تحریک انصاف کی انتخاب پر فساد کی سازش بے نقاب؟

سانحہ 9 مئی کی شرپسندانہ کارروائیوں کی وجہ سے زیر عتاب تحریک انصاف نے ملک کو عدم استحکام کا شکار کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ آمدہ الیکشن میں اپنی شکست کو دیکھتے ہوئے تحریک انصاف نے الیکشن کے موقع پر ایک بار پھر ملک میں فساد پھیلانے کی منصوبہ بندی مکمل کر لی ہے۔ روزنامہ امت کی ایک رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کی سامنے آنے والی منصوبہ بندی کے مطابق پولنگ ڈے پر سہہ پہر چار بجے کے قریب جب پی ٹی آئی کو اندازہ ہو جائے گا کہ اس کی شکست یقینی ہے تو ملک بھر ، خاص طور پر پنجاب اور خیبر پختو نخوا کے تقریبا ہر پولنگ اسٹیشن پر ٹولیوں کی شکل میں احتجاج کا سلسلہ شروع کر دیا جائے گا یہی احتجاج بعد میں پر تشدد فساد میں تبدیل ہو گا۔
اس معاملے سے آگاہ ذرائع کے بقول پی ٹی آئی کو خود بھی ادراک ہے کہ وہ اپنی جس ستر فیصد مقبولیت کا ڈھنڈورا پیٹ رہی ہے، یہ محض سوشل میڈیا کی حد تک ہے۔ گراؤنڈ پر صورتحال اس کے بالکل برعکس ہے۔ چنانچہ اس متوقع شکست کے پیش نظر پولنگ ڈے پر احتجاج کی آڑ میں فساد کا پلان ترتیب دیا جا رہا ہے ، جس کی منظوری جیل میں قید عمران خان نے دی ہے۔ ذرائع کے مطابق مجوزہ احتجاج میں خواتین کی تعداد کو زیادہ رکھا جائے گا۔ اس سلسلے میں ہر عمر کی خواتین کارکنان کا انتخاب کیا جا رہا ہے، جبکہ واٹس ایپ گروپوں میں اس حوالے سے پیغامات کا تبادلہ بھی جاری ہے۔ یہ بھی یقینی بنایا جائے گا کہ خواتین کے ساتھ بچے بھی ہوں تا کہ پولیس کے ایکشن میں آنے کی صورت میں مظلومیت کا کارڈ موثر طور پر کھیلا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق اس موقع پر پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ٹیم پوری طرح متحرک ہوگی۔ تاکہ موقع پر موبائل فون کے ذریعے بنائی جانے والی ویڈیوز کوفوری انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کیا جائے اور مظلومیت اور دھاندلی کے پرو پیگنڈے کو دنیا بھر میں پھیلا یا جا سکے۔ پی ٹی آئی کور کمیٹی کو اس پلان پر عملدرآمد کا ٹاسک دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ بھی خارج از امکان نہیں کہ پولنگ ڈے پر 9 مئی جیسا ایک اور ایڈوینچر کرنے کی کوشش کی جائے۔ پی ٹی آئی حلقوں میں ایسی کارروائی ڈلابے کے اشارے بھی مل رہے ہیں ۔ اس میں پی ٹی آئی کی سپورٹ بیسڈ خیبر پختو نخوا اور گلگت بلتستان میں ہوگی ۔
ذرائع کے بقول عمران خان کی جانب سے تسلسل کے ساتھ سقوط ڈھا کہ اور خود کو بار بارشیخ مجیب سے تشبیہ دینا اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ پولنگ ڈے اور اس کے بعد الیکشن نتائج کو مستر دکر کے اسی بیانیہ پرفساد کی تیاری کی جارہی ہے۔ تاہم ذرائع کے بقول اس بار ادارے پوری طرح چوکس ہیں اور اس نوعیت کی گھناؤنی منصوبہ بندی پر پوری نظر رکھی جارہی ہے۔ ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ 9 مئی کے واقعات میں مفرور مراد سعید علی امین گنڈا پور، حماد اظہر اور اعظم سواتی سمیت دیگر پی ٹی آئی رہنماؤں کی گرفتاری کے لئے آپریشن ہنٹ“ جاری ہے، اسے ترک نہیں کیا گیا ہے۔ آج نہیں تو کل آخر کا رانہوں نے قانون کی گرفت میں آنا ہے۔
