تحریک انصاف کا سوشل میڈیا سب جماعتوں سے تگڑا کیوں؟


حالانکہ اپنے پونے چار سالہ دور اقتدار میں عمران خان کی حکومت نے سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ پر پابندیاں لگائیں اور درجنوں صحافیوں کو گرفتار بھی کیا لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ تحریک انصاف سوشل میڈیا کے محاذ پر سب سے تگڑی جماعت ہے۔ اس کا ایک ثبوت عمران نے اگلے روز ڈیڑھ لاکھ افراد کو ٹوئیٹر سپیس پر خطاب کر کے دیا۔
یاد رہے کہ ٹوئٹر سپیس ایک گروپ کال کی طرح ہوتا ہے جسے ٹوئٹر اکاؤنٹ رکھنے والا کوئی بھی صارف لنک کے ذریعے جوائن کر سکتا ہے۔کسی بھی سپیس میں مائیک کُل 13 افراد کے پاس ہوتا ہے جن میں ایک میزبان، زیادہ سے زیادہ دو شریک میزبان اور 10 دیگر سپیکر ہوتے ہیں، سپیس میں موجود باقی صارفین مقررین کو سن سکتے ہیں اور بولنے کیلئے میزبانوں سے مائیک کی درخواست کر سکتے ہیں۔
پاکستان کی سیاسی جماعتیں 2013 کے انتخابات کے پہلے سے سوشل میڈیا کا استعمال کر رہی ہیں لیکن اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ پی ٹی آئی ملک کی وہ پہلی سیاسی جماعت ہے جس نے سوشل میڈیا کے ذریعے اپنا بیانیہ ناصرف پاکستان بلکہ بیرونِ ملک بسے ہزاروں پاکستانیوں تک پہنچانے کا کام شروع کیا اور اب بھی یہ اس کام میں دوسری تمام جماعتوں سے کہیں آگے ہے۔جس طرح عمران نے ٹوئٹر سپیس کو ڈیجیٹل ’جلسے‘ میں بدل دیا، وہ باقی جماعتوں کے لیے حیران کن ہے۔
سینئر صحافی اور کالم نگار نصرت جاوید سوشل میڈیا کو ایک ’ایکو چیمبر‘ قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ ایک گنبد ہے جس میں آپ اپنی ہی بات کیے جا رہے ہوتے ہیں، دوسروں کو مخاطب نہیں کر رہے ہوتے اور کسی کی رائے تبدیل نہیں کر رہے ہوتے۔ میڈیا میٹرز فار ڈیموکریسی کے ساتھ بطور ڈیجیٹل رائٹس لیڈ کام کرنے والی حجا کامران کہتی ہیں کہ پاکستان کی سیاست میں سوشل میڈیا بہت دیر سے آیا مگر وہ آیا ہی پی ٹی آئی کی وجہ سے تھا، اُن کے مطابق یہ وہ پہلی جماعت تھی جس نے سوشل میڈیا کا استعمال شروع کیا۔ 2013 کے انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے حجا کامران نے بتایا کہ اس وقت ٹوئٹر کے بجائے فیس بک زیادہ مقبول تھی اور پی ٹی آئی نے یونیورسٹیوں میں اپنے ایمبیسیڈر بنائے، حجا کے مطابق باقی پارٹیوں نے ان کو دیکھ کر سوچا کہ اچھا سیاست میں سوشل میڈیا بھی استعمال ہو سکتا ہے اور اب تو زیادہ تر سیاستدانوں کے بیانات سوشل میڈیا خاص کر ٹوئٹر سے جاری ہو رہے ہوتے ہیں۔
پی ٹی آئی نے 2013 اور 2018 کے انتخابات میں نوجوانوں پر توجہ دی جو اپنا زیادہ تر وقت سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز پر گزارتے ہیں، وہ کہتی ہیں کہ ان کے سارے سپورٹر وہ لوگ ہیں جو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا استعمال کرکے بڑے ہوئے ہیں جنھیں سوشل میڈیا کے کردار اور اس کی اہمیت کا اندازہ ہے۔ پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا حکمتِ عملی کے حوالے سے پاکستان میں ڈیجیٹل حقوق کی ماہر اور ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کی بانی نگہت داد کا ماننا ہے کہ نا صرف پی ٹی آئی کے لوگ سوشل میڈیا کے ٹرینڈز اور پروڈکٹس پر نظر رکھتے ہیں بلکہ انھیں ان سب ٹولز پر اجارہ داری بنائے رکھنی بھی آتی ہے۔ لیکن ایک ثاثر یہ بھی ہے کہ ہو سکتا ہے کہ اس مرتبہ نوجوان زیادہ تعداد میں تحریکِ انصاف کو ووٹ ڈالیں مگر شہروں اور دیہاتوں کے مقامی حقائق اس سے مختلف ہوتے ہیں، فرض کریں لاڑکانہ یا سکھر میں ایک شخص تحریکِ انصاف کے ٹکٹ پر الیکشن لڑ رہا ہے تو شاید وہ جیت جائے، شہروں کی حد تک تو سوشل میڈیا اثرانداز ہوگا مگر بہت بڑے پیمانے پر نہیں۔ پی ٹی آئی کی ٹوئیٹر سپیسز والی حکمت عملی اس صورت کامیاب ہو سکتی ہے جب ان میں احساس پروگرام اور ہیلتھ کارڈ جیسے منصوبوں کا ذکر کیا جائے، بہت سے لوگ خصوصاً خواتین اور بیرونِ ملک پاکستانی جو جلسوں میں نہیں جا سکتے، انھیں راغب کرنے کے لیے یہ سپیسز بہترین ذریعہ ہیں، باقی جماعتوں کی روایتی سیاست کے مقابلے میں پی ٹی آئی نے ان سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بہت زیادہ توجہ اور وسائل صرف کیے ہیں جبکہ دوسری جماعتوں نے سوشل میڈیا پر نہ توجہ دی نہ ان کے پاس اتنے وسائل ہیں۔
ماضی میں خواتین گھریلو مصروفیات کے باعث سیاست سے کوسوں دور تھیں لیکن سوشل میڈیا کی مقبولیت کے بعد اب آگاہی بہت زیادہ ہے اور خواتین ووٹر سیاسی جماعتوں کے منشور سے لے کر ان کے دعووں کی حقیقت آن لائن جا کر پرکھ سکتی ہیں، اسی لیے اب ہر پلیٹ فارم پر یہ خواتین نہ صرف سیاسی بحث و مباحثے کا حصہ ہیں بلکہ اپنے خیالات کا اظہار بھی کر سکتی ہیں۔

Back to top button