دیا گیا بینچ سنے گا اور اسے نمٹائے گا، کمیٹی کے فیصلے اکثریت سے کیے جائیں گے۔عدالت عظمیٰ کے اصل دائرہ اختیار کو استعمال کرنے کے حوالے سے بل میں کہا گیا کہ آرٹیکل 184(3) کے استعمال کا کوئی بھی معاملہ پہلے مذکورہ کمیٹی کے سامنے رکھا جائے گا۔
اس حوالے سے کہا گیا کہ اگر کمیٹی یہ مانتی ہے کہ کسی بھی بنیادی حقوق کے نفاذ کے حوالے سے عوامی اہمیت کا سوال پٹیشن کا حصہ ہے تو وہ ایک بینچ تشکیل دے گی جس میں کم از کم تین ججز شامل ہوں گے۔آرٹیکل 184(3) کے دائرہ اختیار کا استعمال کرتے ہوئے عدالت عظمیٰ کے بینچ کے کسی بھی فیصلے پر اپیل کے حق کے بارے میں بل میں کہا گیا کہ بینچ کے حکم کے 30 دن کے اندر اپیل سپریم کورٹ کے لارجر بینچ کے پاس جائے گی، اپیل کو 14 دن سے کم مدت کے اندر سماعت کے لیے مقرر کیا جائے گا۔
بل میں قانون کے دیگر پہلوؤں میں بھی تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں، اس میں کہا گیا ہے کہ ایک پارٹی کو آئین کے آرٹیکل 188 کے تحت نظرثانی کی درخواست داخل کرنے کے لیے اپنی پسند کا وکیل مقرر کرنے کا حق ہوگا۔اس کے علاوہ یہ بھی کہا گیا کہ کسی وجہ، اپیل یا معاملے میں جلد سماعت یا عبوری ریلیف کے لیے دائر کی گئی درخواست 14 دنوں کے اندر سماعت کے لیے مقرر کی جائے گی۔
