تحریک انصاف کی کرپشن کے خلاف تحقیقات ہونی چاہیے

ترجمان سندھ حکومت مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ کرپشن اور تحریک انصاف لازم و ملزوم ہیں، پی ٹی آئی کے بغیر آپ کرپشن کا لفظ لکھ نہیں سکتے اور اب وقت آ گیا ہے کہ تحریک انصاف کی کرپشن کے خلاف تحقیقات اور کارروائی ہونی چاہیے۔
کراچی میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ سندھ حکومت نے ٹھٹہ میں کاٹھور کے علاقے میں کھجور کے پودے کو لگانے کا عمل شروع کیا اور وہ پودے تناور درخت میں تبدیل ہو چکے ہیں جو پھل دے رہے ہیں یعنی پاکستان میں اب کھجور پیدا ہونا شروع ہو گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چین اور تھائی لینڈ سے آنے والے تکنیکی ماہرین انہوں نے ٹھٹہ جا کر تجزیہ کیا اور ان کا کہنا ہے کہ ان درختوں کا معیار ملائیشیا کے عین مطابق ہے۔ حکومت سندھ نے فیصلہ کیا کہ اس پائلٹ پراجیکٹ کو مکمل کرنے کے لیے ہم اپنی ایکسٹریکشن مل لگائیں گے تاکہ اس پھل سے ہم پام آئل کو نکال سکیں اور کھجور کا گھریلو چیزوں میں استعمال کیا جا سکے۔
پچھلے دنوں سندھہ کابینہ نے محکمہ ماحولیات کو اس بات کی منظوری دی تھی کہ آپ اپنی مل کو درآمد کریں اور چین سے تیل نکالنے کی مل کو منگوا لیا گیا ہے اور اسے کراچی سے ٹھٹہ منتقل کردیا گیا ہے اور انشااللہ اگلے 30روز میں اسے کی تنصیب کردی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم پرامید ہیں کہ 30-45 دن میں ٹھٹہ کا پام آئل سے مل تیل نکالنا شروع کردے گی اور حکومت نے سندھ نے اس کھجور کے درختوں کو مزید تیزی سے کاشت کرنے کی منصوبہ بندی کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں سندھ کابینہ نے ایک اور اہم فیصلہ کیا ہے جس کے تحت ٹھٹہ کے اندر 1500 ایکڑ زمین مزید کھجور کے درخت کاشت کیے جائیں گے تاکہ صحیح معنوں میں ہم کھجور کی شجر کاری کر سکیں اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کو بروئے کار لاتے ہوئے اسے مزید بہتر بنایا جا سکے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ حکومت سندھ پرامید ہے کہ اس فیصلے کے دوررس نتائج سامنے آئیں گے اور پاکستان پام آئل درآمد کرنے والے ممالک کی فہرست سے نکل کر ان ممالک میں شمار ہونے لگے گا جو پام آئل خود پیدا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان محترمہ بینظیر بھٹو کے وژن کے عین مطابق پاکستان جو سالانہ 4ارب ڈالر پام آئل کی شجرکاری پر خرچ کر رہا تھا اس درآمدات کے بل میں خاطر خواہ کمی لا پائیں گے اور جب یہ مل چلے گی تو سیکڑوں افراد کو روزگار بھی ملے گا، سرمایہ کاری ہو سکے گی اور ٹھٹہ کے حالات کو ہم بہتر کر سکیں گے۔ ترجمان حکومت سندھ نے کہا کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے جو چیلنج تحریک انصاف کی ناکام نکمی حکومت کو کیا تھا وہ ان کی حکومت آج بھی پورا نہیں کر پائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ باتوں کی حد تک تو بہت الزامات لگاتے ہیں لیکن جو مناظرے کی بات بلاول بھٹو زرداری صاحب نے عمران خان کے توسط سے کی تھی وہ ابھی تک وفاقی حکومت پورا نہیں کر پائی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف اور کرپشن اب لازم و ملزوم بن چکے ہیں، اس کرپٹ حکومت کی وجہ سے ادویہ کا اسکینڈل دو دفعہ آ چکا ہے، گندم کا ایک اسکینڈل آ چکا ہے اور دوسرا اسکینڈل آنے والا کیوں کہ سب کو نظر آ رہا ہے کہ ملک میں گندم کا شدید بحران ہے۔ سندھ حکومت کے ترجمان نے کہا کہ پیٹرولیم کا بحران ان کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے آیا اور تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ ریاست نے پیٹرولیم کے جو ریٹ مقرر کیے، ان پر عوام کو پیٹرول دستیاب نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ جب یہ حکومت آئی تو چینی کا ریٹ 55 روپے تھا لیکن آج اس حکومت کی غلط، کرپٹ اور مافیا کو سپورٹ کرنے کی پالیسی کی وجہ سے چینی آپ کو پاکستان میں 90-92 روپے فی کلو پر نظر آتی ہے اور یہ صورتحال وزیر اعظم کے نوٹس لیے جانے کے بعد کی ہے اور انہوں نے جب بھی کسی صورتحال کا نوٹس لیا تو غریب آدمی کا استحصال ہوا۔
انہوں نے کہا کہ یہ فرشتے ماضی میں ہر حکومت پر کرپشن کا الزام لگاتے تھے، آڈیٹر جنرل کی رپورٹ لاتے تھے، میں سوال یہ رکھنا چاہوں گا کہ اب ان کے دور اور حکومت کے بارے میں رپورٹ آ چکی ہے کہ 270ارب روپے کی بے ضابطگیاں ہیں اور غلط استعمال کیا گیا، یہ بات کوئی اپوزیشن جماعت نہیں بلکہ آڈیٹر جنرل کر رہا ہے۔ مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ماضی میں انہی آڈیٹر جنرل کی رپورٹ دکھا کر یہی مراد سعید اور ان کے بہت سارے وفاقی وزرا آڈیٹر جنرل کی رپورٹس دکھا کر دوسری حکومتوں اور سیاسی جماعتوں پر کرپشن کے الزام لگاتے تھے، آج میں سوال پوچھنا چاہوں گا کہ خان صاحب آپ اس 270ارب روپے کا کب جواب دیں گے۔ پیپلز پارٹی کے رہنما نے سوال کیا کہ جو اربوں روپے کا نقصان آپ نے چینی اسکینڈل میں پاکستان کے عوام کو پہنچایا اس کا جواب کب دیں گے، جو اربوں روپے کا نقصان آپ نے پیٹرولیم اسکینڈل میں غریب عوام کو پہنچایا ہے، اس کا جواب آپ کب دیں گے، جو اربوں روپے کا نقصان ادویہ اور گندم کے اسکینڈل میں آپ کی حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے غریب عوام کو ہوا ہے، اس کا جواب کب دیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ پارلیمان کے اندر اور باہر ان مسائل کو اجاگر کر رہی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ کرپشن اور پی ٹی آئی لازم و ملزوم ہیں اور پی ٹی آئی کے بغیر آپ کرپشن کا لفظ لکھ نہیں سکتے اور ان کے بغیر کرپشن ہو نہیں سکتی۔ ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ تحریک انصاف کی کرپشن کے خلاف تحقیقات ہونی چاہئیں اور اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہئیں، جن لوگوں نے پاکستان کے 22 کروڑ عوام کا استحصال کیا ہے اور انہیں نقصان پہنچایا ہے، پی ٹی آئی کے ان نام نہاد لیڈرز کے خلاف سخت سے سخت کارروائی ہونی چاہیے۔
