تحریک عدم اعتماد کا مقصد نئے آرمی چیف کا راستہ روکنا ہے


معروف اینکر پرسن اور صحافی حامد میر نے انکشاف کیا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں نے وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا فیصلہ تب کیا جب انہیں معلوم ہوا کہ عمران خان اپریل 2022 ء میں اپنی مرضی کا آرمی چیف مقرر کرنے کا اعلان کر دیں گے جس کے بعد اپوزیشن اور میڈیا کے خلاف ایک بڑا کریک ڈاؤن ہو گا۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں حامد میر کہتے ہیں کہ عمران خان کو توقع نہیں تھی کہ زرداری صاحب اُس شہباز شریف کو وزیراعظم بنانے پر تیار ہو جائیں گے، جو ان کا پیٹ پھاڑنے کے دعوے کیا کرتے تھے۔ یہی تو فرق ہے خان صاحب اور زرداری صاحب میں۔ زرداری صاحب نے اپنی انا کی قربانی دے دی لیکن خان صاحب کی انا تو مینار پاکستان سے بھی بلند ہے۔ حامد میر کہتے ہیں کہ اب یہ بھی سن لیجیے کہ وہ مسلم لیگ (ن) اور جے یو آئی (ف)، جس نے پارلیمنٹ سے استعفوں کے معاملے پر پی ڈی ایم توڑ دیا اور پیپلز پارٹی کو خدا حافظ کہہ دیا، وہ اچانک تحریک عدم اعتماد پر کیسے راضی ہو گئے؟ تو جناب قصہ یوں ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو تحریک انصاف کے کچھ باغی ارکان اور اتحادیوں نے خبردار کیا کہ عمران خان اپریل 2022 ء میں اپنی مرضی کا آرمی چیف مقرر کرنے کا اعلان کر دیں گے۔ اس کے بعد اپوزیشن اور میڈیا کے خلاف ایک بڑا کریک ڈاؤن ہو گا۔ اس کریک ڈاؤن کو قانونی جواز بخشنے کے لیے کچھ صدارتی آرڈینینس جاری کیے جائیں گے۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کو یہ خبریں جنوری میں ملنا شروع ہو گئی تھیں۔
ان جماعتوں کو یہ پتہ بھی چل گیا کہ عمران خان آئندہ انتخابات میں ہر قیمت پر دو تہائی اکثریت حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اسی لیے انہوں نے کچھ اتحادی جماعتوں پر دباؤ ڈالا کہ وہ اپنے آپ کو تحریک انصاف میں ضم کر دیں۔ پھر ایک وفاقی وزیر نے اپوزیشن کو یہ خبر دی کہ خان صاحب آئندہ انتخابات کے بعد پاکستان میں صدارتی نظام نافذ کرنا چاہتے ہیں اور 1973ء کے آئین کا حلیہ بگاڑنا چاہتے ہیں۔
بقول حامد میر، 73 کا آئین پاکستانیوں کا واحد متفقہ سیاسی دستاویز ہے، جس نے اس ملک کو متحد کر رکھا ہے۔ آئین سے کھیلنے کا مطلب پاکستان کی سلامتی سے کھیلنا تھا لہذا مسلم لیگ (ن) اور جے یو آئی (ف) نے فیصلہ کیا کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر آئینی طریقے سے عمران خان کو ہٹایا جائے اور آئین کو بچایا جائے۔ حامد میر کہتے ہیں کہ اب خان صاحب اسے غیر ملکی سازش قرار دے رہے ہیں اور سیاسی شہید کا درجہ پانے کی خاطر رنگ برنگی کہانیاں سنا رہے ہیں۔
حامد میر کہتے ہیں کہ 27 مارچ کو ساری دنیا عمران خان کی تقریر کا انتظار کر رہی تھی۔ خان صاحب نے کسی بڑے سرپرائز کا وعدہ کر رکھا تھا۔ اسلام آباد کے پریڈ گراؤنڈ میں دس لاکھ افراد کو اکٹھا کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ امر بالمعروف کے نام پر منعقد کیے گئے اس جلسے میں مغرب کی نماز کا وقت ہوا تو سٹیج سے فجر کی اذان نشر کر دی گئی۔ بظاہر یہ ایک چھوٹی سی انسانی خطا تھی لیکن اس نے ثابت کر دیا کہ دین کو سیاست کے لیے استعمال کرنے والوں کے پاس ایک مؤذن بھی دستیاب نہ تھا۔
حامد میر کے مطابق پریڈ گراونڈ جلسہ گاہ کم اور جلوہ گاہ زیادہ لگ رہی تھی۔ امر بالمعروف کے نام پر ناچ گانا ہو رہا تھا۔ ‘منافقت کے جلوے‘ پوری دنیا دیکھ رہی تھی۔ جو صحافی دوست اس جلوہ گاہ میں موجود تھے، ان کا کہنا تھا کہ جب عمران نے تقریر شروع کی تو تیس ہزار کے قریب لوگ جلوہ گاہ کے اندر اور باہر موجود تھے اور تقریر ختم ہونے تک یہ تعداد اور بھی کم ہو گئی تھی۔ خان صاحب کی تقریر کافی لمبی تھی۔ وہ نہ تو دس لاکھ افراد کا جلوہ دکھا سکے اور نہ ہی تقریر میں کوئی سرپرائز موجود تھا۔ ان کے ٹرمپ کارڈ کا بہت چرچا تھا لیکن یہ آخر میں بھٹو کارڈ نکلا۔ خان صاحب فرما رہے تھے کہ جس طرح آزاد خارجہ پالیسی کی وجہ سے ذوالفقار علی بھٹو کو سازش کے ذریعے حکومت سے نکالا گیا، ویسے ہی ان کے خلاف بھی سازش ہو رہی ہے۔دوسرے الفاظ میں جناب وزیراعظم یہ الزام لگا رہے تھے کہ فوج اور اپوزیشن بیرونی امداد سے میرے خلاف سازش کر رہے ہیں۔ تقریر کے دوران ہی ان کے ایک اتحادی خالد مگسی نے فون کیا اور کہنے لگے  کہ بھائی اب تک کون سا سرپرائز آیا ہے؟ میں ہنس دیا اور وہ بھی ہنس دیے۔ مگسی صاحب قومی اسمبلی میں بلوچستان عوامی پارٹی کے پارلیمانی لیڈر ہیں۔ عمران خان کی حکومت نے انہیں اپنے ساتھ رکھنے کے لیے پیار محبت کی بجائے دھونس اور دھمکی سے کام لیا اور دھمکی کے لیے، جن کو استعمال کیا، وہ بھی ایک قومی راز ہے۔
بقول حامد میر دھمکی دینے والوں کا بروقت علاج ہو گیا۔ اگر خان صاحب اپنے اتحادیوں کے ساتھ عاجزی و انکساری سے بات کرتے تو شاید انہیں 27 مارچ کو پریڈ گراؤنڈ میں اتنا بڑا ڈرامہ کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی۔ انہوں نے جیب سے ایک خط نکالا اور واپس اپنی جیب میں ڈال دیا۔ نہ دس لاکھ افراد کا جلوہ، نہ کوئی سرپرائز اور نہ ہی ٹرمپ کارڈ۔ تقریر ختم ہونے پر خواجہ حیدر علی آتش کا یہ شعر یاد آیا،
بڑا شور سنتے تھے پہلو میں دل کا
جو چیرا تو اک قطرۂ خوں نہ نکلا
عمران خان کے فلاپ ڈرامے کے بعد وزیر داخلہ شیخ رشید کا منہ دیکھنے والا تھا، انہیں ”اپنے کپتان سے اتنے بڑے دھوکے‘‘ کی توقع نہ تھی۔ شیخ رشید نے 1977ء کی تحریک نظام مصطفی میں بھٹو حکومت کے خلاف بڑا سرگرم کردار ادا کیا تھا۔ کپتان کی تقریر نے شیخ صاحب کے ماضی کو پھر سے داغدار کر دیا۔ آج انہی عندلیب یاد آ رہی تھی۔ سید محمد خان رند والی عندلیب، جنہوں نے فرمایا تھا،
آ عندلیب مل کے کریں آہ و زاریاں
تو ہائے گل پکار میں چلاؤں ہائے دل
حامد میر کے بقول شیخ رشید کو بھی پتہ ہے کہ عمران غلطی پر غلطی کر رہے ہیں۔ 1977ء اور 2022ء میں بہت فرق ہے۔ 1977ء میں ضیا مارشل لاء کے ذریعے بھٹو کی حکومت ختم کی گئی تھی۔ 2022ء میں آئین کے تحت تحریک عدم اعتماد کے ذریعے عمران خان کو ہٹایا جا رہا ہے۔ اصل کہانی یہ ہے کہ عمران خان  26 مارچ تک اپنے اتحادیوں کو یہ تاثر دیتے رہے کہ میں کہیں نہیں جا رہا۔ لہذا آپ جس تنخواہ پر میرے ساتھ کام کر رہے ہیں، اسی پر کام کرتے رہیں۔ ایک وفاقی وزیر نے اتحادیوں کے سامنے بار بار جنرل قمر جاوید باجوہ کا نام استعمال کیا اور کہا کہ وہ ان سے مل کر آئے ہیں۔ انہوں نے آپ کے لیے پیغام دیا ہے کہ آپ ہماری حمایت کا اعلان کر دیں۔ اتحادیوں نے معلوم کیا تو پتا چلا کہ باجوہ صاحب تو بالکل اُس پوزیشن پر کھڑے ہیں، جو آئین کی دفعہ 244 کے تحت لیے گئے حلف نے ان کے لیے متعین کی ہے۔ یعنی وہ سیاست سے دور ہیں۔ اس دوران اور بھی بہت سے ہوشربا واقعات پیش آئے۔ اگر یہ کچھ نواز شریف یا آصف زرداری کرتے تو عمران خان ان پر بغاوت کا مقدمہ درج کروا چکے ہوتے۔ یہی وجوہات ہیں، جن کے باعث زرداری صاحب نجی محفلوں میں اکبر الہ آبادی کا یہ شعر سنایا کرتے ہیں،
 ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا

Back to top button